جمعہ , 10 اپریل 2020

اسپین میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 5 ہوگئی، تین شدید زخمی

بارسلونا (شفقت علی رضا) اسپین میں ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے والے چار پاکستانیوں کے جنازے ابھی اُٹھے ہی تھے کہ پانچویں ہلاکت کی خبر بھی آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق اسپین کے شہر ’’ثارا غوثا‘‘ کے نواحی علاقے ’’کاس پے‘‘ میں ہونے والے ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ پانچویں ہلاکت ویگن کے ڈرائیور زین بٹ کی ہوئی ہے جو حادثے کے وقت ویگن چلا رہا تھا۔ زین بٹ کی عمر 19 سال تھی اور وہ ’’کاس پے‘‘ کا رہائشی تھا۔ زین بٹ سے پہلے ہلاک ہونے والوں میں شوکت علی، ظفر اقبال، محمد ارشد رانجھا اور پرویز احمد شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 8پاکستانی محنت کش سپین کے شہر ثارا غوثا کے قریب منی وین میں سوار ہو کر کام پر جا رہے تھے کہ وین سامنے سے آنے والے بڑے ٹریکٹر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 3افراد موقع پر جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ حادثے سے اگلے دن ارشد رانجھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا تھا اور اب زین بٹ بھی جانبر نہ ہو سکا، مرحومین کا تعلق زراعت کے شعبے سے تھا اور وہ

’’آڑو‘‘ کے باغات میں کام کرتے تھے۔ مرحومین پاکستان کے ضلع منڈی بہاوالدین کے مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستانی محنت کشوں کی وین کا ڈرائیور زین بٹ نے دو ماہ پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس پاس کیا تھا، اس روڈ ایکسیڈنٹ کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ڈرائیور کو اُونگھ آئی ہے یا پھر سامنے سے طلوع ہوتے ہوئے سورج کی کرنیں منی وین کے ڈرائیور کی آنکھوں میں پڑیں جس سے ٹریکٹر دکھائی نہ دیا اور وین اُس ٹریکٹر سے ایک دھماکے کے ساتھ جا ٹکرائی۔ ہسپانوی ادارے اس حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ایکسیڈنٹ کے محرکات کا پتا لگایا جا سکے۔ وین میں سوار مزید 3 پاکستانی ابھی انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔ اسپین کے علاقہ ’’کاس پے‘‘ بارسلونا سے تقریباً 3سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں ایک ہی وقت میں چار جنازے اُٹھائے گئے تو کہرام مچ گیا۔ قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری اور دوسرے سیاسی و سماجی کارکنان بارسلونا اور دوسرے شہروں سے ’’کاس پے‘‘ پہنچے تھے۔

مقامی بلدیہ کے ہسپانوی نمائندے اور اتھارٹیز بھی نماز جنازہ میں اظہار افسوس کے لئے موجود تھیں۔ قونصل جنرل بارسلونا نے مرحومین کے لواحقین کے ساتھ جا کر اُن کے گھروں میں تعزیت کی اور میتوں کو فوری طور پر پاکستان بھجوانے کے انتظامات کو یقینی بنایا۔ اس موقع پر پاکستانیوں کی تدفین کمیٹی کے انچارج حاجی نوید وڑائچ بھی قونصل جنرل بارسلونا کے ہمراہ تھے۔ پاکستانی کمیونٹی نے قونصل جنرل بارسلونا کا جنازے میں پہنچنا اور لواحقین کے لئے فوری طور پر سفری انتظامات کو مکمل کرنے کے احکامات جاری کرنا جیسے عوامل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے میتیں جلد پاکستان پہنچ جائیں گی۔ آخری اطلاعات آنے تک منی وین کے ڈرائیور زین بٹ کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ روزنامہ جنگ سے بات کرتے ہوئے قونصل جنرل بارسلونا کا کہنا تھا کہ حادثے کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی دیار غیر میں محنت مزدوری کے لئے آتے ہیں اور جب یہاں اُن کی میت کو پاکستان واپس بھیجا جاتا ہے تو قیامت کا سماں ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی جو اسپین میں مقیم ہے وہ اپنی لائف انشورنس ضرور کرائے تاکہ وفات کی صورت میں میت کو بر وقت پاکستان بھجوایا جا سکے اور مقامی اداروں کے واجبات ادا ہو جائیں انہوں نے کہا کہ یورپ سے پاکستان میت بھجوانے پر تقریبا چار سے پانچ ہزار یورو خرچ ہوتے ہیں جو یہاں میت کو کلیئر کرنے والے اداروں کو دینے پڑتے ہیں۔ سفیر پاکستان میڈرڈ خیام اکبر، ہیڈ آف چانسلری دانش محمود بزنس قونصلر عرفان علی اور سفارت خانہ پاکستان میں تعینات تمام عملے نے پانچ پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ ن سپین کے صدر حاجی اسد حسین، آرگنائزر چوہدری محمد ادریس، چیئر مین میاں محمد اظہر سمیت سماجی اور سیاسی افراد نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندے کے لئے دعا کی ہے۔ اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور اُن کے اہل خانہ ان ناگہانی اموات پر سخت افسردہ ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قبیلۂ آل سعود کرونا وائرس سے بُری طرح متاثر

کورونا وائرس بڑے پیمانے پر آل سعود کے شاہی خاندان میں سرایت کر گیا ہے۔ارنا …