اتوار , 29 مارچ 2020

امریکہ کے منہ پر جمہوری تھپڑ

ادارتی نوٹ
القدس بریگیڈ کے ہردلعزیز کمانڈر حاج قاسم سلیمانی اور حشدالشعبی کے کمانڈر ابومہدی مھندس کی شہادت کے جواب میں ایران نے امریکہ کے عین الاسد فوجی اڈے کو میزائیلوں کا نشانہ بنایا۔ جس میں متاثر ہونے والوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈٹرامپ نے اس حملے بعد حواس باختہ اور اڑے رنگ کے ساتھ پریس کانفرنس میں "سب ٹھیک ہے” کا جو جملہ بولا تھا وہ ہر آتے دن جھوٹ ثابت کر رہا ہے۔ آخری خبریں آنے تک متاثرہ امریکی فوجیوں کی تعداد سو کے قریب پہنچ چکی ہے اور ہر ہفتہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس جوابی حملے کو ایک طمانچہ اور تھپڑ سے تعبیر کیا تھا۔

تاہم سخت انتقام والی بات اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے۔ میزائیل حملے کے بعد گذشتہ روز ایرانی عوام نے امریکی صدر ڈونالڈٹرامپ اور اسکے حواریوں کے منہ پر جمہوری طمانچہ رسید کیا ہے۔ ایرانی عوام نے ایک بار پھر گیارھویں پارلیمانی انتخابات میں بھرپور شرکت کر کے امریکہ سے جمہوری انتقام لیا ہے۔ امریکہ اور اسکا حامی میڈیا نیز امریکی حکام چیخ چیخ کر ایرانی عوام کو انتخابات سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے، لیکن ایرانی عوام نے امریکہ اور حواریوں کی شیطانی آواز پر کان نہیں دھرے۔ ایرانی عوام کرونا وائرس کے پروپیگنڈے کے باوجود پولنگ اسٹیشنوں پر آئے اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

رہبر انقلاب نے تو اسے قومی جشن سے تعبیر کیا۔ ایران کے گیارھویں پارلیمانی انتخابات نے ایران مخالف تمام حلقوں کو ایک بار پھر حیران و پریشان کر دیا ہے کہ یہ قوم سخت ترین حالات اور تمام تر اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، سفارتی اور سلامتی کے پروپیگنڈوں کے باوجود اپنے نظام کی حمایت سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ ایرانی عوام نے ایک بار پھر جمہوری تھپڑ سے امریکہ کی آنکھیں کھول دی ہیں کہ ایرانی عوام ماضی میں بھی اپنے اسلامی اور جمہوری نظام سے جڑی ہوئی تھی اور آج بھی اس نظام کے ساتھ کھڑی ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

فضائل زیارت امام حسین علیہ السلام

سیدہ سائرہ بانو آج ٣ شعبان المعظم ، یومِ ولادت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام …