منگل , 11 مئی 2021

کیا واقعی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟

تحریر:سعدیہ مظہر

آپ کو کبھی چوہے نے کاٹا ہے؟ یہ تصور ہی تکلیف دہ ہے۔ عجیب سی گندگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ بچپن میں ہم سب نے اپنے بزرگوں کو چوہے سے خاص طور پر بچنے کی ترغیب دیتے سنا اور اس کی وجہ طاعون جیسی بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ طاعون یعنی سیاہ موت! جس نے 1350 تک پورے یورپ میں اتنی تباہی مچائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے 20 کروڑ افراد جان سے گئے۔ اس سیاہ موت نے 1603 میں ایک بار پھر یورپ ہی پر حملہ کیا تو شہر کے شہر برباد ہوئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ مرض کسی مخصوص جانور کے کاٹنے سے پھیلتا تھا اور جسم کے جس حصے کو پہلے متاثر کرتا تھا یعنی جہاں کاٹنے کا نشان موجود ہوتا تھا اسے جسم سے الگ کردیا جاتا، کیونکہ تب جان بچانا سب سے اہم جانا جاتا تھا۔

سیاہ موت کی علامات تیز بخار، قے آنا، جسم میں شدید درد اور نقاہت کی صورت میں سامنے آتی تھیں۔ 18 ویں صدی میں اس طاعون سے متعلق ایک مضمون میں شامل مصنف ڈینیئل ڈیفو کی اپنی آپ بیتی میں اس تباہ کن دور کو خاص طور پر اہلِ لندن کےلیے ہولناک وقت قرار دیا گیا۔’’ویسے تو تمام متعدی بیماریوں کی طرح یہ طاعون بھی مختلف لوگوں کی طبیعتوں پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتا ہے۔ بعضوں پر اس نے فوراً ہی اثر دکھا دیا، اور انھیں شدید بخار، قے، ناقابلِ برداشت سردرد، کمر درد ہو ا اور وہ درد کے مارے تڑپنے اور کراہنے لگے۔ کچھ لوگوں کو سوجن ہوگئی اور گردن، ران اور بغلوں میں پھوڑے بن گئے، جس کی وجہ سے انھیں بے پناہ اذیت ہوئی۔ دوسری طرف کچھ ایسے بھی تھے جو خاموشی سے اس کا شکار ہوگئے۔‘‘

برکبیک میں لندن کی تاریخ کی پروفیسر ونیسیا ہارڈنگ اہلِ لندن کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’اس کا شکار ہونے والے اکثر لوگ بچ نہیں پائے، لیکن کچھ تھے جو بچ گئے اور اگر ہم اس کے پھیلنے کی وجہ کے بارے میں نہ جانتے ہوں تو یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے کو باآسانی لگ سکتی ہے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس وقت انھوں نے عوام کی صحت کےلیے کچھ اقدامات کیے جن میں کتوں اور بلیوں کو مارنا اور سڑکوں سے بھکاریوں کو ختم کرنا شامل تھا۔ یہ سب شہر کو صاف کرنے کےلیے اخلاقی اور عملی اقدامات کے طور پر کیا گیا۔ ان میں سے بہتر وہ لوگ رہے جو لندن سے نکل گئے۔

محققین نے نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاعون یعنی کالی موت کے ذمے دار چوہے کی ہی شکل جیسے جربو ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تیز دانتوں والا یہ جانور 14 ویں صدی میں وسطی ایشیا کے ساحلوں سے یورپی ساحلوں تک پہنچا اور پھر یہاں کالی موت جیسی بیماری پھیلا کر کروڑوں انسانوں کی موت کا باعث بنا۔سائنسدانوں کے مطابق جربو ایشیا سے یورپ کے ساحل پر پہنچے تو ان کے جسموں پر موجود پسو پورے یورپ میں پھیل گئے اور جب بھی موسم گرم ہوتا، جربو کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی تھی، بلکہ صرف ایک ڈگری درجہ حرارت میں اضافہ جربو کی آبادی کو دگنا کردیتا تھا۔

اکیسویں صدی میں کورونا وائرس کے نام سے پھیلنے والی وبا کا آغاز ہی ایشیا سے ہوا ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس وائرس کی وجہ چمگادڑ بنی۔ مگر چمگادڑ کھانے والوں میں صرف چین ہی تو شامل نہیں؟ کیا واقعی اس جرثومے کی افزائش میں موسم کا بھی عمل دخل ہے؟ کورونا وائرس کا آغاز اب سے تقریباً دو ماہ پہلے یعنی 2020 کے آغاز میں چین سے ہوا۔ اور تب بظاہر یوں لگ رہا تھا کہ یہ وبا صرف چین تک ہی رہے گی۔ شہر کے شہر مفلوج ہوگئے۔ شاید گمان یہ بھی تھا کہ چین کی اکانومی بیٹھ جائے گی۔ چین کی طرف سے کیے گئے اقدامات بلاشبہ قابل ذکر ہیں، مگر اب یہ وائرس یورپ اور ایشیا کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایسی وبا کو روکنا ایک مشکل امر ہے۔ جہاں ہم یکساں تعلیم کے مواقعوں کےلیے صدیوں سے لڑ رہے ہیں، جہاں لوگ ہر سال بچہ پیدا کرکے کہتے ہیں کہ اس کے رزق کا ذمے دار اللہ ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو یوں کہ ہم اونٹ کو باندھے بغیر بے فکر سوجاتے ہیں اللہ پر توکل کرکے کہ یہ کہیں نہیں جاتا۔

بڑے شہروں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سہل ہوگا مگر وہ شہر جن کے ساتھ دیہات بھی منسلک ہیں۔ جہاں پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں، باتھ روم کی سہولت میسر نہیں، وہاں یہ تصور کہ آپ عام لوگوں کو سمجھا سکیں کہ صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں، ماسک پہنیں اور اسپتال جائیں۔لگتا ہے سیانے سچ کہتے تھے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو یہاں تاریخ تیسری بار خود کو دہرا رہی ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے جیسی اصطلاحات اب خود منہ چڑھاتی نظر آتی ہیں۔ گھر بیٹھیے، ایک دوسرے سے دور رہیے، اپنے ساتھ وقت گزاریئے، یا پھر ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیے۔ابھی طوفان تیز ہے۔ نقصانات کا اندازہ اس کے گزرنے کے بعد ہو شاید یا پھر ہمارا دور گزرنے کے بعد تک اس وبا کے پھیلنے کی وجوہات پر تحقیق ہوتی رہے۔ مگر یہ ضرور اہم ہے کہ ہم ایک ڈیجیٹل دور میں ہیں۔ یہ تیرھویں یا سولہویں صدی نہیں۔ موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ آپ کو بند کمرے میں بھی دنیا سے آگاہ رکھنے کے ذرائع ہیں۔یہ سیاہ موت نہیں بلکہ تنہاہی کی موت ہے۔ شاید ہم رشتوں کی قدر کرنا سیکھ سکیں۔ رشتوں کے ہونے کی اہمیت سمجھ میں آسکے۔ ہم ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی قدر پہچان پائیں۔ زندگی اور زمین دونوں ہی کو سکون چاہیے شاید۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

 

 

 

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …