بدھ , 12 مئی 2021

ایران نے جنگ یمن کے خاتمے کا پھر مطالبہ کر دیا

ایران کا کہنا ہے کہ یمن بڑے انسانی الیمے کا سامنا کر رہا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے یمن پر گزشتہ پانچ سال سے غیر ملکی فوجیوں کے حملوں اور اس غریب عرب ملک کے جاری محاصرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن کو بڑے انسانی المیے کا سامنا ہے۔

انہوں نے جمعرات کو کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران یمن پر غیر ملکی فوجیوں کی جارحیت اور اس غریب عرب ملک کے ظالمانہ ہوائی، زمینی اور سمندری محاصرے نے اس ملک کے عوام تک امداد کی ترسیل کے سارے راستے بند کر دیئے ہیں اور اب یمن میں کمترین امکانات اور بدحال انسانی تصورتحال کے پیش نظر تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کورونا وائرس سے مقابلے کے لئے زیادہ سے زیادہ آمادگی کے لئے یمن سمیت دنیا کے تمام علاقوں میں جنگ بندی کے آغاز کے لئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی تجویز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران یمن میں جنگ بندی اور اس غریب عرب ملک کے محاصرے کے خاتمے کے لئے پیش ہونے والی ہر تجویز کا استقبال کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …