منگل , 11 مئی 2021

کورونا وائرس: پنجاب میں پہلی ہلاکت، ملک میں 903 متاثرین ہوگئے

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس عالمی وبا سے پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔پنجاب میں اس پہلی ہلاکت کے بعد ملک میں مجموعی اموات کی تعداد 7 جبکہ متاثرین کی تعداد 903 ہوگئی۔وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے ٹوئٹ میں مریض کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ بدقسمتی سے کورونا وائرس کا شکار 57 سالہ شخص میو ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا۔انہوں نے لکھا کہ یہ پورے ملک کے لیے مشکل وقت ہے، اس وبا سے لڑنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ گھروں میں رہیں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔

پنجاب

ادھر پنجاب میں مزید 16 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔اس بارے میں صوبائی محکمہ صحت کے ترجمان قیصر آصف کا کہنا تھا کہ ان 16 نئے کیسز کے بعد متاثرین کی تعداد 265 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ ان کیسز میں 176 وہ زائرین ہیں جو ایران سے پاکستان آئے، اس کے علاوہ 59 کیسز لاہور، 2 ملتان، 2 راولپنڈی، 12 گجرات، 3 جہلم، 7 گوجرانوالہ اور ایک ایک فیصل آباد، منڈی بہاالدین، رحیم یار خان اور سرگودھا سے ہے۔اس وائرس سے ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 903تک جاپہنچی ہے جبکہ 7 افراد انتقال بھی کرچکے ہیں، جس میں حالیہ انتقال کے سوا دیگر 3 کا تعلق خیبرپختونخوا، ایک کا سندھ، ایک کا گلگت بلتستان اور ایک بلوچستان سے ہے۔اگر ملک میں مجموعی تعداد پر نظر ڈالیں تو اس وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے جہاں متاثرین کی تعداد 394 ہے جبکہ پنجاب 265 متاثرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔اسی طرح بلوچستان میں 110 افراد جبکہ خیبرپختونخوا میں 38 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔مزید برآں اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص متاثر ہے۔اگر تازہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 9 مزید کیسز رپورٹ ہونے سے علاقے کے متاثرین کی تعداد 80 ہوگئی۔

پاکستان کی مجموعی صورتحال
کورونا وائرس کے باعث اگر پاکستان کی مجموعی صورتحال کی بات کریں تو اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج تعینات کردی گئی ہے۔اگرچہ وزیراعظم عمران خان ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن سے انکار کرچکے ہیں تاہم صوبوں اور دیگر علاقوں کی جانب سے اپنی حدود میں لاک ڈاؤن اور مختلف طرح کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ کی بات کریں تو یہاں 23 مارچ سے 15 روز کیلئے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز ہوچکا ہے۔اس لاک ڈاؤن کے دوران تمام کاروباری مراکز، شامنگ مالز، نجی و سرکاری دفاتر، پارکس، ٹرانسپورٹ، دکانیں بند ہیں، بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ رسٹورنٹس کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، ساتھ ہی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔صوبہ پنجاب کی بات کریں تو وہاں بھی ایک طرح کا ‘لاک ڈاؤن’ ہی ہے تاہم سرکاری حکام اسے لاک ڈاؤن کا نام نہیں دے رہے لیکن اس 14 روزہ پابندیوں کے دوران تمام شاپنگ مالز، بازار، نجی و سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، پارکس، سیاحتی مقامات بند رہیں گے جبکہ ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی۔بلوچستان کی بات کریں تو وہاں بھی کاروباری مراکز بند کرنے اور ٹرانسپورٹ سروسز کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف پابندیاں لگادی گئی ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں غیرمعینہ مدت جبکہ آزاد کشمیر میں 3 ہفتوں کا مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

 

 

 

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …