منگل , 18 مئی 2021

اٹلی، اسپین میں کورونا سے مزید اموات، دنیا بھر میں 14ہزار سے زائد افراد ہلاک

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات میں روز بروز اضافہ سامنے آرہا ہے اور اسپین اور اٹلی میں مجموعی طور پر مزید ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 14ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

چین سے پھیلنے والے اس وائرس سے دنیا بھر میں خصوصاً یورپ میں تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اٹلی اور اسپین میں سمیت دنیا بھر میں اموات میں اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 14ہزار 366 ہو گئی ہے۔

اٹلی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں اور اتوار کو مزید 651 افراد کی ہلاکت کے بعد یورپ کے مشہور سیاحتی ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار 476 ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ اٹلی میں ہفتے کو بھی 793 افراد کورونا وائرس کے سبب لقمہ اجل بن گئے تھے۔

اٹلی میں مزید ساڑھے پانچ ہزار افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جس سے ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 59 ہزار 138 ہو چکی ہے جبکہ وائرس سے 7 ہزار افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے 14ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3 لاکھ 4 ہزار 500 افراد وائرس سے اب تک متاثر ہوئے۔

یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ اب تک دنیا بھر میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 92 ہزار سے زائد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت چین کے عوام کی ہے۔

اسپین میں ایک دن میں 400 اموات
اسپین میں بھی اموات کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اتوار کو ایک دن میں 400 سے زائد افراد کی موت کے نتیجے میں اسپین میں بھی اب تک 1700 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔جرمنی نے بھی سخت ترین اقدامات اٹھاتے ہوئے ملک میں ایک جگہ دو افراد سے زائد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔

کورونا کے سبب کولمبیا کی جیل میں جھگڑا
کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا میں کورونا وائرس کے باعث جیل میں جھگڑے کے نتیجے میں کم از کم 23 قیدی ہلاک اور 83 زخمی ہو گئے۔قیدی کورونا وائرس کے تیزی کے پھیلاؤ کے پیش نظر جیل میں صفائی کی ناقص صورتحال پر احتجاج کر رہے تھے۔جھگڑے میں 7 محافظ بھی زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔کولمبیا میں اب تک 231 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور ملک میں منگل کی رات سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے۔

بھارت میں 14گھنٹے کیلئے لاک ڈاؤن
بھارت میں وزیر اعظم کی اپیل پر 22 مارچ کو ملک بھر میں کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر جنتا کرفیو کے باعث عوام گھروں تک ہی محدود رہے جب کہ تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رکھی گئی۔بھارتی حکومت نے قانونی طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا تھا تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں عوام سے محض 14 گھنٹے کے لیے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تھی۔ان 14 گھنٹوں کے دوران ملک کے تقریباً ایک ارب افراد گھروں تک محدود رہے اور ملک بھر کی سڑکیں اور گلیاں مکمل طور پر سنسان رہیں۔بھارت میں اب تک 334 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 4 افراد موت کے منہ میں بھی جا چکے ہیں۔

کینیڈا میں 450فیصد زائد اموات
دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی اب صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور اتوار کو کینیڈا میں ہلاکتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔کینیڈین حکومت کے مطابق ہفتے تک 13 افراد وائرس کے سبب ہلاک ہوئے تھے۔کینیڈا میں متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک ایک ہزار 302 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

اپریل، مارچ سے اور مئی، اپریل سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، رپورٹ
امریکا میں اب تک 25 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 340 افراد وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے ایک تہائی نیویارک میں رپورٹ ہوئے اور نیویارک کے میئر دی بلاسیو نے وائرس سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔انہوں نے وائرس کو سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپریل کا مہینہ مارچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گا اور مجھے خطرہ ہے کہ مئی کا مہینہ اپریل سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا وائرس سے امریکا میں ایک کروڑ افراد وائرس کے سبب اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

افغانستان میں کورونا وائرس سے پہلی موت
ادھر افغانستان میں وائس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔صوبہ بلخ کی وزارت صحت کے ترجمان ونیداللہ مایر نے کہا کہ 40 سالہ شخص کی وائرس کے سبب موت ہو گئی۔افغانستان میں اب تک 34 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ جنگ زدہ ملک میں ناقص نظام صحت کے سبب کیسز بڑھنے کی صورت میں صورتحال ابتر شکل اختیار کر سکتی ہے۔

25 مارچ تک امارات کی پروازیں مسافروں کیلئے بند
ادھر دنیا کی بڑی ایئرلائنز نے وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر 25 مارچ تک اپنی تمام فلائٹس عبوری طور پر منسوخ کردی ہیں۔کمپنی نے کہا کہ جب تک ممالک اپنی سرحدیں نہیں کھولتے اور سفر کے حوالے سے اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس وقت تک موجودہ صورتحال میں ہمارے لیے مسافروں کے لیے آپریشنز بحال رکھنا ممکن نہیں۔

دوسری جانب سنگاپور میں مزید 23 کیسز رپورٹ ہونے سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 455 ہو گئی ہے۔ادھر کینیا میں پولیس اور تاجروں کے درمیان سنگین جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے جہاں حکومت کی جانب سے اعلانات کے باوجود تاجروں نے دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھنے سے انکار کردیا تھا۔کسومو کاونٹی میں گورنر انیانگ نیونگ نے تاجروں کو اپنے تمام کاروباری مراکز بند رکھنے کا حکم دیا تھا جس پر تاجروں نے حکومتی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے گورنر کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

عراق میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان
ایران میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے بعد عراق نے بھی ملک میں 28مارچ تک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔عراق کے 18 صوبوں نے اپنے تئیں کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن اب ملک بھر میں 28 مارچ تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کہا گیا کہ اسکول، یونیورسٹیز اور عوامی مقامات پر پابندی کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل فلائٹس بھی بند رہیں گی۔

فلسطینی عوام کو 14دن قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت
فلسطینی حکومت نے بھی اپنے عوام کو 14دن کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔فلسطینی وزیراعظم محمد شطائے نے ٹی وی پر خطاب میں عوام سے گھروں میں رہنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خورونوش، ادویات سمیت اہم چیزوں کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

فرانس کی برطانیہ کو دھمکی
ادھر فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون نے دھمکی دی ہے کہ اگر برطانوی وزیر اعظم نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو وہ جمعہ سے فرانس۔برطانیہ سرحد کو بند کردیں گے۔فرانس کے صدر نے ایک انٹرویو میں موجودہ بحرانی صورتحال پر برطانوی حکومت اور وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔فرانس میں برطانیہ سے قبل کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک 14ہزار سے زائد افراد متاثر اور 562 ہلاک ہو چکے ہیں۔لیکن برطانیہ میں وائرس تیزی سے پھیلنے کے باوجود حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن سمیت اس طرح کے کسی بھی قسم کے اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا حالانکہ اب تک 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کے ساتھ ساتھ 233 اموات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔

آسٹریلیا کا بھی لاک ڈاؤن کا اعلان
ادھر آسٹریلیا نے ملک میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر پورے ملک میں شٹ ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اعلان کیا کہ پیر سے عوام کے عوامی مقامات، جم سمیت کسی بھی غیر ضروری کام پر جانے پر پابندی ہو گی۔آسٹریلیا میں ابتدا میں وائرس تیزی سے نہیں پھیلا تھا لیکن اب یہ تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا ہے جس کے سبب ملک میں اب تک تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 7 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

ایران میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 685 ہو گئی
ایران میں اتوار کو مزید 129 ہلاکتوں کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 685 ہو چکی ہے۔وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے کہا کہ 24 گھنٹے کے دوران مزید ایک ہزار 28 افراد کے وائرس کی زد میں آنے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اب تک 7 ہزار 913 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔ملائیشیا میں مزید 123 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 306 ہو چکی ہے جبکہ اب تک ملک میں 10 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔انڈونیشیا میں بھی مزید 10 افراد وائرس کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں جس سے اب تک 48 افراد مر چکے ہیں جبکہ 64 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 514 ہوگئی ہے۔

 

 

 

 

 

یہ بھی دیکھیں

کورونا وبا؛ مزید 135 افراد جاں بحق، مجموعی اموات کی تعداد 19 ہزار 752 ہوگئی

اسلام آباد: کوروناوبا کے باعث مزید 135 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ فعال کیسز …