اتوار , 29 مارچ 2020

ہمارے حکمرانوں کے دو نرالے شوق

تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

اب مسئلہ صرف خلافت عثمانیہ کا نہیں، بات اس عہد کی ہے، جس میں ہم جی رہے ہیں، مسائل کی درست شناخت کے بغیر ان کا صحیح حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی عرب اور ترکی کا اختلاف خلافت عثمانیہ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ہمارے لئے دونوں برادر اسلامی ملک ہیں اور دونوں ہی قابلِ احترام ہیں، لیکن گذشتہ آٹھ یا نو سالوں میں یہ اختلاف اس قدر عروج پر پہنچ چکا ہے کہ اب پوری دنیا خصوصاً پاکستان ان اختلافات سے متاثر ہو رہا ہے۔ مصر میں محمد مُرسی کی حکومت جمہوری اور قانونی تھی، ابھی ان کی حکومت کے تین سال باقی تھے کہ  سعودی عرب کی حمایت سے ان کا تختہ الٹ دیا گیا، ترکی اس پر بہت سٹپٹایا، چونکہ  مسٹر محمد مرسی الاخوان کے دیرینہ اور تجربہ کار فرد تھے اور الاخوان کو ترکی کی کھلی حمایت حاصل تھی۔

تجزیہ کار بہتر طور پر جانتے ہیں کہ مُرسی کے دورِ حکومت میں مصر باقاعدہ طور پر تُرکی کیلئے ایک معاون، مددگار اور قابلِ اعتماد دوست کے طور پر کام کر رہا تھا۔ نیز محمد مُرسی نے محدود عرصے میں مکمل طور پر ترکی کے معین کئے گئے اندرونی اور بیرونی سیاسی خطوط کی مکمل طور پر پیروی کی تھی۔ مصر سے سعودی عرب کے اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے سعودی عرب تنہا مسلمانوں کا رہبر کہلوا رہا تھا، اب اسے ترکی کے بعد مصر کی مسلکی رقابت ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ سعودی عرب کے لئے یہ بات ناقابلِ قبول تھی کہ وہابی مسلک کے علاوہ کوئی اور مسلک مسلمانوں کی رہبری کا دعویٰ کرے، چنانچہ مُرسی کی جمہوری کشتی مسلکی عناد پر مبنی طلاطم خیز موجوں کے ہچکولے نہ سہہ سکی اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈوب گئی۔ مُرسی کی حکومت تو چلی گئی، لیکن الاخوان کے پیروکار مصر میں سعودی عرب کے مفادات کیلئے ایک بڑے خطرے کی صورت میں آج بھی موجود ہیں۔

اس کے بعد کون ہے جو جمال خاشقچی کے نام سے واقف نہیں!؟ ترکی میں سعودی عرب کی ایمبیسی کے اندر ایک نامور سعودی صحافی کو کاٹ کاٹ کر تکہ بوٹی کرکے اس کی لاش کو ہی غائب کر دیا گیا۔ ابتدا میں سعودی حکومت نے سارا الزام ہی ترکی پر ڈال دیا تھا، اس قدر درندگی کا مظاہرہ کرنے کا مقصد صرف اور صرف دنیا میں  ترکی کی ساکھ کو خراب کرنا تھا۔ ترک صدر نے مفت میں بدنامی سے بچنے کیلئے فوری دفاعی اقدامات کئے، ان اقدامات کے نتیجے میں بالآخر سعودی عرب کو اپنے اس قبیح جرم کا اعتراف کرنا پڑا۔ دوسری طرف قطر سے سعودی عرب کی علیحدگی کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، سعودی عرب کا قطر کے ساتھ اصلی اور اساسی اختلاف صرف ایک بات پر ہے اور وہ ہے یمن میں قطر کی اخوانیوں کی حمایت،  سعودی عرب جانتا ہے کہ الاخوان کے مقتدر ہونے کا نتیجہ جہانِ اہلِ سنت میں بیداری اور انقلاب کی صورت میں نکلے گا۔

اس پر الگ سے بحث کی گنجائش موجود ہے کہ الاخوان کون ہیں اور کیا وہ آج بھی اپنے بنیادی عقائد پر قائم ہیں یا نہیں، فی الحال ان کا ذکر اتنا ہی کافی ہے، جتنا ہم کرچکے ہیں، اسی طرح حالات حاضرہ پر نگاہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ  جولائی 2016ء میں فتح اللہ گولن نے جو رجب طیب اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی، اسے مکمل طور پر سعودی عرب کی حمایت حاصل تھی۔ اب باقی دنیا کو چھوڑیں، پاکستان کو ہی لے لیں، کوالا لمپور سمٹ کے موقع پر ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کی بیچ میں ہم کس کھیت کی مولی ہیں اور ہم میں قومی فیصلے کرنے کی کتنی جرات ہے!

اس سے پہلے بھی ہم سعودی عرب کی ایما پر افغانستان میں گھس کر پورے کے پورے کشمیر کو ہار چکے ہیں، ہم نے ڈالروں کے لالچ میں ہمسایوں کی جنگ میں گھس کر اپنے ملک کو خانہ جنگی کا ایندھن بنا کر خاکستر کر دیا ہے اور یہ جان لیجئے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو ہمیشہ سے دو کاموں کا بہت شوق ہے، ایک دوسروں کی شادی میں کمّی بن کر بھنگڑا ڈالنے کا اور دوسرے ہاتھیوں کی لڑائی میں گھسنے کا۔ المختصر یہ کہ موجودہ حکمرانوں کو اپنے شوق پورے کرنے کیلئے ہر سوراخ میں ہاتھ ڈالنے کے بجائے اب اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیئے کہ جس کام کی صلاحیت نہ ہو، اس کا شوق وبال ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

فضائل زیارت امام حسین علیہ السلام

سیدہ سائرہ بانو آج ٣ شعبان المعظم ، یومِ ولادت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام …