ہفتہ , 8 مئی 2021

کورونا وائرس نے دین کی چھٹی کر دی (بے دین حلقوں کو جواب)

جری حیدر، قم المقدسہ

خدائے منان نے جس طرح انسان کیلئے اپنے قرب اور شناخت کی راہ شرعی احکامات اور اعمال کے ذریعے کھولی ہے، اسی طرح اپنے قرب کی ایک اہم اور محکم راہ آثار خلقت اور صنع پروردگار کے مطالعے میں پنہاں رکھی ہے، جس کو قرآن میں بار بار تاکید کے ساتھ کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔۔۔《سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (فصّلت؛53) ہم انہیں نشانیاں دکھائیں گے ،آفاق و کائنات میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی، تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہ (اللہ) بالکل حق ہے۔ کیا تمہارے پروردگار کے لئے یہ امر کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔》اس لئے حکماء اور فلاسفہ اسلامی کے مطابق جس طرح خدا کی کتابی اور قولی آیات کی تفسیر ایک دینی اور توحیدی علم ہے، اسی طرح خدا کے خلقت کے آثار، فعل اور صنع کی تحقیق و تفسیر بھی ایک دینی اور توحیدی علم ہے۔

اسی لئے دینی علم اور ان کی وسعت کی بحث میں یہ نتیجہ لیا جاتا ہے کہ جس طرح علم شریعت اور مذہب ایک دینی اور توحیدی علم ہے، اسی طرح سائنسی اور تجربی علوم (experimental sciences) بھی دینی اور توحیدی علوم کا مصداق ہیں۔ جس طرح شرعی احکامات پر عمل کرکے انسان خدا کی قرب کی راہیں اختیار کرسکتا ہے، اسی طرح خدا کی کائنات میں پھیلی آیات خلقت کا مطالعہ کرکے بھی ایک عظیم عبادت انجام دے سکتا ہے۔ جبھی دین مبین اسلام خصوصاً مذہب حقہ اہل بیت میں ہمیشہ سائنسی اور تجربی علوم کو ایک خاص مقام اور تقدس حاصل رہا، یہاں تک کہ آج کے دور میں جب علوم تجربی کے موجد اور مخترع کی بات کی جاتی ہے تو آئمہ اہلبیت (ع) کا نام آج بھی مشرق و مغرب کی درسگاہوں اور کتابوں میں سرفہرست ہے۔

اسی لئے مذہب اہل بیت سے استخراج کیا گیا یہ قاعدہ ہمارے پاس آیا کہ کل ما‌ حکم به الشرع حکم به العقل و کل ما حکم به العقل حکم به الشرع جس‌ بات پر بهی شریعت حکم کرتی ہے، عقل بھی اس پر حکم کرتی ہے اور جس بات کی طرف عقل حکم کرتی ہے، شریعت بھی اس بات کی طرف حکم کرتی ہے۔ کورونا وائرس کے نمودار ہوتے ہی دینی حلقوں نے انہی الہیٰ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اور عبادت سمجھتے ہوئے تجربی اور سائنسی علوم کے ماہرین کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا اور ان کے احکامات کی پابندی کو عین شریعت، ثواب اور ان کے دستورات کی خلاف ورزی کو شریعت کی مخالفت اور گناہ سے تعبیر کیا۔

رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اس حوالے کچھ یوں ارشاد کیا:《ماہرین کے دستورات اور سفارشات کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی سلامتی اور دوسروں کی سلامتی کے سلسلے میں پابند بنایا ہے، اس بارے میں ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیئے، لہذا جو عمل اس بیماری کی روک تھام میں مددگار اور معاون ثابت ہوگا، وہ حسنہ (ثواب) ہے اور جو عمل اس بیماری کے پھیلنے کا باعث ہوگا، وہ سیّئہ(گناہ) ہے۔》پر اسی کے ساتھ دین کی حقیقی روح سے ناواقف اور بے بہرہ حلقے دین پر انگلیاں اٹھانا شروع ہوگئے کہ دین اس موقع پر کہاں ہے؟ کہاں گئی مسجدیں؟ کہاں گئے مقامات مقدسہ اور کہاں گئے علمائے دین!؟ جو اپنی مسجدوں، مقدس مقامات اور مزارات پر تالا لگا چکے ہیں۔؟؟؟

تو ان سارے اہم اور کلیدی نکات بیان کرنے کے بعد جواباً یہ عرض ہے کہ دین کا سورج اسی طرح اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ کورونا وائرس نے دین کے ایک پوشیدہ پہلو کو زیادہ اجاگر کر دیا ہے اور وہ سائنس اور تجربی علوم کا دینی، توحیدی اور عبادی پہلو ہے۔ اگر آج مساجد، مقامات مقدسہ اور مزارات لوگوں کیلئے محدود ہوگئے ہیں تو دین نے اپنے دروازے لوگوں پر بند نہیں کر دیئے بلکہ دین نے لوگوں کے لئے عبادت اور قرب خدا اختیار کرنے کی دوسری راہ بھی بتائی ہے کہ اگر عملی عبادت اور جہاد کرنا ہے تو شرعی اور سنتی عبادات کو خلوتوں میں انجام دینے کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر، لیباریٹریز، ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کی طرف رخ کرکے قرب خدا اختیار کرو۔

کورونا وائرس کا مقابلہ بھی ایک انسانی، توحیدی، مذہبی اور دینی جہاد ہے اور اس جہاد کا اسلحہ روحانی ماہرین کی طرف سے دی گئی روحانی ہدایات کے ساتھ طبی ماہرین کی طرف سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر، طبی علاج اور دوائیں ہیں۔ اس وبائی مرض کے مقابلے میں جس طرح خدا اور آئمہ کی بارگاہ میں دعا و توسل ایک عبادت ہے، جو کہ اصل ہے، اسی طرح احتیاطی تدابیر پر عمل بھی ایک عظیم عبادت اور جہاد ہے۔ و ما علینا الا البلاغ المبین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1) منزلت عقل در هندسه معرفت دینی (آیت الله جوادی آملی)
2) فرائد‌الاصول (شیخ اعظم مرتضی انصاری)
3) کورونا وائرس سے متعلق رہبر معظم کا تازہ خطاب

 

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …