ہفتہ , 26 ستمبر 2020

امریکہ کی ایران کیلئے طبی امداد کی پیشکش کی حقیقت

ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

ایران مشرق وسطیٰ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، جہاں 24 مارچ 2020ء تک کرونا وائرس سے ایک ہزار 800 کے قریب افراد جاں بحق اور 21 ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں، تاہم 9 ہزار کے قریب صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ اس بحرانی صورت حال میں امریکہ نے ایران کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنی میڈیکل ٹیم بھجوانے کی پیشکش کی، لیکن ایران نے امریکہ کی پیشکش کو نہ صرف ٹھکرا دیا بلکہ اس ضمن میں امریکہ کی شیطانی چالوں کو بھی بے نقاب کیا، جبکہ امریکی پاپندیوں کی وجہ سے ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں پر ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس بحرانی صورت حال میں ایران نے امریکہ کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔؟ ہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی حالیہ نشری تقریر کے آئینے میں اس سوال کا جواب سمجھنے کی کوشش کریں گے، مگر اس سے قبل کہ ان وجوہات کو ذکر کریں، ہم اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ ایران نے صرف امریکہ کی پیشکش کو مسترد کیا ہے جبکہ چین اور دیگر ملکوں کی امداد کو ایران نے قبول کر لیا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان کا کردار بھی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس بحران میں مدد کے لیے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی جانب سے خط ملنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمے تک ایران پر عائد معاشی پابندیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اٹھا لی جائیں۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ ایران کے لوگ کورونا وبا کے باعث ناقابل بیان مشکلات کا شکار ہیں اور پابندیوں کے باعث وبا کے خلاف ایرانی حکومت کی کوششیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے انسانی بنیادوں پر پابندیاں ہٹانے کی درخواست کی۔ نیز پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے اپوزیشن رہنماء اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے نام خط میں بھی امریکی پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔ خط میں کہا گیا تھا کہ ایران کو کورونا سے نمٹنے کے لیے ضروری ساز و سامان درکار ہے، تاہم امریکی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس وقت ایران میں کورونا سے ہونے والی اموات کی بنیادی وجہ ضروری سامان اور ادویات کی عدم دستیابی ہے اور یہ پابندیاں بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

امریکی پیشکش مسترد کرنے کی وجوہات:
اب ہم امریکی پیشکش مسترد کرنے کی وجوہات کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے حالیہ نئے ایرانی سال کے موقع پر کیے جانے والے نشری خطاب کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تقریر کے آغاز میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ تمام انسانیت کو اس وبا سے نجات دے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ: ایران کے دشمنوں میں امریکہ سب سے زیادہ خبیث اور کینہ پرور ہے، کیونکہ اس کے حکام کے اندر جھوٹ، بے ایمانی، لالچ، دھونس اور چرب زبانی و مکاری جیسی انواع و اقسام کی اخلاقی برائیاں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا ک

ہ صرف یہی نہیں بلکہ امریکی حکام انتہائی ظالم، دہشتگرد اور پرلے درجے کے بے رحم و سنگدل بھی ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایرانی عوام کے لیے دھوکہ اور فریب پر مبنی امریکی مدد کی متعدد پیشکشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے یہ بیانات مضحکہ خیز ہیں، کیونکہ وہ خود اس بیماری (کرونا وائرس) کی دواؤں اور متعلقہ طبی ساز و سامان کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا بعض امریکی حکام نے کھل کر اعتراف بھی کیا ہے کہ امریکہ میں دواؤں اور طبی سامان کی کمی "وحشتناک” ہے، لہذا (انہیں ہمارا جواب یہ ہے کہ) اگر ان کے پاس وسائل موجود ہیں تو وہ امریکی عوام کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا یہ کہ جب امریکہ اس خطرناک وائرس کے بنائے اور پھیلائے جانے کا "ملزم” ہے تو کون سا عقلمند شخص امریکی حکام کی مدد کو قبول کرسکتا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکی حکام کسی طور اعتماد کے قابل نہیں، کیونکہ عین ممکن ہے کہ امریکہ سے بھیجی جانے والی امدادی دوائیں ایران میں اس وائرس کو مزید پھیلانے یا لمبے عرصے تک باقی رہنے کا باعث بنیں یا ان کی طرف سے بھیجے جانے والے طبی ماہرین ایرانی عوام پر اس وائرس کے اثرات کی تحقیق کرنے کا ہدف رکھتے ہوں، کیونکہ اس وائرس کے بارے میں محققین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس کی ایک قسم خصوصی طور پر ایرانی عوام کے لئے بنائی گئی ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسلامی نظام حکومت کے ساتھ عالمی استکباری طاقتوں کی 40 سالہ دشمنی کے تجربے اور ایران کے اندر ان دشمنیوں اور مشکلات سے مقابلے کی موجود بھرپور صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر خداداد صلاحتیں بہت زیادہ ہیں، جبکہ انہیں ٹھیک طرح پہچاننے اور ان سے بہتر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں عالمی وبا "کرونا وائرس” سے بچاؤ کے حوالے سے طبی ہدایات پر عملدرآمد کو "شرعی ذمہ داری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان طبی ہدایات پر عملدرآمد کی خاطر حتی دینی اجتماعات اور اہلبیت علیہم السلام کے حرم مبارک بھی بند کر دیئے گئے ہیں، جبکہ پوری تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور رستہ موجود نہیں تھا اور اسی میں عوام کی مصلحت پوشیدہ ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

محمد علی جناح: معاملہ بانی پاکستان کی ایک روپیہ تنخواہ اور دو بار نمازِ جنارہ کا

عقیل عباس جعفری بانی پاکستان محمد علی جناح کی وفات صرف 72 سال پرانا واقعہ …