جمعہ , 10 اپریل 2020

پی ٹی وی کے معاملات توجہ چاہتے ہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر

پاکستان ٹیلی ویژن اسی اور نوے کی دہائی میں اپنے عروج پر تھا۔ اس کی وجہ بالکل یہ نہ تھی کہ اس وقت مارکیٹ میں مقابلہ نہیں تھا، یعنی پرائیویٹ ٹی وی چینلز نہیں تھے۔ یہ بات نہیں بلکہ اس وقت کے ڈراموں کا معیار اس قدر عالی اور ہماری ثقافت کے ساتھ گندھا ہوا تھا کہ ہر گھر میں پی ٹی وی کو فیملی چینل کی حیثیت حاصل تھی۔ کیا قابل اور محنتی لوگ تھے، ایم ڈی سے چیئرمین تک، پروڈیوسر سے کیمرہ مین تک، سنسر بورڈ کے ممبران سے اداکاری کے جوہر دکھانے والوں تک۔ ڈائریکٹر سے ڈرامہ نویس تک، سب ایک دوسرے کے دوست و بازو بنے ہوئے تھے۔ ملک کے وقار، ادارے کی آبرو اور ثقافت کی پاسداری سمیت ڈرامے میں ہر وہ چیز دیکھنے کو ملتی، جسے ناظرین دیکھنا چاہتے۔ بے شک اس وقت کے ڈرامے ناظرین میں بے تحاشا مقبول تھے، جن کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔ اب مگر پی ٹی وی کے ڈراموں کا معیار آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہے۔

پی ٹی وی نے شاید ان ہائوس ڈرامے بنانا بند کر دیئے ہیں، شاید نہیں بلکہ یقیناً ادارے میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی، کیونکہ اہل افراد کے بجائے جز وقتی یا اپنے کام سے کم لگن رکھنے والے لوگ ادارے میں”لابنگ اور خوشامد” کے ذریعے اپنی جگہ بناتے چلے گئے۔ شاید دو عشروں سے یا اس سے بھی کچھ زائد، اب وہ والا پی ٹی وی نہیں رہا۔ اس سے قبل بھی پی ٹی وی میں یقیناً چند سیٹوں پر سیاسی دبائو یا سفارش کے تحت بھرتیاں ہوتی ہوں گی۔ لیکن پی ٹی وی اپنے ناظرین کو ڈیلیور اتنے سلیقے سے کر رہا تھا کہ اکا دکا سفارشی بھرتیوں یا سفارشی افسروں کو ادارے کے ہنر مند آدمی خاطر میں ہی نہ لاتے تھے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے آنے سے پی ٹی وی کو فرق پڑا اور اس قدر کہ یہ ادارہ مالی بحران کا شکار ہوگیا۔ پی ٹی وی کبھی ایک منافع بخش ادارہ ہوا کرتا تھا، اب مگر اسے بیل آئوٹ پیکج کی ضرورت ہے۔ پی ٹی وی اب اپنا "نشریاتی بیلنس” بھی کھو چکا ہے۔ پی ٹی وی کے نئے چیئرمین ارشد خان نے اپنی تعیناتی کے بعد اپنی ٹیم کے ساتھ پی ٹی وی کو چلانے کا فیصلہ کیا۔

ان سے پہلے والے چیئرمین پی ٹی وی بھی اپنی "منہ زوری” اور دیگر "غیر نصابی سرگرمیوں” کی وجہ سے خبروں میں ان ہوئے بلکہ عدالت تک میں اپنی "صلاحیتوں” کی وضاحتیں دیتے پائے گئے۔ پی ٹی وی کے موجودہ چیئرمین اپنی ٹیم لے کر آئے ہیں۔ یہ بہ ظاہر عام سی بات ہے کہ بعض اداروں میں پروگرام ڈائریکٹرز یا پروڈیوسرز دو چار بندے اپنی ٹیم کے ساتھ رکھتے ہیں، جن کے ساتھ ان کی ورکنگ ریلیشن یا کام کرنے کے حوالے سے ہم آہنگی بنی ہوتی ہے۔ لیکن ایسا پروفیشنل ازم کی بنا پر ہوتا ہے، ذاتی پسند و ناپسند کی بنا پر نہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیارِ خاص ہے یا یہ انتظامی سیٹ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں سیاسی کک بیکس کی ایک شکل ہوتی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے پی ٹی وی میں چیئرمین اور ایم ڈی کی تعیناتی ایک مسئلہ بنا چلا آ رہا ہے۔ یہ معاملہ کورٹ کچہری تک بھی گیا۔

پی ٹی وی کے سیینئر افسران کا کہنا ہے کہ موجودہ چیئرمین آئوٹ آف وے جا کر فیصلے لیتے ہیں۔ چیئرمین کے کہنے پر ایم ڈی صاحب فیصلوں پر دستخط کر دیتے ہیں۔ اس وقت بورڈ آف ڈائریکٹر کا بھی مسئلہ چل رہا ہے اور شاید اس پر بھی نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ایک صاحب وسیم پرویز ہیں، جنھیں چیئرمین نے ڈائریکٹر فنانس تعینات کیا تھا، شاید ان کی تعیناتی کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے فیصلہ بھی کرایا گیا، مگر یہ معاملہ ہائی کورٹ اسلام آباد پہنچ گیا اور ادارے نے انہیں فارغ کر دیا، مگر عدالتی حکم پر۔ ان کے کیس کا تفصیلی فیصلہ 6 مارچ کو سنایا جائے گا۔ وسیم پرویز وہی افسر ہیں، جنھوں نے مبینہ طور پر وزیراعظم کو یہ غلط رپورٹ پیش کی تھی کہ پی ٹی وی ایک منافع بخش ادارہ بن چکا ہے۔ میری اطلاعات یہ ہیں کہ اس وقت ہیڈ آف نیوز اینڈ کرنٹ افیئر کے عہدے پر کام کرنے والی خاتون افسر کی تعیناتی کو بھی ادارے کے سینیئر افسران آئوٹ آف وے دیکھ رہے ہین، مبینہ طور پر ان کی میٹرک کی سند جعلی ہے اور وہ اس سے قبل ادارے سے نکالی جا چکی ہیں۔ اگر اس سے پہلے یہ پی ٹی وی سے نکالی جا چکی ہیں تو دوبارہ انہیں کس وجہ سے اور کیوں کر اسی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا گیا ہے، جہاں سے یہ نکالی گئی تھیں؟ کیا ان کی سفارش بڑی ہے؟ یا ان کا جعلی ڈگری کے باجود کرنٹ افیئر میں تجربہ زیادہ ہے۔؟

یہ بات بڑی دل سوز ہے کہ جونئیر افسران کو سینیئر افسران کی جگہ لگا دیا گیا ہے اور سینیئرز کو ایک طرح کی غیر اعلانیہ معطلی کا سامنا ہے۔ پروڈکشن سیکشن میں کئی ایک جونئیر پروڈیوسرز کو سینیئرز پروڈیوسرز کی سیٹ پر پروموٹ کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی ادارے میں اور بالخصوص اس کے پروڈکشن سیکشن میں سینیئرز کو مسلسل نظر انداز کیا جانے لگے اور جونئیرز کو صرف اس لیے پروموٹ کیا جائے کہ ان سے من مرضی کے کام لئے جا سکیں تو اس سے نہ صر ف سینیئرز کا مورال ڈائون ہوتا ہے بلکہ ادارے کے معیاری کام پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ کیا میرٹ پسند و ناپسند کا نام رہ گیا ہے؟ اگر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران اپنی پرائیویٹ کمپنیاں چلا رہے ہوں گے تو وہ فیصلے کرتے وقت اپنی کمپنیوں کے مفادات کو ترجیح دیں گے، جبکہ ادارے کا مفاد ان کی ترجیح اول نہیں ہوگا۔

پی ٹی وی کا کمال اس کے ڈرامے ہوا کرتے تھے۔ اللہ جانے کیا ہوا ارباب بست و کشاد کو کہ اب پی ٹی وی میں ان ہائوس پروڈکشن تقریباً بند ہے۔ کروڑوں روپے کے آلات اسی طرح پڑے ہوئے ہیں اور پی ٹی وی پرائیویٹ چینلز سے ڈرامے خرید رہا ہے۔ کیا پی ٹی وی کے پاس معیاری لکھاری نہیں رہے؟ کیا پی ٹی وی کے پاس معیاری پروڈیوسر نہیں؟ کیا نامور اداکار اور نیا ٹیلنٹ پی ٹی وی کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ نہیں؟ کارگزاری دیکھیے کہ محفل مسالمہ کے سالانہ پروگرامز جو باقاعدگی سے ریکارٹ ہوا کرتے تھے، اب پی ٹی وی کے پاس اتنا بجٹ بھی نہیں کہ ہر سال نیا پروگرام ریکارڈ کرسکے، گذشتہ تین چار سال سے پرانی ریکارڈنگ چلا کر ناظرین کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ لفظوں کے گورھ دھندے میں معاشی مہارت والے یہ ظاہر تو کر رہے ہیں کہ پی ٹی وی منافع کما رہا ہے، کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ پی ٹی وی اگلے دو چار سالوں میں منافع بخش ادارہ بن جائے اور اس کا سنہری دور لوٹ آئے گا۔ لیکن کیا وہ لوگ جنھوں نے پی ٹی وی کے لیے اپنی زندگیاں صرف کیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے رہے، پی ٹی وی ان کی عزت نفس اور ان کے حق کو تسلیم کر رہا ہے۔؟

رمضان خالد کنٹرولر نیوز رپورٹنگ، مزمل احمد خان ڈائریکٹر نیوز، عصمت اللہ نیازی کنٹرولر نیوز، ذوالفقار علی شاہ پروڈیوسر، یہ سب نامور لوگ پاکستان ٹیلی ویژن سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے پی ٹی وی کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، مگر آج یہی افراد اپنی پنشن اور دیگر بقایا جات کے لیے در در کے دھکے کھا رہے ہیں۔ پی ٹی وی نے ان کے بقایا جات روکے ہوئے ہیں اور 26 فروری 2020ء کو جب یہ لوگ ادارے میں جاتے ہیں تو انہیں زبردستی باہر نکال کر پی ٹی وی کا گیٹ ان کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ پرویز اختر بھٹی جو یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری رہے، ان پر پی ٹی وی میں داخلے پر پابندی ہے۔ کیا اس طرح یہ ادارہ جو عوام کے دلوں میں بستا تھا، پھر سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائے گا؟ کیا اس معاملے کے لیے بھی میں کالم میں وزیراعظم صاحب کو آواز دوں کہ حضور آپ کے دفتر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک قومی نشریاتی ادارے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ پی ٹی وی میں جو کچھ مالی و غیر مالی بدعنوانیاں ہو رہی ہیں، ان کی فہرست طویل ہے۔ پروڈکشن کا شعبہ کیوں زوال کا شکار ہوا؟ کیسے سفارشی آہستہ آہستہ اس ادارے میں اعلیٰ عہدوں میں جگہ بناتے چلے گئے؟ اور کیونکر پاکستانی عوام کا مقبول نشریاتی ادارہ زوال کا شکار ہے؟ اس پر اگلے کسی کالم میں ان شاء اللہ ضرور ذکر کیا جائے۔ میرے ذرائع اس حوالے سے بہت معتبر ہیں۔

نوٹ: اسلام ٹائمز کے قارئین اور ادارے کا شکر گزار ہوں، اسلام ٹائمز کے لیے یہ میرا آخری کالم ہے۔ اس طویل رفاقت کے دوران میں، میں نے بالخصوص دہشت گردی، اس کی وجوہات اور داعش و اس کے پشت بانوں کا پردہ چاک کیا، دہشت گردوں کی جانب سے مجھے دھمکیاں بھی ملیں مگر میں نے ہر قسم کی انتہاء پسندی کے خلاف کھل کر لکھا۔ میں نے عالمی دہشت گردی، علاقائی صورتحال سمیت پاکستانی سماج کو درپیش مسائل اور سیاسی عدم استحکام سمیت بے شمار موضوعات پر ہزاروں کالم لکھے۔ میرے پیشِ نظر ہمیشہ انسانی وقار اور پاکستان کا مفاد رہا۔ افغان جنگ کے حوالے سے بھی میرا نقطہ ہائے نظر بڑا واضح ہے اور میں اس پر، برملا اظہار کرتا رہا ہوں۔ آج قارئین سے الوداع ہونے کا وقت ہے۔ ان شاء اللہ پاکستانی قومی اخبارات میں قارئین میری تحریریں دیکھتے رہیں گے۔ دعاگو بھی ہوں اور دعائوں کا طلب گار بھی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پندرہ شعبان، یوم مستضعفین جہان

اداراتی نوٹ پندرہ شعبان کو اسلامی تاریخ میں منفرد حیثیت حاصل ہے۔ اہل اسلام کے …