منگل , 18 مئی 2021

ترکی: بڑے تاجروں نے ایردوآن کو معیشت کے زمین بوس ہونے سے خبردار کر دیا

ترکی میں بڑی کاروباری شخصیات اور صنعت کاروں نے صدر رجب طیب ایردوآن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی روک تھام اور معیشت کے پہیّے کو دوبارہ حرکت میں لانے کے لیے زیادہ ٹھوس اقدامات کریں۔ ان افراد نے خبردار کیا ہے کہ بے یقینی کے سائے میں معیشت کو دشوار انجام کا سامنا ہو گا۔ترکی میں "ٹوسائڈ” بزنس گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے صدر ایردوآن کو ایک تحریری خط بھیجا گیا ہے۔ اس سے قبل ایردوآن نے معیشت کو سپورٹ کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کمی اور ادائیگی میں التوا پر مشتمل 100 ارب لیرہ (15.4 ارب ڈالر) کے ایک پیکج کا اعلان کیا تھا۔مذکورہ خط میں کاروباری شخصیات اور صںعت کاروں نے کہا ہے کہ ترکی کو اس وقت حکومت کی جانب سے ایک بڑے سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ اس طرح کرونا وائرس کے نتیجے میں ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔ یہ بات باخبر ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بلومبرگ نیوز ایجنسی کو بتائی۔

ترکی میں ہزاروں کمپنیوں نے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اس دوران ترک صنعت کاروں کے درمیان اعتماد کی سطح بھی کم ہو گئی ہے۔ باوجود یہ کہ ترکی میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3629 ہے جو ابھی تک نسبتا معتدل تناسب ہے۔کریڈٹ ریٹنگ کی ایجنسی Fitch کے مطابق سیاحت کے شعبے کی آمدنی اور برآمدات کے لیے غیر ملکی مانگ میں ممکنہ کمی کا خسارہ ،،، تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آمدنی سے بڑھ جائے گا۔ موڈیز انویسٹرز سروس کمپنی کا کہنا ہے کہ رواں سال اپریل سے ستمبر کے درمیانی عرصے میں مجموعی مقامی پیداوار میں سکڑاؤ کا تناسب 7% تک پہنچ سکتا ہے۔واضح رہے کہ "ٹوسائڈ” بزنس گروپ کی جانب سے زیر بحث آنے والے حلوں میں ایک یہ بھی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار سست کرنے کے لیے ملکی سطح پر سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا جائے۔استنبول کے میئر اکرم امام اولو نے جمعرات کے روز یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار دھیمی کرنے کے واسطے ملک کے سب سے بڑے شہر کو لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

کورونا وبا؛ مزید 135 افراد جاں بحق، مجموعی اموات کی تعداد 19 ہزار 752 ہوگئی

اسلام آباد: کوروناوبا کے باعث مزید 135 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ فعال کیسز …