اتوار , 29 مارچ 2020

ریاست مدینہ کے فلسفے پر رحم کریں!!!!!!!

تحریر: محمد اکرم چوہدری

وزیر اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر ریاست مدینہ کے فلسفے کو بیان کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے دہرایا ہے کہ انکا مشن پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم کی تھی جو دنیا میں بہترین ماڈل ہے۔ جو ملک بھی ان اصولوں پر عمل پیرا ہوا اس نے ترقی کی۔ اسی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے الگ ملک حاصل کیا تھا۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ زندگی کا مقصد اور موت کا جواب کوئی سائنس تلاش نہیں کر سکی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کی بات کی ہے نہ ہی پہلا موقع ہے کہ ہم نے سنا ہے۔ اس ریاست سے ہم سب کا مذہبی اور روحانی تعلق ہے۔ وہ فلسفہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہر پاکستانی کو ریاست مدینہ سے حاصل ہونے والے بنیادی اصولوں کو اپناتے ہوئے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن جب سے عمران خان نے فلاحی ریاست کا تذکرہ شروع کیا ہے اس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ فلاحی ریاست کے قیام کا بنیادی مقصد صرف لوگوں کی مالی مدد کرنا ہے۔ ریاست مدینہ میں اس پہلو کو اہمیت ضرور حاصل تھی لیکن اس ریاست میں سب سے اہم اور طاقتور پہلو بلند ترین انسانی معیار تھا۔ اس ریاست کے انسانوں کا معیار اتنا اعلیٰ تھا کہ صدیاں گذرنے کے بعد بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے صرف یاد ہی نہیں کیا جاتا بلکہ مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کی صرف یہ وجہ نہیں تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی مالی مدد کی بلکہ تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحابہ کی ایسی تربیت ہوئی کہ ہر کوئی اپنا حصے کا مال دوسرے کو دینے میں خوشی اور اطمینان محسوس کرتا تھا۔ اس ریاست مدینہ کا بنیادی فلسفہ کردار سازی اور اخلاق کی تعمیر تھی۔

کیسی اعلیٰ اعلیٰ شخصیات تھیں کہ کسی ایک کی پیروی بھی کر لی جائے تو دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ یوں اس ریاست میں انسانی معیار کو بلند کرنے پر جتنی محنت ہوئی پھر اس کا نتیجہ بھی دنیا نے دیکھا ہے کہ کتنی ایثار و قربانی کی کتنی لازوال مثالیں نظر آتی ہیں، بہادری و شجاعت کے واقعات، نرم دلی، اخوت، بھائی چارے، عفو و درگذر اور سخاوت کے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔ اگر ہم صرف ریاست مدینہ کو فلاحی کام یا مالی مدد سے جوڑ دیں تو یہ اس فلسفے اور سبق کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہو گی کیونکہ جب سے عمران خان نے ریاست مدینہ کا فلسفہ بیان کرنا شروع کیا ہے اس ے ابہام پیدا ہوا ہے کہ حقیقت میں اس کے پس منظر میں کیا ہے۔ سو ہمارے ذہنوں میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ ریاست مدینہ کا مقصد انسانوں کے معیار کو بلند ترین مقام پر لے کر جانا ہے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر انسان دوسرے انسان کی فلاح کا کام کرتا دکھائی دے، جہاں ہر شخص آسانیاں تقسیم کر رہا ہو، جہاں ہر شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی ہے اور اس کڑی نگرانی کی وجہ سے نہ وہ جھوٹ بولے، نہ کسی کا حق کھائے، نہ کسی کے ساتھ زیادتی کرے نہ ناانصافی کرے، نہ ظلم کرے نہ ہی ظلم کا ساتھ دے، حق بات کرے سچ کا ساتھ دے اور ہر وقت نیکی کرنے کی جستجو میں لگا رہے۔

ریاست مدینہ میں تو نیکیوں کا مقابلہ ہوتا تھا کہ کون زیادہ نیکیاں کرتا ہے، اعلیٰ اخلاق کے مقابلے دیکھنے کو ملتے تھے۔ کون اللہ تعالیٰ کی راہ میں زیادہ خرچ کرتا ہے اس کا مقابلہ ہوتا تھا کون مال بڑھ چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں تقسیم کرتا ہے اس کا مقابلہ ہوتا تھا۔ ضرورت مندوں کی مدد کا مقابلہ ہوتا تھا۔ یوں ریاست مدینہ کے بارے ہمیں واضح رہنا چاہیے کہ اس کی اصل بنیاد کیا تھی اور جب ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو یہاں اس کا کیا مطلب لیا جاتا ہے اور ہم کس فلسفے کے ساتھ اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہماری وزیراعظم عمران خان سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ اس پیغام کو عام ضرور کریں لیکن اس سے پہلے یہ ضرور سمجھ لیں کہ ریاست مدینہ کا مقصد صرف شہریوں کی مالی مدد اور تعاون ہرگز نہیں اس کے اصل مقصد اور پیغام کو سمجھیں اور لوگوں کو سمجھائیں۔

اس جھوٹ، تخریب کاری، لوٹ مار، مصلحت، ناانصافی اور ناجائز ذرائع سے مال بنانے والوں کے دور میں ان میں گھرے ہوئے ریاست مدینہ کے فلسفے کو بیان کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا عمران خان کی نیت پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے اقدامات ایسے ہیں کہ وہ ریاست مدینہ کے طرز پر ریاست پاکستان کی تعمیر کر رہے ہیں۔ ہمیں خیالات کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آنا چاہیے اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اگے بڑھنا چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ تمام اہل کتاب اس بنیادی تعلیم پر متفق ہیں کہ ہر کتاب میں سچ بولنے، اچھے اخلاق سے پیش آنے، ضرورت مندوں کا خیال رکھنے، ظلم کا راستہ روکنے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا ہی سبق ملتا ہے۔

وزیراعظم یقیناً نیک نیتی سے یہ بات کرتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ وہ قوم کی کردار سازی کے پہلو پر توجہ دیتے ہوئے اخلاقی معیار کو بلند کرنے کی مہم شروع کریں، تحمل مزاجی اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے کام کریں۔ خوشامدیوں سے جان چھڑائیں اور عام لوگوں کی بات سنیں تاکہ انہیں انسانوں کے بارے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو ہر دوسرے دن ریاست مدینہ کا حوالہ دینا کافی نہیں ہے اس کے ٹھوس عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

فضائل زیارت امام حسین علیہ السلام

سیدہ سائرہ بانو آج ٣ شعبان المعظم ، یومِ ولادت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام …