منگل , 31 مارچ 2020

مہنگائی اور اس کا گھریلو حل

جیسا کہ آج کل مہنگائی کا دور دورہ ہے ہر بندہ پریشان ہے۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کے بغیر گزارا ممکن نہیں جیسا کہ کھانا پینا۔ اب کھانا پینا ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آج کل کا المیہ یہ ہے کہ ضرورت کی بنیادی چیزیں جیسا کہ پھل ’سبزیاں‘ دالیں ’گوشت اور چکن غرض ہر چیز مہنگی سے مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بے برکتی بھی اپنے عروج پر ہے۔انتہائی اہم سبزیاں جن کے بغیر ہانڈی بنانے کا نہ مزہ آتا ہے نہ ذائقہ۔ جیسا کہ ٹماٹر ’لیموں‘ ہرا دھنیا ’پودینہ اور ہری مرچ کی طرح کئی اور سبزیاں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹماٹر مہنگا ہے تو دہی ڈال لو لیکن سچ کہوں تو ہانڈی میں جب تک ٹماٹر نہ ڈلے پکانے کا بھی مزہ نہیں آتا۔ اور جب تک زندگی میں مزہ نہ ہو زندگی کا مزہ نہیں آتا۔ اب دہی بھلے بنانے ہوں یا سلاد ٹماٹر کے بغیر محفل نہیں جمتی۔ بالکل اسی طرح ہرا دھنیا اور ہری مرچ کی گارنش نہ ہو تو دعوتوں میں داد بھی نہیں ملتی۔ دہی میں پودینے اور دھنیے کی چٹنی نہ ہو تو رائیتہ بھی بے رنگ لگتا ہے۔ اب کریں تو کیا۔

اس مشکل کا ایک بڑے مزے کا حل ہے وہ یہ کہ کیوں نہ ضرورت کی ان سبزیوں کو اپنے گھر کی زینت بنایا جائے یقین مانئیے کہ یہ ایسا کوئی مشکل کام نہیں۔ گھر کے لان ’کیاریوں میں اور چھوٹے گملوں میں باآسانی ان کو اگایا جا سکتا ہے۔ لیموں‘ ٹماٹر ’کھیرا‘ مولی ’گاجر‘ ہری مرچ ’ہرا دھنیا‘ پودینہ ’پالک‘ سبز پیاز ’میتھی حتی کہ بند گوبھی اور پھول گوبھی بھی باآسانی اگائی جا سکتی ہے۔ اس کام کے لیے ضروری نہیں کہ کافی زیادہ جگہ ہو بلکہ جیسے ہم گھر کو سجانے کے لیے مختلف پھول گملوں میں استعمال کرتے ہیں بالکل اسی طرح ان گملوں میں سبزی بھی اگا سکتے ہیں اور گملوں کو کہیں بھی کھڑکی میں‘ بالکنی یا کوریڈور میں رکھا جا سکتا ہے۔

اور اس کے لیے زیادہ محنت اور وقت بھی درکار نہیں ہوتا۔ گھر بھی خوبصورت لگتا ہے ہرا ’بھرا‘ رنگ برنگا باغیچہ مسحور کن احساس دیتا ہے۔ گھر میں لال ٹماٹر ’ہری لال مرچیں‘ پیلے رنگ کے گول گول لیموں ’ہرے پتے‘ ہوا میں لہراتے کتنے پیارے لگتے ہیں۔ ہرے دھنیے اور پودینے کی خوشبو کتنی پیاری لگتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر گھر کی تازہ ’صاف ستھری سبزی کھانے کو ملتی ہے۔ جب ہانڈی میں گھر کا صاف ستھرا ٹماٹر اور دھنیا ڈالیں گے‘ پودینے کی چٹنی تازہ بنے گی اور تازہ پالک پکوڑوں میں ڈلے گی تو آپ کا دل بھی خوش ہو گا اور جیب پر بوجھ بھی نہیں آئے گا۔ گھر بھی خوبصورت لگے گا اور داد بھی زیادہ ملے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کیمیکل سے پاک سبزی ملے گی اور ہمیں پتہ ہو گا کہ اس میں صاف ستھری کھاد اور پانی استعمال کیا گیا ہے۔ کوئی مضرِصحت ادویات استعمال نہیں کی گئیں۔ جن کا ہماری صحت پر کوئی برا اثر پڑے۔ اس کے علاوہ اگر ہم اپنے ہمساؤں کو بھی گھر کا تازہ دھنیا یا لیموں وغیرہ بھیجیں گے تو ان کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی بہتر ہوں گے۔ دوستی بڑھے گی ’پیار و محبت بڑھے گا۔برطانیہ میں دھنیا ایسے نہیں ملتا جیسا کہ ہمارے پاکستان میں ملتا ہے بلکہ چھوٹے سائیز کے گملے میں اگا ہوا ملتا ہے تاکہ اگلی دفعہ گھر میں اگایا جا سکے۔ اور خریدنا نہ پڑے۔گھریلو خواتین خاص کر بزرگوں اور بچوں کے لیے یہ ایک اچھی سرگرمی ہو سکتی ہے۔ مصروفیت بھی ہو جائے گی گھر بھی سجے گا ’جیب کا خرچہ بھی کم ہو گا اور کچن کی رونق بھی دوبالا ہو جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

سرکاری ملازمین ہی لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑانے لگے

ٹنڈو آدم / ٹنڈو جام: سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے ایک طرف …