اتوار , 5 اپریل 2020
تازہ ترین

کرونا جیسی بلا اور ہمارے سیاسی رویے

انجم رضا
کرونا جیسی خوفناک وبا جس نے اس وقت کرہ ارض پہ موجود انسانی زندگی کے لئے ڈراؤنے عفریت کی صورت اختیار کرلی ہے، اتنی خوفناک وبا سے شاید جدید دنیا کو پہلی دفعہ واسطہ پڑا ہے کہ جس نے تمام دنیا بلاتخصیص ترقی یافتہ و ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، چائنا سے شروع ہونے والی یہ وبا کرہ ارض کے ہر حصے میں پہنچ چکی ہے، اور ہر ملک نے بطور قوم متحد ہوکر اس وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی تشکیل دی ہے، اس میں کیا حکومت کیا اپوزیشن کیا مخالف کیا دوست۔۔۔ سب سیاسی و سماجی اختلافات بالائے طاق رکھ دئیے گئے ہیں، اور سب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے نکل کر فلاحی و انسان دوستی کے جذبے کے تحت متحد ہوگئے ہیں۔
ہمارے پیارے دیس میں بھی عوام کی بیشتر تعداد متحد ہو کر اس وبا سے نمٹنے کے لئے تیار و سرگرم عمل ہے، لوگ اس وقت پارٹی بازی، مسلکی فرق، سماجی اونچ نیچ سے ہٹ کر صرف اور صرف بطور پاکستانی ایک دوسرے کے لئے احساس الفت و یگانگت کے جذبے کا اظہار کررہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کی حکومت جو اپنی ناتجربہ کاری کی بنا پر شاید اس طرح فیصلہ سازی اور حکمت عملی نہیں بناسکی جیسا کہ ایک حقیقی جمہوری حکومت سے توقع کی جاسکتی ہے، ایسے میں چند ناعاقبت اندیش ابھی بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے باہر نہیں نکل سکے ، انہیں اندازہ نہیں کہ اُن کی اس سوچ سے فقط اور فقط غیر جمہوری رویوں کو بڑھوتی ملتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں جمہوری اور سیاسی عمل بہت محدود رہا ہے، لہذا طالع آزماؤں کے ماحول میں جنم شدہ جمہوریت بھی سیاسی فرقہ واریت سے کم نہیں ہے ۔

فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کوئی بھی ہو، چاہے مذہبی ہو یا سیاسی، لسانی ہو یا علاقائی ہر ایک انتہائی بُری اور خوفناک نتائج رکھتی ہے۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیں کہ مذہبی فرقہ واریت معاشرے کے لئے ناسور ہے۔ جی! یقینا یہ بات بالکل سچ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور تفرقہ بازی صرف معاشرے کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری انسایت کے لئے ناسور ہے۔ اگرملکی سطح کی سیاسی فرقہ واریت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ پاکستانی قوم کو سینکڑوں سیاسی گروہوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کا ایسا دشمن بنا دیا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
جس کے لئے لوگ مسلسل بحث برائے بحث ، اعتراض برائے اعتراض کرتے رہتے ہیں۔ جو سیاسی عقیدہ اپنا لیں ، اس پہ کٹر انداز سے تمام تر انسانی قدروں کو رگیدتے ہوئے ڈھیٹ بنے رہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مذہبی فرقہ واریت سے جو نقصان ہوتا ہے وہ بھی درحقیقت سیاسی فرقہ واریت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ اور جب جب حالات خراب ہوتے ہیں تب غیر جمہوری قوتیں انتخاب کے عمل کو یرغمال بنا کر ایسے لوگوں کو قوم پر مسلط کر دیتی ہیں جو مقابلے کی فضا کو ذاتی حملے کر کے پراگندہ کرتے ہیں اور مسائل پر بحث کی بجائے ذاتی دشمنیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں موجودہ جمہوریت ایک قبائلی نظام پر قائم ہے اور ہر شخص کو زندہ رہنے کے لیے کسی نہ کسی قبیلے کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں نہ جمہوری ہیں، نہ سیاسی بلکہ خاندانی کاروبار کی طرح کام کرتی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کا فقدان ہے۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور طاقت کا مرکز بھی پارٹی یا اس کا کوئی عضو نہیں بلکہ ایک شخصیت ہی ہوتی ہے جس کی قیادت کو پارٹی کے اندر کوئی چیلنج کر سکتا ہے نہ ہی اس کے فیصلے سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے۔ ’سیاسی جماعتوں میں جبر اور آمریت کی فضا ان پارٹیوں کو جمہوریت کا وہ مضبوط ستون نہیں بننے دیتی جو ان کا اصل مقام ہے، اور یہ رویہ نوجوان نسل کو بھی سیاست سے دور رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور اس جمہوری نظام کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں وراثت کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں، کسی کا کوئی نظریہ، کوئی اصول اور کوئی قانون نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے بڑے، ذاتی فائدے کے لیے لین دین کرتے ہیں، ذاتی مفادات کے لیے ملک و قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہیں، کسی کی بات نہیں سنتے، کسی کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے، ذاتی فائدے کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں اور زبردستی ان پر عمل کرواتے ہیں۔ ان کے سامنے کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہے۔
جارج برنارڈ شا نے کہا تھا جمہوریت ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت ہمیں ویسے ہی حکمران ملتے ہیں جس کے ہم لائق ہوتے ہیں۔ لہذا اگر تبدیلی آ سکتی ہے تو اس کا آغاز عوام سے ہی ہو سکتا ہے۔ جب لوگ اپنی انفرادی اور خاندانی زندگیوں میں جمہوریت کو مستقل جگہ دیں گے تو ان کے حکمرانوں کو بھی جمہوریت کا پاس کرنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پورے ملک کی عوام متحد ہوکرصرف کرونا کا مقابلہ کرے اور اگر موجود رہے تو سیاست کا میدان بھی موجود رہیگا اور سیاسی جھگڑے بھی ہوتے رہینگے، حکومتی حلقوں کو بھی یہی بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اگلا الیکشن کارکردگی پہ ہوگا نہ کہ صرف تقریروں سے۔۔۔۔ اس لئے صرف اور صرف پاکستان کے عوام کی خدمت کے لئے سب پارٹیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے تو اس آفت سے نجات ملےگی۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عالمی وبا کے مثبت و منفی اثرات

تحریر؛ زاہدہ حنا کورونا کی عالمی وبا نے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا …