جمعرات , 9 اپریل 2020

ڈیل میں پیشرفت نہ ہوئی تو جون میں ٹریڈ مذاکرات سے الگ ہوجائیں گے، برطانیہ کا یورپی یونین کو انتباہ

لندن: برطانیہ نے یورپی یونین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ڈیل میں وسیع تر آئوٹ لائن اور پیشرفت نہ ہوئی تو وہ جون میں ٹریڈ مذاکرات سے الگ ہو جائے گا۔ مائیکل گوو نے ایم پیز کو بتایا کہ برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ 9 ماہ کے اندرجامع فری ٹریڈ ایگریمنٹ کرنا چاہتا ہے لیکن برطانوی حکومت یورپی یونین کے قوانین جیسے رولز قبول نہیں کرے گی جیسا کہ یورپی یونین کا مطالبہ ہے۔ ہم اپنی خودمختاری کو ختم نہیں کریں گے۔ یورپی یونین نے برطانیہ کے ساتھ پیر کو ہونے والے مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی برسلز اجلاس میں اپنی ترجیحات کا تعین کر لیا ہے، جس میں کئی سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ برطانوی حکومت نے بھی مذاکرات میں اپنی ترجیحات کو وضع کیا ہے جس کی دستاویز 30 صفحات پر مشتمل ہے۔ برطانیہ جنوری کے آخر میں برطانیہ سے باقاعدہ علیحدہ ہو گیا تھا لیکن مستقل ٹریڈ تعلقات طے ہونے تک وہ کئی یورپی یونین رولز کی پابندی جاری رکھے گا۔ وزیراعظم بورس جانسن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے

ساتھ 31 دسمبر 2020 کو ٹرانزیشن پیریڈ کے خاتمے تک ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیڈ لائن میں کسی اضافے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حکومت نے یورپی یونین سے مذاکرات کیلئے تیار کردہ دستاویز میں کہا ہے کہ وہ اگلے چار ماہ میں یورپی یونین کے ساتھ تیزی سے مذاکرات کرتے ہوئے ڈیل کے وسیع تر خاکہ پر اتفاق کرنا چاہتی ہے تاکہ ستمبر تک معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اگر جون میں ہونے والے یورپی یونین سمٹ میں ایسا نہیں ہوتا تو پھر حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ آیا برطانیہ کی توجہ ان مذاکرات سے ہٹ جائے گی اور وہ تنہا ٹرانزیشن پیریڈ میں منظم انداز میں یورپی یونین سے انخلا کیلئے ڈومیسٹک تیاریاں جاری رکھے گی۔ برطانوی مینڈیٹ میں حکومت کی اس خواہش پر زور دیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات کی بنیاد اس کے کینیڈا، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کی موجودہ مثالوں پر مبنی ہوں۔ اس سے برطانیہ یورپی یونین کے قانون یا یورپی کورٹ آف جسٹس کے کسی دائرہ اختیار سے باہر ہو جائے گا۔

حکومت ان خطوط پر ارینجمنٹس پر اتفاق رائے کرنے کے لئے سخت کوشش کرے گی۔ حکومتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی تسلی بخش نتیجہ پر بات چیت ممکن نہیں ہے تو پھر یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات 2019 کے انخلا ایگریمنٹ کے مطابق قائم رہیں گے اور یہ آسٹریلیا کی طرز پر دکھائی دیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بغیر چھوڑنے اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن رولز پر جانے والے ممالک جب فری ٹریڈ ڈیلز نہیں کرتے تو وہ اشیا پر ٹیرفس (ٹیکسز) کا استعمال کرتے ہیں جس سے معیشت کو نقصان ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں برطانوی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وزیراعظم بورس جانسن کے یورپ ایڈوائزر ڈیوڈ فراسٹ کریں گے۔ بریگزٹ ایگریمنٹ میں یورپی یونین کےچیف مذاکرات کار مچل برنیئر یورپی وفد کی سربراہی کریں گے۔ یورپی یونین کی 46 صفحات پر مشتمل مذاکراتی دستاویز گزشتہ دنوں جاری ہوئی تھی، جس میں ریفرنس کے طور پر کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین جیسے ہائی سٹینڈرڈز برقرار رکھنا ہوں گے اور رولز بناتے وقت انہیں بتدریج یونین کے اعلیٰ معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور ان کا اطلاق سٹیٹ ایڈ، کمپیٹیشن، سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز، سوشل اینڈ ایمپلائمنٹ سٹینڈرڈز، انوائرمنٹ سٹینڈرڈز، کلائمیٹ چینج، متعلقہ ٹیکس امور اور دیگر ریگولیٹری اقدامات اور پریکٹسز میں کرنا ہوگا۔ برطانیہ کی مذاکرات کی حکمت عملی طے کرنے ای یو ایگزٹ سٹریٹیجی کمیٹی میں نئے چانسلر رشی سونک، فارن سیکرٹری ڈومینک راب، سینئر کیبنٹ منسٹر مائیکل گوو اور اٹارنی جنرل سویلا بریور مین شامل ہیں۔ کمیٹی کے تمام ارکان نے 2016 کے ریفرنڈم میں بریگزٹ کی حمایت کی تھی۔ دستاویز کے اجراء کے بعد مسٹر برنیئر نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کسی بھی قیمت پر کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا۔

انکا کہنا تھا کہ وقت کے محدود دورانیے میں یہ پیچیدہ مطالبات کے مذاکرات ہوں گے، جیسا کہ برطانوی حکومت نے مختصر مدت کا انتخاب کیا ہے نہ کہ ہم نے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں آپ سب کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم وقت کے دبائو میں اتنا ہی کام کرسکیں گے جتنا کر سکتے ہیں۔ بی بی سی کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے سابق انٹرنیشنل ٹریڈ سیکرٹری لیام فاکس نے کہا کہ وہ نہیں خیال کرتے کہ مذاکرات میں برطانیہ اور یورپی یونین کی پوزیشنز لاکھوں میل دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کیلئے یہ ناقابل قبول ہوگا کہ وہ یورپی یونین کے ڈائنامک الائنمنٹ کو تسلیم کرے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر مستقبل میں یورپی یونین اپنے رولز تبدیل کرتی ہے تو پھر برطانیہ کو بھی آٹومیٹک طور پر ویسی ہی تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے وہ نان ایگیشن کلازز کے خواہاں ہیں، جہاں کوئی بھی اپنے موجودہ سٹینڈرڈز کو کمزورکرنے کے قابل نہیں ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

آئی ام اف اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، امریکی بے رحمی تاریخ میں محفوظ رہے گی: صدر ایران

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے عالمی مالیاتی فنڈ آئی ام اف سے اپنے فرائض …