جمعہ , 10 اپریل 2020

پاکستانی زائرین کے خلاف پاکستانی میڈیا کا پروپیگنڈہ دم توڑ گيا

پاکستانی میڈیا نے گذشتہ دو دنوں سے کورونا وائرس کو پاکستان سے زیارت کی غرض سے ایران آنے والے زائرین سے جوڑنے کی بہت زيادہ تلاش وکوشش کی ہے اور اس سلسلے میں دو زائرین میں کورونا وائرس موجود ہونے کی بے بنیاد خبـر کو بڑے زور و شور کے ساتھ نشر کیا لیکن ڈاکٹروں نے دونوں زائرین کو کورونا وائرس سے کلیئر قراردیدیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی میڈیا نے گذشتہ دو دنوں سے کورونا وائرس کو پاکستان سے زیارت کی غرض سے ایران آنے والے زائرین سے جوڑنے  کی بہت زيادہ  تلاش وکوشش کی ۔ اور اس سلسلے میں اسلام آباد اور کراچي میں دو زائرین میں کورونا وائرس کے موجود ہونے کی غیر مصدقہ خبـر کو بڑے زور و شور کے ساتھ نشر کیا لیکن ڈاکٹروں نے دونوں زائرین کو کورونا وائرس سے کلیئر قراردیدیا ہے۔ پاکستان کے بعض ذرائع ابلاغ نےپاکستانی عوام میں یہ تاثر پیدا کرنے کی بھی کوشش کی کہ پاکستان میں کورونا وائرس ایران سے پہنچا ہے جبکہ زائرین سے قبل پاکستان میں سیکڑوں چینی باشندے موجود ہیں جن میں کئي چینی باشندے مشکوک حالت میں بھی پائے گئے ہیں ۔  پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سامنے آنے والے کورونا وائرس کے دونوں  افراد میں کورونا وائرس کے شواہد نہیں ملے ہیں  ڈاکٹر ظفر مرزا نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ متاثرہ مریضوں کے اہل خانہ اور دوستوں کے ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کوپاکستانی ذرائع ابلاغ نے یہ غیر مصدقہ خبرپھیلائي تھی کہ کراچی اور اسلام آباد میں دو ایسے پاکستانی زائرین موجود ہیں جو ایران گئے تھے اور جن میں کورونا وائرس موجود ہے یہ زائرین تہران سے کراچی اور اسلام آباد پہنچے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کو اسپتال منتقل کرکے ان کا مکمل معائنہ اور ٹیسٹ لیا گیا۔ پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت  ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ  اسلام آباد اور کراچی کے اسپتالوں میں موجود دونوں زائرین کو کورونا وائرس سے کليئر قراردیا گيا، اس طرح پاکستان کے بعض ذرائع ابلاغ  کی ایران اور پاکستانی زائرین کے خلاف پروپیگنڈے کی ہوا خارج ہوگئی۔

یہ بھی دیکھیں

قبیلۂ آل سعود کرونا وائرس سے بُری طرح متاثر

کورونا وائرس بڑے پیمانے پر آل سعود کے شاہی خاندان میں سرایت کر گیا ہے۔ارنا …