اتوار , 29 مارچ 2020

ترکی اور شام میں فوجی تصادم کے نتائج، کیا شام، ترکی کے لئے دلدل بن گیا؟

تحریر: عبد الباری عطوان(دنیائےعرب کے معروف تجزیہ نگار)

لندن سے شائع ہونے والے مشہور عربی اخبار رای الیوم نے شام میں شامی فوج اور ترک فوجیوں میں ہونے والے تصادم پر دلچسپ مقالہ پیش کیا ہے۔ اس وقت ویسے تو ساری نگاہیں شمال مغربی شام کے ادلب علاقے پر مرکوز ہیں جہاں شامی فوج مسلسل پیشرفت کر رہی ہے اور درجنوں دیہاتوں اور بڑے شہروں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا چکی ہے۔

اس سے حلب – دمشق شاہراہ بھی کئی سال تک بند رہنے کے بعد کھول دیا ہے۔ دوسری جانب ترکی اس علاقے میں اپنی فوجی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شام اور ترکی کے درمیان جنگ شروع ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے لیکن اس درمیان شمال مشرقی شام میں گشتی ٹیموں میں تصادم کے واقعات رونما ہوئے ان کی اہمیت بھی کسی طرح کم نہیں ہے۔ خاص طور پر شامی فوج سے وابستہ تنظیموں اور امریکی فوجی گشتی ٹیم کے درمیان تصادم کے جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ بہت ہی اہم ہیں۔ اس تصادم میں دو امریکی فوجی زخمی ہوئے اور ایک شامی فوجی جاں بحق ہوا۔

یہ گزشتہ نو سال سے جاری بحران کے دوران بالکل الگ طرح کا واقعہ ہے۔ حسکہ کے علاقے میں امریکی فوج کی گشتی ٹیم کا راستہ روکنا اور اس سے تصادم، دمشق میں فوجی اور سول قیادت کے واضح احکامات کے بعد ہی ممکن ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ اس علاقے میں موجود امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لئے عوامی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کا اسٹراٹیجک فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

اس نظریہ کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ٹھیک اسی وقت قامشلی کے علاقے میں بھی شامی فوج کے حامیوں اور امریکی فوج کی گشتی ٹیم کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں 14 سال کے ایک بچے کی موت ہوگئی۔ رپورٹ موصول ہو رہی ہے کہ امریکی فوج گشتی ٹیموں کے خلاف کاروائی کے لئے پوری تیاری کی جا رہی ہے۔

عرب دنیا کے مشہور تجزیہ نگار بحران شام کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ شمالی اور مشرقی شام میں امریکی فوجیوں کے خلاف محاذ کھولنا، شاید اس وقت حیرت کی بات لگے کیونکہ ابھی تو صوبہ ادلب کا محاذ گرم ہے اور وہاں شامی اور ترک فوج کے درمیان جنگ کے آغاز کا اندیشہ برقرار ہے لیکن شامی فوج کے قریبی لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی اور ترک فوج کے درمیان جنگ کا خدشہ بہت زیادہ نہیں ہے کیونکہ روس نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ ادلب میں انتہا پسندوں کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا یعنی یہ علاقہ آزاد ہوکر رہے گا۔

شمالی اور مشرقی علاقوں میں امریکی فوج اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہی ہے اور اس نے علاقے میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر پر اپنا قبضہ مضبوط کرکے کھلے عام لوٹ شروع کر دی ہے۔ امریکا ان ذخائر کو شامی حکومت کے قبضے میں نہیں جانے دینا چاہتا تا کہ وہ ملک کی تعمیر نو نہ کر سکے۔ اس لئےامریکا اس علاقے میں مستقل فوجی چھاونی بنانے کی کوشش میں بھی ہے۔

تقریبا دو مہینہ پہلے شامی صدر بشار اسد نے رشا ٹو ڈے سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا کا مقابلہ شامی فوج سے نہیں بلکہ مسلح مزاحمت سے کیا جا سکتا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس اسٹراٹیجی پرعمل کرنے کا وقت اب آ گیا ہے کیونکہ سرحد کے اس طرف عراق میں بھی امریکی فوجیوں کے خلاف اس طرح کی مزاحمت کا آغاز ہو چکا ہے۔

شامی فوج کے پاس دشمن کو تھکا مارنے کا طویل تجربہ ہے جو انہوں نے عراق میں امریکی فوجیوں کے خلاف اور لبنان و فلسطین میں اسرائیلی فوج کے خلاف برسوں تک جاری رہنے والی مزاحمت سے حاصل کیا ہے۔ ان تجربات میں حالیہ شامی بحران کے دوران نیا رخ پیدا ہو گیا ہے۔

بشکریہ سحر

یہ بھی دیکھیں

فضائل زیارت امام حسین علیہ السلام

سیدہ سائرہ بانو آج ٣ شعبان المعظم ، یومِ ولادت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام …