بدھ , 12 مئی 2021

اسٹاک مارکیٹ،سٹے بازی کی حوصلہ شکنی

اداراتی نوٹ

کورونا وائرس کے دنیا کے 187ممالک میں پھیل کر تباہی مچانے سے جہاں خوف و ہراس کی فضا ہے وہاں اس کے باعث عالمی سطح پر کاروباری و اقتصادی سرگرمیاں بھی ماند پڑ کر رہ گئی ہیں۔ پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹیں کریش کر چکی ہیں اور اس بحران کو 80کی دہائی کے مالیاتی بحران سے بھی بڑا اور بدتر قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے چند روز تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج 1300ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکی ہے۔ عالمی سطح پر نظر آنے والے اس معاشی بحران سے سنبھلنا پاکستان تو کیا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کیلئے بھی آسان نہ ہو گا ۔ تاریخی مندی کی شکار پاکستان اسٹاک مارکیٹ بار بار ٹریڈنگ ہالٹ کا شکار ہوئی یعنی حصص کی خریداری کو 45منٹ تک روکنا پڑا۔ ان حالات میں ریگولیٹر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے سرمایہ کاروں کو سہارا دینے کیلئے اپریل میں فیوچر مارکیٹ یعنی مستقبل کے سودوں میں شارٹ سیلنگ کو ’’اپ ٹک‘‘ کے اصول سے منسلک کر دیا ہے، ایسے سودے صرف 36کمپنیوں کے حصص میں کرنے کی اجازت ہے اور چلن اس کا یہ ہے کہ سودے ایک ماہ کی ادائیگی پر کیے جاتے ہیں یعنی مارچ میں کیے گئے سودے کی ادائیگی اپریل میں کی جائے گی لیکن ایسا ہوتا نہیں کسی سودے میں کمپنی کے حصص اس کی ڈیلیوری کے بغیر بیچ دیے جاتے ہیں

اسے عرف عام میں سٹہ بازی بھی کہا جاتا ہے۔ بحرانی حالات سٹہ بازوں کی چاندی کے مترادف ہوتے ہیں۔ ایس ای سی پی نے اسٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کے اکائونٹ کھولنے کیلئے ’’اپنے صارف کو پہچانیں‘‘ نامی نافذ العمل قانون میں اہم تبدیلی کی ہے، منی لانڈرنگ روکنے والے اس قانون کے تحت سرمایہ کار کو 14دن میں اپنی مکمل تفصیلات فراہم کرنا پڑتی ہیں، اب یہ مدت 90روز تک بڑھا دی گئی ہے۔ نئے سرمایہ کاروں کی آمد سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ سٹے بازی کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی جو ان مشکل حالات میں ضروری ہے۔

بشکریہ جنگ اخبار

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …