جمعہ , 7 مئی 2021

پاکستان نے مالی اعانت کے لئے آئی ایم ایف سے مدد طلب کرلی

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مالی مدد کیلئے باقاعدہ درخواست دے دی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان نے ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کو مالی مدد کے لئے باقاعدہ درخواست دے دی ہے، اور اس حوالے سے ایم ڈی آئی ایم ایف ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی طرف سے دی جانے والی امداد کی درخواست کے جواب میں تیزی سے کام کر رہی ہےتاکہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے ذریعہ جلد سے جلد کسی تجویز پر غور کیا جاسکے۔

ایم ڈی آئی ایم ایف ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے عوام اور معیشت کو فوری اور مناسب ریلیف کو یقینی بنانے کے لئے آئی ایم ایف سے مالی اعانت کی درخواست کی ہے، ہنگامی مالی اعانت پاکستان کو ادائیگیوں کی ضروریات اور اعانت کی پالیسیوں کے اضافی اور فوری توازن کو حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی، اس سے معاشرتی تحفظ ، روزانہ اجرت کمانے والے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام سمیت پاکستان کے سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں تیزی سے فنڈز کی فراہمی ممکن ہوجائے گی۔کرسٹالینا جورجیوا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایکسٹنڈد فنڈ فسیلٹی پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحات پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں، جس سے تمام پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا اور ان اصلاحات پر عملدرآمد سے ہونیوالی ترقی سے پاکستان کے پسماندہ ترین طبقے کو سب سے زیادہ فائد ہوگا، آئی ایم ایف مستحکم اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے معاشی اور ساختی اصلاحات کی بہتری کے لئے کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے۔

ایم ڈی آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ حکام نے پاکستان کے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنی اصلاحی کوششیں جاری رکھی ہیں لیکن کورونا وائرس کے پھیلنے کے تباہ کن اثرات اور عالمی معاشی و مالی حالات میں بگاڑ کی وجہ سے شدید خطرہ ہے، وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے فوری طور پر معاشی محرک پیکج کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد وائرس کو پھیلانا اور متاثرہ خاندانوں اور کاروبار کو مدد فراہم کرنا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسیوں کی شرح کو کم کرنے ، قرضوں کے بہاؤکو معاونت کرنے کے لئے نئی ری فنانسنگ سہولیات اور عارضی ریگولیٹری امدادی اقدامات سمیت دیگر بروقت امدادی اقدامات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …