جمعہ , 14 مئی 2021

کرونا وائرس اور بدلتی عالمی مساواتیں

سجاد صادقی

کرونا وائرس دنیا کے اکثر ممالک میں پھیل چکا ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس صرف انسانوں کو ہی متاثر نہیں کر رہا بلکہ عالمی سطح پر تعلقات عامہ میں بھی بڑی اور بنیادی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ کرونا وائرس کی حالیہ وبا سے ثابت ہو گیا ہے کہ صرف جوہری ہتھیار اور فوجی طاقت ہی عالمی سیاسی مساواتوں پر موثر نہیں ہیں بلکہ طاقت کے اس پزل میں حیاتیاتی ہتھیار بھی اہم اور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ بعض ماہرین کی نظر میں حیاتیاتی ہتھیار حتی جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ موثر واقع ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر روک تھام کے ہتھکنڈے (Tools of Deterrence) اسی قسم کے ہتھیار ہیں جو بین الاقوامی کھلاڑیوں کی بقا کو خطرے میں ڈال کر انہیں کسی قسم کے جارحانہ اقدام سے گریز کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ دیکھا گیا ہے دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاو نے مختلف ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیز کی سکیورٹی اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اقوام عالم کے دل میں خوف ایجاد کر دیا ہے۔

لہذا توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں عالمی طاقتوں نیز دہشت گرد گروہوں کی جانب سے عالمی سطح پر بائیوٹیروریزم حملے پہلی ترجیح حاصل کر جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور دیکھ بھال کے اخراجات کم ہونا بھی ہے۔ دوسری طرف اس خدشے کے پیش نظر دنیا کے ممالک ممکنہ بائیوٹیروریزم حملوں سے مقابلے کیلئے مخصوص یونٹس کی تشکیل پر سب سے زیادہ توجہ دیں گے اور ان ممالک کے فوجی و سکیورٹی ادارے حیاتیاتی جنگ سے مخصوص مہارتوں کو بنیادی اہمیت دیں گے۔ یوں جو ملک بھی حیاتیاتی جنگ اور حملوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو گا مستقبل کی دنیا میں زیادہ طاقتور اور کامیاب تصور کیا جائے گا۔ اس کے برعکس جو ملک بھی بائیوٹیروریزم اور حیاتیاتی جنگ کے میدان میں کمزور صلاحیتوں کا مالک ہو گا مستقبل میں انتہائی شدید اور پیچیدہ مشکلات سے روبرو ہو گا۔ ایسی مشکلات جن پر قابو پانے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث ایک ملک میں حتی حکومت کی تبدیلی اور بغاوت کا امکان بھی پایا جاتا ہے۔ لہذا کرونا وائرس نے دنیا بھر کے ممالک کی دفاعی پالیسیوں میں نئے افق پیدا کر دیے ہیں۔ حتی مختلف ممالک کی قومی سلامتی سے متعلق بھی نت نئے ایشوز نے جنم لیا ہے۔

اس منظرنامے میں توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی سطح پر کرونا وائرس کے پھیلاو کے خاتمے کے بعد بائیوٹیروریزم سے مقابلے کی صلاحیتوں کے ناطے چین کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ اسی طرح مشرقی ایشیا کی اقتصادی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ اس کی وجہ اس خطے میں دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت پروڈکشن کے اخراجات کم ہونا اور سستی انرجی کے ذخائر کی موجودگی ہے۔ لہذا مستقبل میں عالمی تعلقات عامہ میں مشرقی ایشیا خطے کی پوزیشن بہت حد تک مضبوط ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف مغربی دنیا کی تجارتی منڈیوں خاص طور پر وال اسٹریٹ میں شدید گراوٹ اور کرونا وائرس سے مقابلہ کرنے کیلئے موثر انفرااسٹرکچر کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں زیادہ قابل مشاہدہ ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں امریکہ اور مغربی ممالک مشرقی ایشیائی ممالک سے اقتصاد کے شعبے میں مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ اسی طرح ان ممالک میں سماجی اور اقتصادی میدان میں کرونا وائرس کے اثرات آئندہ چند برس تک جاری رہیں گے جس کے باعث وہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن بھی کھو سکتے ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلاو اور بین الاقوامی سیاست اور اقتصاد پر اس کے گہرے اثرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے چند برس میں ایسے ممالک بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آئیں گے جو اس وائرس سے پیدا شدہ مشکلات پر قابو پانے کی بہتر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ یوں بائیوٹیروریزم کے مقابلے میں دفاع اور حیاتیاتی ہتھیار بین الاقوامی سکیورٹی میں بنیادی اہمیت کے حامل ہو جائیں گے۔ آج کے بعد عالمی رہنماوں کے بیانات اور تقاریر میں یہ اصطلاحیں زیادہ سننے کو ملیں گی۔ یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ بائیوٹیروریزم اور حیاتیاتی ہتھیار صرف وائرس کے پھیلاو تک محدود نہیں بلکہ اس میں مختلف قسم کا غذائی مواد اور حتی لباس بھی شامل ہے۔ یہ مصنوعات دشمن ممالک کی افرادی قوت کو نقصان پہنچا کر اس کی اقتصاد کو دھچکہ پہنچانے کیلئے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ زراعتی محصولات اور مویشیوں کی غذاوں میں جینیاتی تبدیلیاں (Genetic engineering) بھی بائیوٹیروریزم کا ایک مصداق ہے۔ یہ ایسا خطرناک حیاتیاتی ہتھیار ہے جس سے غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ جینیاتی طور پر تبدیل ہوئی مصنوعات درحقیقت ایسا ہتھکنڈہ ہے جو انتہائی آسانی سے ایک قوم کی پیداورانہ صلاحیتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس ہتھکنڈے کے ذریعے ایک خاص قوم کی ذہانت کا درجہ کم کیا جا سکتا ہے یا ان میں ایک خاص قسم کی بیماری پھیلائی جا سکتی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …