ہفتہ , 8 مئی 2021

کرونا وائرس، امریکی بالادستی کیلئے چینی ماڈل کا چیلنج

رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

چینی شریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین کے صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیشکش کی ہے کہ چین تمام معلومات اور تجربہ واشنگٹن کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے، چین اور امریکا کے تعلقات ایک نازک موڑ سے گزر رہے ہیں، باہمی تعاون دوطرفہ فائدہ مند اور واحد صحیح انتخاب ہے، مجھے اُمید ہے کہ امریکا، چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا اور دونوں فریق ایک ساتھ مل کر اس وبا سے لڑنے میں تعاون کو مضبوط بنا سکتے ہیں، چین کے بعض صوبوں، شہروں اور کمپنیوں نے بھی امریکا کو طبی سامان اور مدد فراہم کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان کورونا وائرس سے متعلق الزام تراشیوں کا معاملہ چند روز سے خبروں کی شہ سرخیاں بنا ہوا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کورونا کو چینی وائرس قرار دینے پر فرانس میں چین کے سفارتخانے نے کہا تھا کہ دراصل یہ وائرس امریکا سے شروع ہوا تھا۔ چینی سفارتخانے نے سوال اٹھایا تھا کہ گزشتہ برس ستمبر میں (امریکا) میں شروع ہونے والے فلو کی وجہ سے 20 ہزار اموات میں کتنے مریض کورونا وائرس کے تھے؟۔

اسی طرح فرانس میں چینی سفارت خانے نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ امریکا نے گزشتہ جولائی میں اپنے سب سے بڑے بائیو کیمیکل ہتھیار کی ریسرچ لیب سینٹر کو اچانک کیوں بند کیا جو میری لینڈ میں فورٹ ڈیٹرک اڈے پر واقع ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے متعدد مرتبہ چینی وائرس کا حوالہ دے کر بیجنگ پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ واضح رہے کہ عام تصور موجود ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا چین کے شہر ووہان سے ہوئی۔ اس کے بعد سے یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے جس کی وجہ سے حکومتیں اس وبا کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کررہی ہیں۔ اس سے قبل اتوار کے روز امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ چین سے تھوڑا سا پریشان ہیں، انہیں ہمیں (وائرس) کے بارے میں بتانا چاہیے تھا۔ رواں ماہ کے شروع میں بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں الزام لگایا تھا کہ امریکی فوج وائرس ووہان لائی تھی۔ اس کے جواب میں امریکا نے چین کے سفیر کو طلب کیا اور الزام لگایا تھا کہ وہ چین پر سازش کے نظریات کو پھیلانے اور عالمی وبائی بیماری شروع کرنے اور دنیا کو نہ بتانے کے اپنے کردار پر تنقید کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب چین سے پھیلنے والی وبائی مرض نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لیکن دنیا کے پسماندہ ممالک، علاقوں میں اس کی رپورٹس کم ہیں، مغربی ممالک اور ترقی یافتہ اقوام میں کیسز نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ کینیڈا کی خاتونِ اول، برطانوی شہزادے اور اب بورس جانسن میں بھی علامات ظاہر ہو چکی ہیں۔ اس کے مقابلے میں افریقہ، یمن، شام اور کم ترقی یافتہ ممالک میں شرح اور رفتار کم ہے۔ اس کی ایک وجہ گرمی اور ٹیسٹوں کی سہولت کا نہ ہونا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ترقی پذیر اور غریب ممالک میں یہ مرض پھیل چکا ہو لیکن ابھی تک رپورٹ نہ ہوا ہو۔ لیکن ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کے تازہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وبا سب سے زیادہ تیزی سے یورپی ممالک اور پھر امریکا میں پھیل رہی ہے،جب کہ اس کی رفتار ایشیائی ممالک سمیت افریقی ممالک میں تاحال سست ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی تاحال کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کو ریکارڈ نہیں کیا گیا، یہاں تک وہاں کے خانہ جنگی کے شکار ممالک شام و لیبیا جیسے ممالک میں بھی کورونا کے کیسز دیگر ممالک کے مقابلے کم آ رہے ہیں۔ اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے بھی متعدد ممالک میں کورونا کے کیسز کی شرح انتہائی کم ہے، ایسے ممالک میں چین، بھارت، روس، انڈونیشیا و تھائی لینڈ جیسے مملاک سے زمینی سرحدی رکھنے والا ممالک لاؤس، منگولیا، شمالی تیموریہ و میانمار جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی طرح جنوبی ایشیائی ممالک نیپال و بھوٹان میں بھی 27 مارچ کی صبح تک تین تین کیسز سامنے آئے تھے جب کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک افغانستان، بنگلہ دیش و سری لنکا میں بھی پاکستان و بھارت کی طرح کیسز میں کچھ تیزی دیکھی جا رہی ہے تاہم پھر بھی ان ممالک میں کیسز کی رفتار یورپی ممالک سے کہیں کم ہے۔

مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک میں کرونا وباء کے پھیلنے کی رفتار اعداد و شمار کی روشنی میں:
کورونا وائرس کے اعداد و شمار دینے والے آن لائن میپ سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ہفتے کے آغاز تک ایران یورپی ممالک اٹلی اور اسپین کے بعد کورونا سے متاثر سب سے بڑا ملک تھا مگر 27 مارچ کی صبح تک ایران 8 ویں نمبر پر آگیا تھا اور ایران سے پیچھے رہنے والے امریکا، جرمنی اور فرانس بھی اس سے آگے نکل چکے تھے۔

ایران:
اگر ایک ہفتے سے قبل کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایران اس وقت کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے اسپین سے بھی آگے تھا اور ایک وقت تھا جب ایران وبا کے مریضوں کے حوالے سے چین کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ اگرچہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ایران سے نئے کیسز نہ آنے کی کیا وجوہات ہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں ٹیسٹ کا عمل سست روی کا شکار ہونے سمیت وہاں کا گرم موسم بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔ ایران میں 27 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد 29 ہزار سے زائد اور ہلاکتوں کی تعداد 2200 سے زائد تھی اور یہ تعداد ایشیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

چین:
چین سے تو رواں ماہ مارچ کے آغاز میں ہی کورونا وائرس کے نئے کیسز آنا کم ہوگئے تھے اور پھر ایک ایسا دن بھی آیا جب کہ کورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے چینی شہر سے ایک بھی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا جس کے بعد ووہان سے لاک ڈاؤن ہٹانے کا آغاز کردیا گیا اور اس وقت جب کہ پوری دنیا لاک ڈاؤن ہے، وہیں چین معمولات زندگی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ چین میں اب تک کورونا سے 81 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 3100 سے کچھ زیادہ ہے جب کہ وہاں 95 فیصد تک مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

جنوبی کوریا:
چین کے بعد ابتدائی طور پر جنوبی کوریا میں ہی کورونا کے کیسز سامنے آئے تھے اور فروری کے آغاز میں ہی جنوبی کوریا و ایران میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے تھے، تاہم بعد ازاں جنوبی کوریا نے حیران کن طور وبا پر قابو پالیا، یہاں تک اس نے انتہائی کم عرصے میں سب سے زیادہ ٹیسٹ بھی کیے۔ جنوبی کوریا نے وبا کے پھیلنے کے آغاز میں ہی جزوی لاک ڈاؤن کرنے سمیت مشکوک افراد کے ٹیسٹ کیے اور ملک میں داخل ہونے والے ہر بیرون ملک سے آنے والے شخص کی ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کرکے ہر کسی کو 15 دن تک گھر تک محدود کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی کوریا نے چین سے بھی زیادہ تیزی سے وبا پر قابو پایا۔ جنوبی کوریا میں 27 مارچ کی صبح تک کورونا کے مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی کم تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد صرف 139 تھی۔

تائیوان:
اگرچہ تائیوان کورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے چین کی خودمختار ریاست ہے، تاہم حیران کن طور پر وہاں چین کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بھی کم کیسز رپورٹ ہوئے۔
کورونا وائرس سے سب سے زیادہ چین کا صوبے ہوبے متاثر ہوا تھا، تاہم چین کے دیگر صوبوں میں بھی کورونا کے بہت سارے کیسز سامنے آئے اور یہاں تک چین کے ماتحت ہانگ کانگ میں بھی 600 کے قریب کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے لیکن اس کے بر عکس تائیوان میں صرف 267 کیسز سامنے آئے۔ تائیوان نے بھی کورونا کے سامنے آتے ہی حفاظتی انتظام تیز کرتے ہوئے بیماری کی علامات والے افراد کو گھروں تک محدود کردیا جب کہ مشکوک افراد کے بروقت ٹیسٹ بھی کیے۔ علاوہ ازیں تائیوان نے چینی ماڈل سمیت جنوبی کوریا کے ماڈل کو بھی اپنایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ بیرون ممالک سے آنے والا ہر شخص 15 دن تک گھر میں محدود رہے۔ اس ضمن میں تائیوان نے بھی ہر شخص کی ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی اور ہر شخص پر ان کے موبائل فون کی مدد سے نظر رکھی اور جس بھی شخص کا موبائل 15 منٹ سے زیادہ بند ہوتا تو اسے سخت وارننگ دینے سمیت دوبارہ ایسا کرنے پر گرفتاری کا خوف بھی دیا گیا، جس وجہ سے وہاں سے کورونا کے کیسز آنا کم ہوئے۔

جاپان:
کورونا کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے، ایسے میں جاپانی لوگ سالانہ چیری بلاسم فیسٹیول میں بھی دیکھے گئے اور تو اور جاپانی حکومت نے عالمی تنقید کے باوجود اولمپکس کا بھی انعقاد کردیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے ملتوی کردیا گیا۔ جاپان میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر ایشیائی ممالک کی طرح کم ہے، اور وہاں بھی 27 مارچ کی صبح تک کورونا کے صرف 1387 کیس سامنے آئے تھے۔ جاپان میں بھی حفاظتی اقدامات کے پیش نظر لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں، جب کہ وہاں بھی ٹیسٹ کی رفتار سست ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہے، تاہم مجموعی طور پر جاپانی حکومت کورونا کے حوالے سے اتنی پریشان دکھائی نہیں دے رہی۔

پاکستان:
بدقسمتی سے کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کا شمار ایشیا کے ان ممالک میں ہے جہاں ایران کے بعد تیزی سے کیسز سامنے آئے اور گزشتہ ہفتے پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کے سامنے آنے میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا۔ پاکستان میں بھی کورونا سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں کہیں جزوی تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن ہے جب کہ مذہبی اجتماعات پر پابندی سمیت ٹرانسپورٹ و کاروباری اداروں کو بھی بند کردیا گیا ہے، تاہم وہاں بھی ٹیسٹ رفتار سست ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ پاکستان میں 27 مارچ کی دوپہر تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1257 تک جا پہنچی تھی اور وہاں 9 اموات ہوچکی تھیں۔ پاکستان میں ایران کے بعد خطے میں تیزی سے نئے کیس سامنے آ رہے ہیں اور اس کی وجہ ماہرین ٹیسٹ عمل کی تیزی بھی قرار دیتے ہیں، پاکستان میں اپنے قریبی ممالک، افغانستان، بھارت وبنگلہ دیش سے زیادہ کیسز ہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں اس سے زیادہ کیسز سامنے آئیں گے۔

بھارت:
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت سے بھی کورونا وائرس کے مریضوں کے آنے کا سلسلہ کافی سست ہے اور وہاں پر 27 مارچ کی صبح تک کورونا کے 753 مریضوں کی تصدیق کی گئی تھی۔ بھارت میں جہاں کورونا کے نئے کیسز آنے کی رفتار سست ہے، وہاں اس مرض سے ہلاکتوں کی رفتار پاکستان سے بھی تیز ہے اور وہاں 27 مارچ تک کورونا وائرس کے باعث 20 افراد کی موت ہوچکی تھی۔ امریکی میگزین فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں کورونا کے کیسز کے کم سامنے آنے کی وجہ وہاں پر ٹیسٹ میں سستی بھی ہے، کیوں کہ بھارت میں 20 مئی تک صرف 15 ہزار کے قریب افراد کا ٹیسٹ کیا جا چکا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگر ہر 15 ہزار افراد میں سے یوں ہی 753 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی تو بھارت کے لیے حالات کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ بھارت نے بھی کورونا سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے اور تمام کاروباری سرگرمیاں اور ٹرانسپورٹ کو بھی بند کردیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ، اٹلی سمیت مغربی ممالک میں پہلے پہل کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، اس لیے برق رفتاری سے اسکا پھیلاؤ دیکھنے میں آیا۔ دوسرے یہ کہ مغربی ممالک کیطرف سے سیاسی ردعمل کی بدولت دنیا میں یہی سمجھا گیا کہ یہ چین امریکہ تجارتی جنگ، مشرق وسطیٰ سے امریکی انخلاء یا ادویات کا کاروبار کرنیوالی عالمی اجارہ دار کمپنیوں کی سازش ہے، جسکا کہیں نہ کہیں کنٹرول کسی مغربی طاقت کے ہاتھ میں ہوگا، لیکن بظاہر ایسا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک وباء تھی، جسکی کوئی دوا نہیں، صرف احتیاط ہی اسکا علاج ہے۔ ترقی پذیر ممالک نے معاشی کمزوریوں کے باوجود اسے سنجیدہ لیا اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے، زیادہ احتیاط برتنے کی پالیسی پر عمل کیا، اسکی ایک وجہ امریکی ماڈل کی بجائے چینی ماڈل کو فالو کرنا بھی ہے۔ اللہ کریم انسانیت کو اس امتحان سے نجات دے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …