منگل , 11 مئی 2021

کرونا وائرس، اخلاقی اور روحانی پہلو

ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے وحشت آفرین پھیلاؤ سے ایک بار پھر آشکار ہوگیا کہ انسان بہت کمزور ہے اور اس کائنات کے اوپر حکم فرما ایک بہت بڑی طاقت ہے، جس کے سامنے امریکہ، روس، چین جیسی طاقتیں کمزور ثابت ہوئی ہیں اور جو خزاں رسیدہ پتوں اور شاخوں کی طرح بکھرتی اور لرزاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے، دوسری طرف اسی گلوبل ولیج میں پھیل جانے والی اس بیماری نے ظاہر کر دیا ہے کہ کائنات میں ایک ہی طاقت ہے اور وہ اللہ واحد قھار کی طاقت ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کی حدود کتنی تھیں، آج ہم پوچھتے ہیں کہ کرونا کے طوفان کی حدود کتنی ہیں۔ انسانوں کے وسائل، ان کی دولت، ان کے ہسپتال، ان کے لشکر، ان کے روابط، ان کے میڈیا کی طاقت، سب اس کے سامنے بے بس اور لاچار دکھائی دیتے ہیں۔ سب کمزور اور بے حیثیت ہوگئے ہیں، بڑے بڑے ماہرین حیران و پریشان کھڑے ہیں۔

قرآن کریم میں انسان کے بارے جو کچھ فرمایا گیا ہے، ایک ایک کرکے سامنے آرہا ہے اور حق ثابت ہوئے چلا جا رہا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: خُلِقَ الإِنْسَانُ ضَعِيفً (سورة النساء۔ آيت 28) "انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔” إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا "انسان یقیناً کم حوصلہ خلق ہوا ہے۔” اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا (سورۃ المعارج۔ ۱۹و۲۰) "جب اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو فریاد کناں ہو جاتا ہے اور گھبرا جاتا ہے۔” یہی وہ انسان ہے کہ جب اس کے پاس خیر کے وسائل ہوتے ہیں تو انہیں دوسروں سے روک دیتا ہے، اُن پر پابندیاں عائد کر دیتا ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا (سورۃ المعارج ۔۲۱) امریکہ نے اس وائرس کے مقابلے کے لیے دو ٹریلین ڈالر (دو ہزار ارب ڈالر) وقف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹریلین ڈالرز کی اکانومی برباد ہو رہی ہے، ساری تجارتی سرگرمیاں دم توڑ گئی ہیں اور اللہ کی عظمت، اس واحد قہار کی عظمت اور اس عزیز و جبار کی عظمت نمایاں ہوگئی ہے۔ کیا اب وہ دن نہیں آگیا کہ ہم کہیں کہ اس کائنات کے اوپر ایک اور طاقت ہے، جو ارادہ کرتی ہے تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے، اس کا ارادہ نافذ ہے۔

حکمران بھول گئے ہیں کہ ان کے ترقی کے کیا کیا منصوبے تھے۔ فوجیں، ڈاکٹرز، اقتصاد دان سب کے سب اس کے سامنے عاجز کھڑے ہیں۔ اس عظیم طاقت جس کے سامنے انبیاء و اولیاء کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے، ان پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔ پس مرنا ہے یا جینا ہے، ہمیں چاہیئے کہ اس عزیز و قہار ذات پر حقیقی ایمان لے آئیں اور اس کی منشاء کے خلاف کوئی قدم نہ اُٹھائیں۔ استکباری طاقوں نے دولت کمانے کے لیے کمزور لوگوں پر اور ضعیف قوموں پر ستم ڈھائے ہیں اور آبادیوں کو ویران کرتے رہے ہیں۔ اربوں کھربوں ڈالر جمع کیے، لیکن آج یہ ڈالر ان کے کسی کام نہیں آرہے۔ امریکہ نے ظلم کرکے، اسلحہ فروخت کرکے، بارود بیج کر، انسانوں کو تباہ کرکے یہ پیسے جمع کیے تھے، کمزور قوموں کے تیل کے کنوں پر قبضہ کرکے، حکمرانوں کو ڈرا دھمکا کر، جو پیسے جمع کیے تھے، وہ اب اس وائرس کو روکنے کے لیے خرچ کر رہا ہے، لیکن وائرس ہے کہ پھیلتا چلا جارہا ہے۔ یہ لوٹی اور چھینی ہوئی دولت اس کے کسی کام نہیں رہی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: مَآ اَغْنٰى عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا كَسَبَ ( سورۃ تبت۔۲) "نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔”

اب جبکہ یہ وحشتناک وباء عالمگیر ہوگئی اور اس نے کسی کو نہیں چھوڑا تو ایسے میں انسان کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنا رخ تبدیل کرے، اپنا قبلہ درست کرے، چونکہ اس وائرس کے سامنے ساری قومیں ایک جیسی ہوگئی ہیں، سرحدیں مٹ گئی ہیں اور یہ وائرس ایک قوم سے دوسری قوم تک بہت تیزی سے پہنچ چکا ہے، نتیجے میں سارے انسان ایک جیسے ہوگئے ہیں۔ نیک بھی اور بد بھی، سب اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کو قوموں اور اوطان میں تقسیم کیا ہوا نظام، سارے کا سارا بے معنی ہوگیا ہے۔ لہذا آئیے یہ مان لیں کہ انسانوں کی یہ تقسیم درست نہیں ہے۔ ایک اللہ ہے اور باقی سب اس کے بندے ہیں۔ اس وقت وہ لوگ جو مصیبت میں مبتلا ہیں، ان کے صبر کا امتحان ہے۔ ان کے لیے توجہ الی اللہ کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہیئے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنی عبودیت کا اقرار کریں۔ آج ضرورت ہے کہ ہم شعور و معرفت کے ساتھ، اللہ کی عبادت کی طرف لوٹ آئیں۔

آج صدیوں سے جاری خانہ کعبہ کے گرد روحانیت و معرفت سے خالی طواف بے معنی ہوگیا ہے، چونکہ یہ اللہ کی قہاریت سے غافل انسان کے نصیب کا چکر تھا، طواف نہ تھا۔ اب عبادت گاہوں کو اللہ کی معرفت، اس کے خوف اور خشیت کے ساتھ نئے سرے سے آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سے اب جبکہ انسانیت پر مصیبت کی گھڑی ہے، ہر آدمی کا نئے سرے سے امتحان شروع ہوگیا ہے۔ کیا آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلا سکتے ہیں، کسی بیمار کا علاج کرسکتے ہیں، کسی کو بچا سکتے ہیں، کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔؟ کیا ہم اس آزمائش میں پورا اترتے ہیں کہ نہیں۔؟ علماء پوری انسانیت کے لیے دعا کر رہے ہیں، بشریت کے لیے نالہ و فریاد کر رہے ہیں۔ اس وائرس نے مذاہب و ادیان کا فرق بھی ختم کر دیا ہے اور پھر سے ایک خدا اور ایک بندے والا تصور آشکار ہوگیا ہے، چونکہ اللہ کہتا ہے کہ سارے انسان امت واحدہ ہیں اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ سب امت واحدہ ہوگئے ہیں۔ وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً "انسان تو سب پہلے اُمت واحدہ تھے۔” (سورہ یونس، ۱۹)

یہ ابتلاء پوری دنیا کے لیے طوفان نوح بن گئی ہے، پادری بھی مر رہے ہیں، علماء بھی مر رہے ہیں، حکمران بھی مر رہے ہیں، سیاست دان بھی مر رہے ہیں، ڈاکٹر بھی مر رہے ہیں اور سب ایک طرح سے اس وبا کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے میں آئیں ہم سب ایک ہو جائیں اور ایک مرکز کی طرف آگے بڑھیں۔ وہی مرکز جو روح انسانی کا ارمان ہے۔ انسانی فطرت میں ہمیشہ یہ تمنا رہی ہے کہ دنیا میں ظلم کا خاتمہ ہو۔ انسان اپنے ضمیر کی آواز سنے تو وہ کہتی ہے کہ سب انسان ایک ہیں۔ اللہ کے نبی یہی پیغام لے کر دنیا میں آتے رہے۔ آخرکار دنیا میں اُن کے پیغام کی صداقت کو ثابت ہونا ہے۔ آج یہی صداقت بہ انداز دگر ثابت ہو رہی ہے۔ قرآن اور آخری رسول کا وعدہ ہے کہ آخرکار دنیا پر دین کا غلبہ ہوگا اور پسے ہوئے محروم انسانوں کو اللہ اس دنیا پر حکمرانی عطا کرے گا۔ وہ اس دھرتی پر عدل الہیٰ کی حکمرانی قائم کریں گے۔ اس کے لیے پوری دنیا کے انسانوں کو بیدار ہونا ہے، تاکہ وہ شعور کے ساتھ ایسی حکمرانی برپا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ روح انسانی کے اسی ارمان کو ہم مہدویت سے تعبیر کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …