پیر , 6 اپریل 2020
تازہ ترین

امام حسین علیہ السلام کے قیام کا ہدف

سیدہ سائرہ بانو

بلا شبہ حسین ابنِ علی علیہ السلام کے باطل کے خلاف قیام نے انسانی ذہن پر انمِٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ہر دور کا انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگ کا بنیادی ہدف کیا تھا۔

سن ساٹھ ہجری میں امام حسین علیہ السلام مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے۔ خلیفہ وقت معاویہ بن ابوسفیان کی موت کے بعد اس کے جانشین یزید بن معاویہ نے مختلف علاقوں میں تعینات اپنے گورنروں اور سرداروں کے نام خطوط ارسال کیے جس میں انہیں حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں سے اس کی طے شدہ جانشینی کی دوبارہ بیعت لیں۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے علاوہ عبداللہ ابن عمر اور عبداللہ ابن زبیر پہلی دفعہ یزید کی بیعت سے انکار کر چکے تھے اس لئے یزید نے گورنر مدینہ کو بطور خاص ان شخصیات سے فوری بیعت لینے کی تاکید کی اور انکار کی صورت میں سختی سے پیش آنے کا کہا۔ اس مقصد کے لئے گورنر مدینہ ولید ابن عتبہ کی طرف سے رات کی تاریکی میں ایک ملاقات کا اہتمام ہوا جس میں امام حسین علیہ السلام کو یزید کی بیعت کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے جواب میں امامِ وقت نے ایک مختصر مگر جامع خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: "اے امیر! ہم خاندانِ نبوت اور معدنِ رسالت ہیں۔ ہمارے گھر پر فرشتوں کی رفت و آمد رہا کرتی ہے۔ اور ہمارے خاندان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی نے اسلام کو ہمارے گھرانے سے شروع کیا اور آخر تک ہمیشہ ہمارا گھرانہ اسلام کے ہمراہ رہے گا۔ لیکن یزید جس کی بیعت کی تم مجھ سے توقع کر رہے ہو اُس کا کردار یہ ہے کہ وہ شراب خور ہے۔ بے گناہ افراد کا قاتل ہے۔ اس نے اللہ تعالی کے احکام کو پامال کیا اور برسرِعام فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے۔ مجھ جیسا شخص کسی صورت اُس جیسے شخص کی بیعت نہیں کرے گا۔ اب ہم اور تم دونوں آنے والے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کون خلافت اور بیعت کا زیادہ مستحق ہے۔” (۱)

خطبہ کا آغاز بتا رہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے سخن نے ازخود ان کے فضائل کو بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ امام نے یزید کے بارے میں اپنا موقف کھل کر بیان کیا کہ وہ یزید کی بیعت اور اس کی حکومت کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ ان کا اپنے خاندان کی ممتاز صفات اور معاشرے میں ممتاز مقام واضح کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ امتِ اسلامیہ کی رہبری اور قیادت کے سلسلے میں یزید کے دعوے جھوٹے اور منصب کے لئے اس کی نالائقی کی دلیل ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ آپ نے اس خطبہ میں اپنے قیام کے ہدف اور آئندہ کی پالیسی کو بھی مکمل طور پر واضح کر دیا۔ جن لوگوں پر قیامِ امام حسین علیہ السلام کا ہدف واضح نہیں یا وہ شکوک و ابہام میں مبتلا ہیں۔ انہیں امام حسین علیہ السلام کے قیام کے آغاز سے اختتام تک ان کے خطبوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

٢٨ رجب ٦٠ ہجری ۔ اہلِ بیت (ع) کی مدینہ سے روانگی

شہرِ مکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے پیدائش ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر کے تقریبا پچاس سال اس شہر میں گزارے۔ یہ ایک طویل عرصہ تھا جس میں سید الانبیاء (ص) نے زندگی کے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ جب مکہ کے سرداروں نے آپ (ص) کے قتل کی سازش تیار کی تو اللہ نے آپ کو یثرب کی جانب ہجرت کا حکم دیا۔ آپ (ص) رنجیدہ و دل گیر تھے کیونکہ آپ کے لئے اپنے آبائی شہر کو چھوڑنا آسان نہ تھا۔ یثرب کی جانب روانگی کے وقت آپ (ص) نے شہرِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے مکہ! مجھے تجھ سے بے حد محبت ہے لیکن تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔” جب اللہ نے اپنے محبوب کو اتنا مضطرب پایا تو فرمایا: "ولسوف یعطیک ربک فترضی” اور یہی ہوا جب آپ ایک عرصہ بعد فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو خدا کا یہ وعدہ سچ ہو گیا۔

سن ٦٠ ہجری میں حسین ابن علی علیہ السلام کی ہجرت بھی خدائے متعال کا امر تھی لیکن اس میں واپسی کی کوئی امید نہ تھی۔ آپ (ع) نے شہادت کے رتبہ کو پانے اور اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونے کے لئے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ مدینہ آپ (ع) کی جائے پیدائش اور آپ (ع) کی والدہ، نانا اور بھائی کا مدفن تھا اس لئے آپ (ع) کی اس شہر سے انسیت فطری تھی۔ آپ (ع) مدینہ سے رخصت ہوتے ہوئے غمگین تھے لیکن اپنے وقت کے یزید سے مقابلہ کرنا ناگزیر تھا۔ امتِ محمدی کی اصلاح آپ (ع) کا واحد ہدف تھا جسے حاصل کرنے کے لئے آپ (ع) نے سفر اختیار کیا۔ آپ علیہ السلام کے خانوادے کے چند افراد نے آپ (ع) کو ممکنہ خونریزی اور موت کے خطرات سے آگاہ و خبردار کیا تاکہ آپ (ع) محتاط ہو جائیں لیکن آپ (ع) نے حق کی خاطر ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔ آپ (ع) بے خوف اور مطمئن تھے۔ آپ (ع) کے نزدیک حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ خاموشی اختیار کرنے کی بجائے علانیہ جدوجہد کی جائے۔ امام حسین علیہ السلام کو اس بات کا بھی بخوبی علم تھا کہ آپ (ع) نے جس راستے کا انتخاب کیا اُس کی منزل شہادت تھی۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ (ع) نے اپنے بھائی جناب محمد بن حنفیہ کے نام وصیت نامہ تحریر فرمایا اور اپنی مہر ثبت کرنے کے بعد اسے اُن کے سپرد کر دیا۔ اپنے وصیت نامہ میں امام حسین علیہ السلام نے توحید، نبوت اور قیامت کے بارے میں اپنا عقیدہ بیان فرمایا اور اپنے سفر کے مقاصد ان الفاظ میں بیان کیے: "(مدینہ سے) میرا نکلنا نہ خود پسندی اور تفریح کی غرض سے ہے اور نہ فساد اور ظلم و ستم میرا مقصد ہے۔ میں تو صرف اس لئے نکلا ہوں کہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو انجام دوں اور یوں اپنے نانا اور اپنے والدِ گرامی کی سیرت کی پیروی کروں۔ اب اگر کوئی میری دعوت کو مسترد کرے تو میں صبر کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ میرے اور ان افراد کے درمیان فیصلہ کرے۔ اور اللہ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔” (۲)

کائنات کی ان دو عظیم ترین ہستیوں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و حسین ابن علی علیہ السلام) کی ہجرت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ کے دین کی سربلندی اور دفاع کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ دینا معمولی سی بات ہے۔ مومن حق و باطل کی جنگ لڑنے کے لئے ہر دم تیار رہتا ہے اور اسے اپنی جان و مال کے چلے جانے کی بھی پروا نہیں ہوتی۔ واقعہ کربلا کی ابتدا ٢٨ رجب سن ٦٠ ہجری سے ہوئی اور اس کا اختتام ١٠ محرم سن ٦١ ہجری کو ہوا۔ امام حسین علیہ السلام کا مدینہ تا مکہ اور پھر مکہ تا کربلا کا سفر اتمامِ حجت تھا یعنی اہلِ عقل کے لئے ان کے ہدف کو سمجھنے کی ایک واضح دلیل تھی۔ دورانِ سفر امام حسین علیہ السلام نے خطبات کے ذریعہ تمام عالمِ انسانیت کو ایک آفاقی پیغام دیا۔ ان خطبات کا ایک ایک لفظ دورِ حاضر کے یزیدیوں کے لئے للکار اور ان کے پیروکاروں کے لئے دعوتِ فکر ہے۔ آپ علیہ السلام کے فلسفہ قربانی کو سمجھنے کے بعد ہی ہم خود کو امامِ زمانہ (عج) کا سپاہی بنا سکیں گے وگرنہ سینہ کوبی و گریہ کرنا محض ایک رسم ہوگی۔ خداوندِ کائنات ہمیں حسینی فکر پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ الہی آمین۔

(۱) ۔ (۲) : خطبات، فرمودات و مکتوبات حسین ابن علی (ع) مدینہ تا کربلا

یہ بھی دیکھیں

عالمی وبا کے مثبت و منفی اثرات

تحریر؛ زاہدہ حنا کورونا کی عالمی وبا نے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا …