جمعہ , 10 اپریل 2020

پاکستان ریاست مدینہ کی راہ پر گامزن

تحریر: سید اسد عباس

قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا آئین نہیں تھا۔ 1935ء کے برٹش لاء میں ترامیم کرکے اسے ملک میں عبوری آئین کے طور پر نافذ کیا گیا۔ پاکستان اس وقت لاتعداد مسائل میں گھرا ہوا تھا، لاکھوں مہاجرین ہندوستان سے پاکستان میں پناہ لے رہے تھے۔ ان کی رہائش اور خوراک کا بندوبست ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ مغربی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد تقریباً 3 فی صد جبکہ مشرقی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد 22 فی صد تھی، اس لیے بہت سے ایسے سیاست دان تھے جو 25 فی صد غیر مسلم آبادی والا ملک کہتے ہوئے ایسے آئین کا مطالبہ کر رہے تھے، جو سیکولر ہو جبکہ علمائے کرام کا ایک گروہ اس نقطہ پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، لہٰذا پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا۔ نواب زادہ لیاقت علی خان ان حالات سے آگاہ اور باخبر تھے، وہ بھی علماء کے خیالات سے متفق تھے، اس لیے انہوں نے علمائے کرام کے تعاون سے ایک قرارداد تیار کی، جسے قرارداد مقاصد کا نام دیا گیا۔ قراردادِ مقاصد ایک قرارداد تھی، جسے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949ء کو منظور کیا۔ یہ قرارداد 7 مارچ 1949ء کو وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے اسمبلی میں پیش کی۔ اس کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ یورپی طرز کا قطعی نہیں ہوگا، بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت و نظریات پر ہوگی۔

قرارداد کے دیگر اہم نکات حسب ذیل ہیں:
اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے۔ اُس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اِختیار سونپا ہے، وہ اُس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خود مختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل ِعمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔
جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں، اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی تقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔

جس کی رو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے۔*
جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خود مختاری حاصل ہوگی۔
جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انساف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت کی آزادی شامل ہوگی۔
جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقات کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔
جس کی رو سے نظام ِعدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی۔
جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضاء پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ تاکہ اہل ِپاکستان فلاح و بہبود کی منزل پا سکیں اور قوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوش حالی کے لیے اپنا بھر پور کر دار ادا کرسکیں۔

ملک میں آئین کی تشکیل کا کام مارشل لاء حکومتوں کے سبب مسلسل تعطل کا شکار رہا۔ ملک کا نظام عبوری سیٹ اپس کے ذریعے چلایا جاتا رہا۔ جنرل ایوب خان کے دور سے قبل ہی پاکستان میں یہ بحث چل رہی تھی کہ ملک میں اسلامی قانون کیسے نافذ ہوسکتا ہے، جبکہ پاکستان کے مختلف مسالک اسلام کی کسی ایک مشترکہ تشریح پر متفق نہیں ہیں۔ اس وقت مختلف مسالک کے علماء نے اس بحث کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور ایک ایسی متفقہ دستاویز سامنے لائے، جو تمام مسالک کے مابین مشترک تھی۔ اس دستاویز کو اسلامی مملکت کے بنیادی اصول کا عنوان دیا گیا، یہ دستاویز اکتیس علماء کے بائیس نکات کے نام سے بھی معروف ہے، جو کہ اسلامی ملک کی دستور سازی کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔ اس کو قرارداد مقاصد کی تفصیلی صورت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد 1973ء میں ملک کا پہلا آئین سامنے آیا، جس میں قرارداد مقاصد کو شامل کیا گیا۔

1973ء کے آئین میں جب شق نمبر 227 شامل کی گئی، جس کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے مخالف نہیں بنایا جائے گا تو عملاً اس کا باقاعدہ نظام وضع کرنے کی غرض سے اسی آئین میں دفعہ نمبر 228، 229 اور 230 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے 20 اراکین پر مشتمل ایک آئینی ادارہ بھی تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد صدر، گورنر یا اسمبلی کی اکثریت کی طرف سے بھیجے جانے والے معاملے کی اسلامی حیثیت کا جائزہ لے کر 15 دنوں کے اندر اندر انہیں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھا۔ شق نمبر 228 میں یہ قرار دیا گیا کہ اس کے اراکین میں جہاں تمام فقہی مکاتب ِفکر کی مساوی نمائندگی ضروری ہوگی، وہاں اس کے کم از کم چار ارکان ایسے ہوں گے، جنہوں نے اسلامی تعلیم و تحقیق میں کم و بیش 15 برس لگائے ہوں اور انہیں جمہورِ پاکستان کا اعتماد حاصل ہو۔ اسلامی نظریاتی کونسل اپنی سفارشات کے دفاتر جمع کر رہی ہے، تاہم ان پر عمل درآمد کا کام نہایت سست روی کا شکار ہے۔

ایسے میں ملک کے وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کی تشکیل کی بات کرکے اسلامیان پاکستان کی خوابیدہ امنگوں کو ایک مرتبہ پھر بیدار کر دیا۔ ریاست مدینہ کو اپنا آئیڈیل قرار دینا اور اس کی جانب سفر نہایت خوش آئند ہے۔ ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی کوشش، غریبوں اور محروموں کی دادرسی، کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل، نظام تعلیم کی یکسانیت یقیناً ایک اسلامی ریاست کی منشاء ہے، جو قرارداد مقاصد اور اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں سے بھی واضح ہے، تاہم ہماری خارجہ پالیسی ان تمام دعووں کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔ دانشوروں کی رائے میں فلاحی مملکت اور خوشحالی کے لیے آزادی اور خود مختاری لازمی عنصر ہے، اگر آپ کاسہ لیسی کو ہی اپنا وطیرہ بنائے رکھیں گے تو پھر آپ کسی صورت ایک فلاحی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے۔ آپ کا ڈونر جب چاہے آپ کو ترقی کی جانب رخ کرنے سے روک سکتا ہے۔ کوالالمپور سمٹ میں عدم شرکت اس بات کا بین ثبوت ہے۔ عمران خان کو ریاست مدینہ کے نعرے کو عمل شکل دینے کے لیے بہرحال مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ورنہ آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور بیرونی مددگار آپ کو بخشو سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پندرہ شعبان، یوم مستضعفین جہان

اداراتی نوٹ پندرہ شعبان کو اسلامی تاریخ میں منفرد حیثیت حاصل ہے۔ اہل اسلام کے …