پیر , 6 اپریل 2020

لیبیا کی عسکری کمیٹی کے دونوں فریقوں نے جنیوا مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا

لیبیا کی جوائنٹ ملٹری کمیٹی نے اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنیوا میں جنگ بندی سے متعلق ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکارکردیا ہے۔ کل سوموار کے روز مشرقی لیبیا کی قومی فوم کی حامی پارلیمنٹ کے ممبران جو لیبیا کے فوج کے کمانڈر فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی حمایت کرتے ہیں نے طرابلس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ سیاسی امن مذاکرات میں اپنی شرکت سے انکار کردیا۔

لیبیا کے مشترکہ فوجی کمیشن کے مذاکرات کا دوسرا دور پیر کے روز ختم ہوا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیاسی اور معاشی مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے تین مختلف پہلوئوں پرکام جاری رکھی کی تائید کی گئی۔ایک بیان میں اقوام متحدہ کے امن مشن نے تصدیق کی کہ اس نے فریقین کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا مستقل مسودہ تیار کرنے اور عام شہریوں کی بہ حفاظت وطن واپسی کیے لیےکام شروع کردیا ہے۔ لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن اور مشترکہ ملٹری کمیشن دونوں کی زیر نگرانی جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
دونوں فریقوں نے مزید مشاورت کے لیے معاہدے کا مسودہ اپنی قیادت کو پیش کرنے پر اتفاق کیا۔ تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آئندہ ماہ جنیوا میں ملاقات کی جا سکے۔فائزالسراج کی سربراہی میں لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی مذاکرات سے علاحدگی کے کچھ دن بعد پیر کے روز واضح پیشرفت ہوئی۔ لیبیا کے فوج کے کمانڈر خلیفہ حفترنے حال ہی میں روسی انفارمیشن ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ترک فوج اور شام سے آئے اجرتی قاتل واپس جاتے ہیں تو حکومت کے ساتھ جنگ بندی کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بچوں کو گھر میں پڑھانے کے 9 نسخے، اساتذہ کی زبانی

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں بچے اس وقت کورونا وبا کے خوف سے گھروں …