بدھ , 12 مئی 2021

لندن، 100 سالہ یاور عباس کی 60 سالہ نور سے شادی

لندن: محبت کوئی حدود، عمر، صنف، قومیت، مذہب یا وبا کا پھیلائو نہیں سمجھتی۔ کوئی بھی بات 100 سالہ یاور عباس کو اپنی محبت دلیر اور خوبصورت انڈین نژاد 60 سالہ رائٹر نور ظہیر سے شادی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکی۔ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرہ کے باعث جوڑے نے اصل شادی کی تقریب 27 مارچ سے 10 دن قبل ہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے شادی کی تقریب ویسٹ لندن میں اپنے گھر پر رکھی، جس میں صرف چھ قریبی دوستوں نے شرکت کی۔ یاور عباس نے 1942 میں متحدہ بھارت میں رہتے ہوئے برٹش آرمی میں سیکنڈ لیفٹنٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔1947 میں انہوں نے میجر کی حیثیت سے پاک فوج میں خدمات انجام دیں جبکہ پاکستان اور تقسیم ہند پر ایک کمیشنڈ فلم بنائی۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور بی بی سی میں شمولیت کیلئے لندن منتقل ہو گئے۔ وہ تب سے ہی لندن میں مقیم ہیں۔ یاور کا نورسے عقد ان کی چوتھی شادی ہے جبکہ نور کی یاور سے ان کی پانچویں شادی ہے۔ دی نیوز اور جیو سے گفتگو کرتے ہوئے نور نے بتایا کہ یاور نے ایک الیویٹر میں شادی کا پیغام دیا اور کہا کہ مستقل طور پر لندن میں آجائیں۔ نور نے قہقہہ لگایا، کیونکہ 100 سالہ شخص کی جانب سےشادی کا پیغام غیر متوقع تھا۔ ہم لوگ دوستوں سے بھی زیادہ قریب تھے، لہٰذا میں نے ہاں کہہ دی۔

دونوں ایک دوسرے کو 12 سال سے زائد عرصہ سے جانتے تھے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں لندن کےفیص امن میلہ میں عارفانہ وقت میں دوبارہ ملاقات ہوئی تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ جیو اور دی نیوز کی جانب سے ہر سال فیض میلہ کی میزبانی کی جاتی ہے، جس سے اہم ترقی پسند شخصیات کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ یاور عباس، جو کہ خود بھی ایک پرجوش مصنف ہیں، وہ نور کی انسانیت اور مضبوط آئیڈیل کی کمٹمنٹس سے بہت متاثر ہوئے۔ نور نے دی نیوز اور جیو کو بتایا کہ ہم مساوات اور سماجی انصاف پر یقین رکھتے ہیں۔ یاور مستقل طور پر اپنی فلمیں اور تحریریں پیش کرتے ہیں جو کہ مجھے حقیقتاً بہت متاثر کرتی ہیں۔ یاور عباس نے جنگ عظیم دوم کے دوران بی بی سی کیلئے فوٹوگرافر کی حیثیت سے اپنا کیریئر بنایا۔ تب سے ہی لکھنو سے تعلق رکھنے والے یاور ایک فلم میکر ہیں اور انہوں نے سرد جنگ، سویٹ یونین کا بکھرنا، ای یو کا قیام اور بہت کچھ دیکھا۔ نور ظہیر لیجنڈری مارکسسٹ دانشور جوڑے سید سجاد ظہیر اور رضیہ ظہیر کی بیٹی ہیں۔ سجاد ظہیر نے مصنف کی حیثیت سے اپنا کیریئر بنایا جبکہ وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے بانی رکن تھے۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نور نے جنوبی ایشیا کی انتہائی بااثر مصنفہ کی حیثیت سے خود کو منوایا، ان کی بیسٹ سیلرز تصنیفات میں مائی گاڈ از اے ویمن، دی ڈانسنگ لاما اور ایٹ ہوم ان انیمی لینڈ انڈر ہر بیلٹ قابل ذکر ہیں۔ جوڑے کو 30 سال سے جاننے والی ان کی انتہائی قریبی دوست محترمہ دردانہ انصاری نے کہا کہ انہوں نے میری زندگی میں بجلی بھر دی ہے۔ میں نے کسی اور جوڑے کے چہروں پر اس طرح خوشیوں کو رقص کرتے نہیں دیکھا، کوئی نوجوان جوڑا بھی ان کی طرح رومانٹک نہیں۔ یہ شادی ایسے وقت ہوئی ہے جب کوویڈ۔19 کی وبا سے دنیا بھر میں 286000 کیسز سامنے آنے اور تادم تحریر 11889 افراد کی ہلاکت کے بعد این ایچ ایس کی جانب سے 70 سال سے زائد عمر افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …