اتوار , 29 مارچ 2020

ہاؤڈی مودی سے نمستے ٹرمپ تک

تحریر: محمد سلمان مہدی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندرا مودی کی قیادت میں یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا اور بھارت کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ دوطرفہ ملکی تعلقات میں دونوں ممالک کی قیادتوں کے مابین ذاتی تعلق کی وجہ سے اس تحریر کا عنوان  ”ہاؤڈی مودی سے نمستے ٹرمپ تک“  رکھا ہے۔ یاد رہے کہ مودی ٹرمپ ذاتی تعلقات کی گہرائی اور شدت کا ایک مظہر امریکی ہیوسٹن شہر میں ہاوڈی مودی جلسہ تھا۔ پچھلے برس بھارتی وزیراعظم کے اعزاز میں ہاؤڈی مودی جلسہ ہوا تو امریکی صدر ٹرمپ نے خصوصی شرکت کی تھی۔ البتہ اس جلسے کے میزبان بھارتی نژاد امریکی شہری تھے۔ البتہ امریکی تاریخ میں مذکورہ ٹرمپ مودی یارانہ ایک نئی ڈیویلپمنٹ کے طور پر ریکارڈ کیا گیا اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورہ بھارت ہے۔ دور روزہ دورے میں بعض معاہدوں پر اتفاق کر لینا معمول کی بات ہوگی۔ تاج محل کا دورہ بھی کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔ اہم یہ ہے کہ ٹرمپ کے اعزاز میں وزیراعظم مودی نے اپنے آبائی علاقے احمد آباد کے کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسہ رکھا ہے۔ اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ستر لاکھ تا ایک کروڑ انسان ان کے لئے وہاں جمع ہوں گے۔ بھارتی ریاست گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد کی کل آبادی 80 لاکھ جبکہ اس اسٹیڈیم میں ایک لاکھ دس ہزار افراد سے زیادہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یعنی جتنا بڑا دعویٰ ٹرمپ نے کیا ہے، یہ بالکل غلط ہے۔

البتہ ایک جملے میں کہیں تو ٹرمپ مودی یارانہ ہاؤڈی مودی سے نمستے ٹرمپ تک جا پہنچا ہے اور اس کی وجہ بھی ہے۔ دونوں ہی داخلہ و خارجہ پالیسی کے شعبوں میں انتہاء پسند ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے وزیراعظم نریندرا مودی اور ری پبلکن حکومت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ہی کچھ فرق کے ساتھ زایونسٹ لابی کے منظور نظر بھی ہیں۔ فرق دونوں میں یہ ہے کہ بھارت ایک مختلف تاریخ رکھتا ہے۔ اس نے کشمیریوں کے معاملے میں تو نامناسب پالیسی رکھی، مگر فلسطین کے ایشو پر بھارت فلسطینی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ بھارت نے یاسر عرفات کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ مگر بتدریج اسرائیلی لابی نے آر ایس ایس ہندو سنگھ پریوار نظریئے کو نسلی بنیادوں پر اپنے نسلی زایونسٹ یہودی نظریئے کا فطری اتحادی قرار دیتے ہوئے بھارت کو اپنے نزدیک کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس کی مقلد بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار بھارت میں بھی وہی کچھ کر رہی ہے، جو اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہے۔ متنازعہ وادی کشمیر پر بھارت نے اپنے کنٹرول کو نیا قانونی روپ دینے کی کوشش کی ہے۔

چونکہ امریکا میں طاقتور زایونسٹ اسرائیلی لابی مسلمانوں اور عربوں کے خلاف ویسے ہی مخاصمانہ جذبات رکھتی ہے، جیسے آر ایس ایس بھارتی مسلمانوں یا متنازعہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف رکھتی ہے۔ اسی لئے زایونسٹ لابی کے لاڈلے ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھارت پر مہربان ہیں۔ البتہ بھارت امریکا قربتوں کی ایک وجہ پرانی ہے۔ دونوں کے تعلقات میں چین فیکٹر اہمیت کا حامل ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں بیلنس آف پاور یا طاقت کے توازن کی امریکی پالیسی کے تحت بھی بھارت کی اہمیت پہلے سے موجود رہی ہے۔ گو کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں جہاں چین فیکٹر ایک چیلنج کے طور پر موجود رہتا ہے، وہیں پاکستان فیکٹر بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ہر اس ملک کے ساتھ تعلقات مستحکم کئے ہیں، جن کے ذریعے وہ پاکستان کو بھارت کے حوالے سے ٹھنڈا رکھنے پر مجبور کرسکتا ہے اور امریکا ایسے ممالک میں سرفہرست ہے۔ اس کے بعد تین خلیجی عرب ممالک ہیں، یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین۔

امریکا بھارت کو چین کے مقابلے پر اپنا اتحادی سمجھتا ہے اور بیلنس آف پاور کے لئے ماضی میں پاکستان کو بھی کسی حد تک اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ مگر اس فرق کے ساتھ کہ امریکا کا جھکاؤ ہمیشہ بھارت کی طرف ہی رہا ہے۔ لیکن ریاست پاکستان کی دفاعی ڈاکٹرائن میں حریف یا دشمن نمبر ایک کی حیثیت سے بھارت فیکٹر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان کے ریاستی حکام امریکا اور خلیج فارس کے تین عرب ممالک سعودی عرب، امارات و بحرین کی بھارت نواز پالیسی کے باوجود ان ممالک کے سہولت کار بننے پر آمادہ رہتے آئے ہیں۔ بھارت کی قیادت ریاست پاکستان کی یہ خامیاں اچھی طرح جانتی ہے، اسی لئے وہ مذکورہ ممالک کے کاندھے استعمال کرکے اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ جیسا کہ بھارتی در اندازی کے بعد انہی ممالک نے پاکستان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ردعمل ظاہر نہ کرے۔ حتیٰ کہ بھارتی پائلٹ ابھینندن کو جلد آزاد کرنے کا سبب بھی سعودی، اماراتی و امریکی دباؤ تھا۔ یہ بھارتی ذرایع ابلاغ میں شائع بھی ہوا تھا۔

ویسے تو آئزن ہاور کے دورے سے اوبامہ کے دورہ بھارت تک اور ہاوڈی مودی سے نمستے ٹرمپ تک ناقابل تردید حقیقت یہی ہے کہ امریکا سمیت امریکی بلاک کا کوئی بھی ملک پاکستان کا مخلص دوست و مددگار ثابت نہ ہوسکا۔ البتہ ریاستی حکام ہمیشہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بنے دکھائی دیئے۔ جس ملک کے ریاستی ادارے کے سربراہ ریٹائرمنٹ کے بعد کمزور ممالک کے بادشاہ سے تحفے میں ذاتی گھر (فلیٹ) یا پرکشش مراعات کے ساتھ نوکری لیتے ہوں، اس کی قیادت کی کسی بھی بات کو کوئی بھی ملک سنجیدہ کیوں لے گا!؟ ایک حکم پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے غیر اعلانیہ دستبرداری اور ایک امریکی دھمکی پر سی پیک سمیت چین کے ساتھ معاملات کی خفیہ تفصیلات شیئر کر دینے سے ان دو ملکوں میں بھی حقیقی تاثرات کیا ہوں گے!؟

پاکستانی قوم کے سامنے تاریخ کھلی کتاب کی طرح موجود ہے۔ امریکی صدر کے کھوکھلے بیانات اور آسرے سانحہ 5 اگست 2019ء کو رونما ہونے سے نہ روک سکے۔ صدر ٹرمپ ثالثی کی کھوکھلی پیش کش کے بعد بھی وادی کشمیر بھارتی افواج کے محاصرے میں ہے۔ 200 روز و شب سے زیادہ عرصہ ہوچکا مگر کشمیر بدستور آسمان تلے کھلا زندان بنا ہوا ہے۔ دسمبر 1959ء میں صدر آئزن ہاور کے دورہ بھارت سے صدر ٹرمپ کے پہلے دورہ بھارت تک امریکا کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا۔ مگر پاکستان امریکی مغربی بلاک کی سہولت کار ریاست بن کر بھی مشرقی پاکستان کے سقوط سے نہ بچ سکا، جبکہ بھارت آبادی و علاقے کے لحاظ سے بڑا ہونے اور متعدد علیحدگی پسند تحریکوں کے باوجود بھی بھارت کو توڑا نہ جاسکا۔ پاکستان میں مسلمان اکثریتی علاقہ مسلمان مرکزی حکومت سے الگ ہوگیا۔ مگر ہندو بھارت کے ناراض غیر ہندو یا لسانی علیحدگی پسند آج تک ناکام ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

فضائل زیارت امام حسین علیہ السلام

سیدہ سائرہ بانو آج ٣ شعبان المعظم ، یومِ ولادت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام …