جمعہ , 10 اپریل 2020

خطرات اور مواقع

ادارتی نوٹ
امریکہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں کرونا وائرس کا پھیلاو ایک تشویش ناک امر ہے اور اس مسئلے کو سیاسی دشمنیوں کے تناظر میں ہرگز نہیں دیکھنا چاہیے۔ کرونا وائرس چالیس سے زائد ممالک میں متعلقہ افراد کو اپنے حملے کا نشانہ بنا چکا ہے اور اس کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط معیشت کے دعویٰ دار امریکہ کی حصص کی منڈی کو بھی سخت دھچکا لگا ہے۔ دوسری طرف کیلیفورنیا جیسی ریاست میں مریضوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہ قابلِ تشویش ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور انکی ٹیم ’’سب اچھا ہے‘‘ کا نعرہ لگا رہی ہے۔ جبکہ کرونا کے ابتدائی مرحلے میں اربوں ڈالر کا خسارہ اٹھا چکی ہے۔

اگر امریکی صدر اسکو عین الاسد میزائل کے حملے کیطرح چھپاتے رہے تو نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں اسی سال انفلوینزا سے بارہ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں، لیکن کسی نے اسکو اسکینڈل نہیں بنایا، جبکہ چین میں کرونا کے پھیلاو کے وقت امریکی وزراء نے جس انداز میں انسان دشمن بیان دیئے تھے وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور وہ رہتی دنیا تک امریکہ کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف بھی جو رویہ اپنا رکھا ہے اور امریکہ اور صہیونی میڈیا جس منفی انداز سے ایران میں کرونا وائرس کی شدت کو بڑھا چڑھا کر بیان کر کے ایرانی عوام میں خوف و ہراس اور افراتفری پھیلانے کا خواہشمند ہے وہ بھی اسی طرح تاریخ کا حصہ بن جائیگا، جیسا کہ اسی کی دہائی میں امریکی میرین نے ایران کے مسافر طیارے کو کھلے عام میزائل کا نشانہ بنا کر تین سو کے قریب افراد کو لقمہ اجل بنا دیا تھا۔ قوموں اور ملکوں پر مشکلات اور بحران آتے رہتے ہیں۔

زندہ قومیں بحرانوں میں مزید نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام تو فرماتے ہیں’’ مردوں کے جوہر میدان میں کھلتے ہیں‘‘۔ لہٰذا ایران آج اگر کرونا وائرس سے نبردآزما ہے تو ان خطرات میں بہت سے مواقع بھی موجود ہیں۔ جنہیں ایران میں مخلص قیادت، جانثار عوام کے ذریعے حاصل کرنے میں انشا اللہ کامیاب ہوجائیگی۔ لیکن امریکہ اور دیگر معاند اور و دشمن قوتوں کے روئیے، اقدامات اور سازشیں تاریخ کا حصہ بنیں گی۔ ایران نے مختصر اوقات میں جسطرح اپنے میڈیکل کے شعبے کو فعال بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، اس سے ایران میں آئندہ کے کئی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ گئی ہے۔ ایران کی یہ کوششیں امریکہ کے ممکنہ مستقبل کے بائیولوجیکل حملوں اور بائیوٹیررازم کی کاروائیوں کے خلاف ایرانی قوم کی تیاری کا ایک مرحلہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پندرہ شعبان، یوم مستضعفین جہان

اداراتی نوٹ پندرہ شعبان کو اسلامی تاریخ میں منفرد حیثیت حاصل ہے۔ اہل اسلام کے …