منگل , 11 مئی 2021

روس نے 7 جنگی جہاز چینل اور نارتھ سی بھیج دیئے، برطانوی بحریہ الرٹ

لندن: کورونا وائرس کی وبا کے دوران روس نے رائل نیوی کو الرٹ کردیا۔ رائل نیوی کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز چینل اور نارتھ سی میں7روسی جنگی جہازوں کا پتہ چلایا گیا، جس پر رائل نیوی کے زمانہ جنگ کے جہازوں کے ذریعے 7 روسی جنگی جہازوں کی مانیٹرنگ کا، جو اس کی ساحلی حدود کے نزدیک غیر معمولی طورپر بڑے پیمانے پر سرگرمیوں میں مصروف تھے، آپریشن مکمل کیا، یہ خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی جب برطانوی بحریہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے این ایچ ایس اور حکومت کے دیگر اداروں کی مدد کرنے کی تیاری کررہی تھی۔

چینل اور نارتھ سی میں نظر آنے والے روسی جہازوں کی مانیٹرنگ کے آپریشن میں بر طانیہ کے9جنگی جہازوں نے حصہ لیا، جن میں ٹائپ 23 فریگیٹس ایچ ایم ایس کینٹ، ایچ ایم ایس سودر لینڈ، ایچ ایم ایس آرگل، ایچ ایم ایس رچمنڈ شامل تھے، جو بڑے پیمانے پر آپریشن کیلئے سمندر میں گشت میں مصروف ایچ ایم ایس ٹائن اور ایچ ایم ایس مرسی کے ساتھ آر ایف اے ٹائیڈ فورس، آر ایف اے ٹائیڈ اسپرنگ اور ایچ ایم ایس ایکو کےساتھ شامل ہوگئے، ان کو نیٹو کی بھی مدد حاصل تھی۔ ایچ ایم ایس ٹائن کے ایگزیکٹو افسر لیفٹیننٹ نک وارڈ نے بتایا کہ نیوی کیلئے کورونا وائرس کے باوجود برطانیہ کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری پوری کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ مسلح افواج برطانیہ میں انسانی زندگیوں کوبچانے کیلئے این ایچ ایس کی مدد کررہی ہیں لیکن نیوی کیلئے اس کے ساتھ ہی برطانیہ کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی ہمیشہ پوری کرتے رہنا بھی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایچ ایم ایس ٹائن کی یہ معمول کی ذمہ داری ہے، یہ ضروری ہے کہ نیوی اپنی وہ ذمہ داریاں پوری کرتی رہے، جو اسے سونپی گئی ہیں۔

اس بڑے آپریشن کے دوران رائل نیوی کے فضائی عملے کے ارکان اور سیلرز نے جدید ترین راڈار، نگراں کیمروں اور سنسرز کی مدد سے روسی جنگی جہازوں کی نقل وحرکت کی مانیٹرنگ کی۔ انھوں نے برطانوی جزائر میں روس کے جنگی جہازوں کی رفتار کا بھی پتہ چلا لیا، اس کارروائی میں نیول اسکواڈرن میں شامل مرلن اور وائلڈ کیٹ ہیلی کاپٹر 814 اور 815 نے بھی حصہ لیا، پورٹس مائوتھ میں تعینات ایچ ایم ایس ٹائن نے بحری چیلنجوں کے پیش نظر ایک ہفتہ سے زیادہ انگلش چینل میں کام کیا اور جنوبی ساحل کی جانب سے گزرنے والے روسی جنگی جہازوں پرگہری نظر رکھی۔ انھوں نے آپریشن کے دوران 3 اسٹیری گوشی کلاس کے کرویٹس، 2 رووچا کلاس لینڈنگ شپس اور 2 ایڈمرل گریگورووچ کلاس کے فریگیٹس دیکھے۔ روس کے معاون اضافی جہاز اورٹگز بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس سے قبل فروری میں رائل نیوی کے گشتی جہاز نے 3 روسی جاسوس جہازوں فیوڈور گولوون، لینڈنگ جہاز الیگزنڈر اوسٹراکووسکی اور ٹینکر یلنیا کو فشری پروٹیکشن توڑنے پر انگلش چینل سے باہر نکالا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …