جمعرات , 9 اپریل 2020

بھارت کی موذی حکومت، انجام کیا ہوگا

تحریر: ثاقب اکبر

مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ اتوار(23 فروری 2020ء) سے لے کر جمعرات تک بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 32 ہوچکی تھی، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس دوران میں 200 بتائی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے ادارے اور حکومتیں اسے ریاستی دہشت گردی قرار دے رہی ہیں، چنانچہ امریکا کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بدھ (26 فروری) کو ایک بیان میں کہا کہ اسے نئی دہلی میں تشدد کے واقعات پر گہری تشویش ہے۔ کمیشن میں بعض عینی شاہدین کے بیانات کے حوالے سے کہا کہ پولیس نے مسلمانوں پر ہندو بلوائیوں کے حملوں کے دوران میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ امریکا کے اس کمیشن کی کمشنر انوریما بھارگاوا نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی میں یہ سفاکانہ اور کسی روک ٹوک کے بغیر تشدد جاری نہیں رہ سکتا۔ بھارتی حکومت کو تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں، لیکن اس کے بجائے ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ دہلی پولیس نے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں کو روکنے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کی ہے اور حکومت شہریوں کے تحفظ میں اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے پولیس کو کسی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ بعض مبصرین نے اس حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ تمام ریاستوں کو قانونی طور پر پولیس پر اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن نئی دہلی کی پولیس کو غیر قانونی طور پر وفاقی حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ نئی دہلی کے واقعات میں اسی لیے یہ پولیس تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ دریں اثناء اسلامی تعاون تنظیم نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ او آئی سی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی مذمت کرتی ہے۔ ان کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں یا وہ زخمی ہوئے ہیں۔ مساجد پر حملے کیے گئے ہیں، مسلمانوں کی املاک کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ تنظیم تشدد کے ان ہلاکت آفریں واقعات میں مارے گئے افراد کے خاندانوں سے مخلصانہ تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ او آئی سی نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کے واقعات کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور بھارت میں اسلامی مقدسات کا تحفظ کریں۔

ایک بھارتی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں مسلمانوں پر مظالم میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں سے بیشتر گائے کے نام پر دیکھنے میں آئے ہیں۔ تاہم موجودہ پرتشدد واقعات بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے بعد ہونے والے احتجاج میں شرکت کرنے والوں کے خلاف بلوائیوں کے حملوں کے نتیجے میں رونما ہوئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی رائے کی مطابق 5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں منظور کیے گئے جارحانہ اور متنازع قانون کے نتیجے میں تشدد کی نئی لہر نے جنم لیا ہے اور اس کے پیچھے بی جے پی اور آر ایس ایس کے تشدد پر مبنی نسل پرستانہ نظریات ہیں، جو ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہو کر اپنائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد کا یہ جن جو بوتل سے باہر نکل چکا ہے، اس کے واپس جانے کا کوئی امکان نہیں، ایسے نظریات کے نتیجے میں ہمیشہ خون ہی بہا ہے۔ مودی کی قیادت میں بھارت میں برسراقتدار ٹولہ ملک کے پچاس کروڑ انسانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا رہا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے خلاف حملے جاری ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مسیحیوں پر بھی تشدد ہو رہا ہے۔ آئندہ یہی تشدد دلتوں اور سکھوں کے خلاف بھی کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار چند روز پہلے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں تشدد کی حالیہ لہر پر اپنا ردعمل متعدد ٹویٹس میں بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے 26 فروری 2020ء کو لکھا: آر ایس ایس کا نظریہ آج بھارت میں غلبہ اختیار کرچکا ہے، جب بھی نسل پرستانہ نظریہ غالب آتا ہے تو تباہی آتی ہے، ایک ارب سے زائد آبادی پرمشتمل جوہری قوت پرنازی متاثرہ آرایس ایس کا قبضہ ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مزید لکھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ابتدا تھی، اب بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے، عالمی برادری بھارت کی صورتحال پر لازمی ایکشن لے، اقوام متحدہ کی تقریر میں بھارتی مسلمانوں پر بدترین تشدد کی پیشگوئی کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خدشات کے عین مطابق بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، بھارت میں 2 سو ملین مسلمان ہیں، ان پر ظلم کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں اقلیتیں برابر کی شہری ہیں اور انکے حقوق بھی محفوظ ہیں۔

بی بی سی نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان کے نمائندے فیصل محمد علی کو شمالی دہلی میں تشدد سے متاثرہ علاقے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا موبائل فون بھی چھیننے کی کوشش کی گئی، جس میں پرتشدد واقعات کی ریکارڈنگ موجود تھی۔ فیصل محمد علی کے مطابق ہجوم میں شامل افراد نے ان پر پتھراؤ بھی کیا اور اسی دوران انہوں نے ایک شخص کو ہاتھ پر کپڑا باندھے گلی سے نکلتے دیکھا، جس کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ میں گولی لگی تھی اور کسی نے سڑک کے دوسری طرف چھت سے اسے گولی مار دی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے منگل 25 فروری کو اپنی رپورٹ میں آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس وقت شمال مشرقی دہلی کو دیکھیں تو جیسے شہر بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ بی بی سی کی ٹیم کے مطابق اس علاقے کے لوگوں نے ایک پوری مارکیٹ کو آگ لگا دی تھی۔ ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دکانوں میں زیادہ تر مسلم برادری کی ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق جلتے ہوئے بازار سے اٹھتی ٹائروں کی بو اور دھوئیں کو دور سے دیکھا جاسکتا تھا، لیکن انہیں اس پورے واقعے کو کیمرے پر ریکارڈ کرنے کے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ اس وقت برسراقتدار بی جے پی ہی گجرات کے ہولناک واقعات کا سبب رہی ہے، جب گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی تھے اور جنھیں گجرات کا قصاب کہا جاتا ہے۔ وہی امریکا جو آج مودی کے ساتھ محبت اور دوستی کا اظہار کرتے نہیں تھکتا، اس نے نریندر مودی پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ بہت سے بھارتی تجزیہ کاروں، سماجی و سیاسی راہنمائوں بلکہ بعض حکومت اہلکاروں کی رائے کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے پیچھے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی کا ہاتھ ہے۔ ان واقعات کی بہت سی تفصیلات ہیں، جنھیں ایک نشست میں بیان نہیں کیا جاسکتا، البتہ اختصار سے بیان کی گئی موجودہ صورتحال سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بھارت کا مستقبل کس قدر تنگ و تاریک ہے۔ خون کی ندیوں سے گزرتا ہوا یہ ملک بالآخر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔

بنگلہ دیش جسے پاکستان سے جدا کرنے میں بھارت ہی کا بنیاد کردار ہے اور جس پر نریندر مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر فخر کا اظہار کیا تھا، اس کے عوام بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 5 اگست کے اقدام کے بعد کشمیریوں کی حمایت میں سب سے بڑا مظاہرہ بنگلہ دیش ہی میں کیا گیا ہے۔ سکھوں کے اندر بھی تشویش کی لہر موجود ہے۔ سات ماہ ہونے کو آئے ہیں، بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک اسے خطرہ ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں اٹھائی گئیں تو وہاں کے عوام آزادی کے لیے باہر نکل آئیں گے۔ جن ریاستوں میں مسیحیوں کی اکثریت ہے، وہاں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کئی ایک دیگر ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ہندوتوا کا متشددانہ نظریہ اور اس کی بنیاد پر مذہبی انتہاء پسندی کو فروغ دے کر بی جے پی نے سیاست کی جو دکان چمکائی ہے، اس کی چمک دمک ملک کے مختلف حصوں سے اٹھنے والے شعلوں اور دھوئیں کے نتیجے میں یقیناً ختم ہو جائے گی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ایل او سی پر فضائی حدود کی خلاف ورزی، پاک فوج نے بھارتی ڈرون مار گرایا

راولپنڈی: آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاک فوج نے ایل او سی …