منگل , 31 مارچ 2020

بعض قوتیں امریکہ اورطالبان کے درمیان مذاکرات میں رخنہ ڈالنا چاہتی ہیں، شاہ محمود قریشی

ملتان:وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات امن کی جانب ایک بڑی پیشرفت ہے۔ بعض قوتیں ان مذاکرات میں رخنہ اندازی کرنا چاہتی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ امن مذاکرات آگے نہ بڑھیں۔یہ قوتیں افغانستان میں امن نہیں چاہتیں۔ملتان میں چونگی نمبر 14کے قریب سڑک کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے مزیدکہاکہ ہم نے امریکہ سے کہا ہے کہ ہمیں ایسی قوتوں پر نظررکھنا ہوگی جو مذاکرات میں رخنہ ڈالنا چاہتی ہیں تاکہ بات منطقی انجام تک نہ پہنچے۔انہوں نے کہاکہ 29 فروری کو دوحہ میں تاریخی معاہدے پر دستخط ہونے جارہے ہیں۔پاکستان نے امن کے اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہم نے ڈیڑھ سال خاموشی سے ایسا ماحول بنانے کی کوشش کرتے رہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت کاآغاز ہوسکے، ہم نے طالبان کو قائل کیا اور دنیا کو بتایا کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی قائل کیا جس کے بعد انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے زلمے خلیل زاد کو اپنا نمائندہ مقرر کیا، تنازعے کے سیاسی حل کے لیے دونوں اطراف سے مذاکرات کا آغازہوا۔ ہم نے دنیا کو بتایا کہ افغانستان میں 19سال سے جو جنگ جاری ہے اس نے ہزاروں افراد کی جان لی، بے شمار گھر اجڑ گئے ، لوگ زخمی اورمعذور ہوئے اور افغان دارالحکومت سمیت مختلف شہر خودکش دھماکوں کی زد میں رہے۔ پاکستان کویقین ہے کہ امریکہ اورطالبان میں امن معاہدے کے بعد ترقی کے ایک نئے دور کا آغازہوگا۔

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مزید کہاکہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کوحکومت بہترانداز میں اجاگر کررہی ہے اور دنیا نے ہماری آواز پر توجہ بھی دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون کو 202دن ہوگئے ہیں۔کشمیری جن حالات کاشکار ہیں ہم نے دنیا کی جانب اس کی توجہ دلائی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں، امریکی کانگریس، یورپی پارلیمنٹ ،برطانوی ایوان نمائندگان میں یہ مسئلہ زیربحث آچکا ہے۔ عالمی میڈیا بھی اس پر بات کررہا ہے اور کشمیر کے مسئلے نے خود مودی حکومت کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ آج آزادی کی تحریک مقبوضہ کشمیر سے نکل کر دیگر بھارتی ریاستوں میں پھیل چکی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پاکستانی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پاکستانی، بنگلادیشی اور بھارتی شہریوں کو تنخواہوں کی عدم …