جمعرات , 9 اپریل 2020

نئی دہلی فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں انتہا پسند ہندو بلوائیوں کے حملوں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی۔دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں 24 فروری کو ہندو انتہا پسندوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پرمتنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد پر منظم حملے کیے تھے۔ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے یہ حملے تین روز تک جاری رہے جس میں مساجد، گاڑیوں، مکانات اور دیگر املاک کو نذر آتش کیا گیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کے شمالی علاقوں میں مسلح جتھوں نے مسلمان نوجوانوں کو شناخت کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 42 تک جاپہنچی ہے۔

19 مسلمانوں کی شناخت

دہلی کے محکمہ صحت کے مطابق دہلی کے گرو تیغ بہادر اسپتال میں 38، لوک نائک اسپتال میں 3 اور جگ پروریش اسپتال میں ایک شخص ہلاک ہوا جب کہ سیکڑوں افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔دہلی کے تیغ بہادر اسپتال نے فسادات میں ہلاک ہونے والے 28 افراد کی فہرست جاری کی ہے جن کی شناخت کرلی گئی ہے، اس فہرست میں قتل ہونے والے 19 افراد مسلمان ہیں جو دہلی کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔دہلی فسادات میں غازی آباد سے گوگل پور گھر والوں سے ملنے کے لیے آئے 2 سگے بھائی عامر اور ہاشم بھی جاں بحق ہوئے ہیں جنہیں انتہاپسندوں نے تشدد کرکے قتل کیا تھا۔

دوسری جانب دہلی کے شمالی علاقوں میں اب تک سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں جب کہ دہلی پولیس نے فسادات کے مقدمات درج کرنے کی تصدیق کی ہے۔دہلی پولیس کے ترجمان ایم ایس رندھاوا کے مطابق پرتشدد واقعات کے خلاف مختلف تھانوں میں 123 مقدمات درج کرلیے ہیں اور اب تک 630 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز ملی ہیں جن کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔اُدھر پولیس کی فرانزک ٹیموں نے متاثرہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔

دہلی کی ریاستی حکومت کی جانب سے مالی امداد کا اعلان

دہلی کی ریاستی حکومت کی جانب سے مسلح جتھوں کے ہاتھوں مکمل نذر آتش ہونے والے گھروں اور مساجد کے لیے 5 لاکھ بھارتی روپے جب کہ جزوی نقصان پہنچنے والے گھروں کے لیے ڈھائی لاکھ بھارتی روپے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔بھارتی ریاست دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ جلنے والے گھروں کی فوری بحالی کے لیے ایک دو روز میں 25 ہزار بھارتی روپے دیے جائیں گے جب کہ باقی رقم بھی جلد ہی متاثرین کو دی جائے گی۔

فسادات کی مذمت کا سلسلہ جاری
بھارتی دارالحکومت میں اقلیتوں پر حملوں کے خلاف پوری دنیا بول اٹھی ہے اور کئی عالمی رہنماؤں نے اِن واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ترک صدر طیب اردوان نے بھی دہلی فسادات کی مذمت کی اور ایسے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی دہلی فسادات کی شدید مذمت کی گئی۔لندن میں مشہور موسیقار راجر واٹرز کی متنازع شہریت قانون متعارف کرانے پر بھارتی حکومت پر تنقید کی ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جب وہ موسیقار جنہوں نے فروغِ امن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے رکھا، بھی ہندوستان میں جاری قتل و غارت گری پر آواز بلند کرنے لگ جائیں تو دنیا پر بیداری واجب ہوجاتی ہے‘۔

 

یہ بھی دیکھیں

آئی ام اف اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، امریکی بے رحمی تاریخ میں محفوظ رہے گی: صدر ایران

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے عالمی مالیاتی فنڈ آئی ام اف سے اپنے فرائض …