جمعہ , 7 مئی 2021

قطر میں تعمیراتی مزدوروں میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے: برطانوی اخبار

برطانوی اخبار The Guardian نے خبردار کیا ہے کہ فٹبال عالمی کپ کے لیے کام کرنے والے مزدوروں کی حالت درست کرنے میں قطر کی غفلت کے باعث کرونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی پکڑ رہا ہے۔ ان مزدوروں کو بسوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور کام کے مقامات پر بھی وہ وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کے بغیر جمع رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں قطر پر مزدوروں کے ساتھ برے برتاؤ اور انہیں نامناسب ماحول میں رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔قطر کی وزارت صحت نے جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ ملک میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد 549 ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تعداد غیر ملکی مزدوروں کی ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق قطر میں حکومت کی جانب سے افراد کے اکٹھا ہونے کی تمام صورتوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود فٹبال عالمی کپ 2022 کے لیے کھیلوں کے میدان اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں شریک غیر ملکی مزدوروں کو ابھی تک کاموں کے اُن مقامات پر بھیجا جا رہا ہے جہاں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مزدوروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی بسوں کو کام کے ٹھکانوں کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان مزدوروں نے گارڈین اخبار کو بتایا کہ وہ مسلسل طویل شفٹوں میں کام کر رہے ہیں جب کہ انہیں محض محدود طبی معائنوں کی سہولت حاصل ہے۔واضح رہے کہ کام کے دوران کم از کم دو میٹر کے (سماجی) فاصلے کی شرط کو قطر میں پورا کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ یہاں مزدور پُر ہجوم کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ سونے کے ہر کمرے میں 8 سے 10 افراد موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعمیراتی کمپنیوں کی بسوں میں ایک وقت میں 60 مزدور بھرے ہوتے ہیں۔

قطر میں اس وقت کم اجرت والے غیر ملکی مزدوروں کی زندگیوں کو خاص طور پر خطرے کا سامنا ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس باہر نکلنے اور کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور یہ لوگ اپنے مالکان اور مال کی شدید ضرورت کے ہاتھوں مجبور ہیں جو انہیں اپنے وطن گھر والوں کو بھیجنا ہوتی ہے۔اخبار کے مطابق ایک کینیائی مزدور جو عالمی کپ کے منصوبے کے لیے کام نہیں کر رہا، اس نے اخبار کو بتایا کہ وہ 14 گھنٹوں کی شفٹ میں کام کرتا ہے۔ مزدور نے بتایا کہ وہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے حوالے سے بڑی تشویش کا شکار ہے تاہم اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک کار پارکنگ کی تعمیر میں شریک نیپالی مزدور کا کہنا ہے کہ ہر شفٹ سے قبل اس کا بلڈ پریشر چیک کیا جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ "میں چہرے کا ماسک استعمال کرتا ہوں جو میں نے خود سے خریدا۔ وہ لوگ جن کے پاس ماسک نہیں ہے وہ اپنے منہ کپڑے کے ٹکڑے سے ڈھانپ لیتے ہیں”۔

قطر میں کھیلوں کے کلب، جمنازیم، سینیما ہاؤسز، شاپنگ سینٹرز اور بینکوں کی تقریبا مکمل بندش دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ایسا نظر آتا ہے کہ یہ قانون تعمیرانی مزدوروں اور نجی سیکٹر کے دیگر افراد پر لاگو نہیں ہوتا۔سوشل میڈیا پر ایک صارف نے غصے سے بھرے تبصرے میں لکھا کہ "تعمیراتی شعبے کے مزدور کس طرح سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں؟ کسی کو ہماری سلامتی کی پروا نہیں.. کیا آپ سجمھتے ہیں کہ ہم جینا نہیں چاہتے اور کیا ہم اپنے گھر والوں کو دیکھنا نہیں چاہتے؟”قطر میں مزدوروں کی اکثریت نوکری کے حصول کے لیے بھاری فیس ادا کرتی ہے۔ بعض مرتبہ یہ رقم 4 ہزار برطانوی پاؤنڈز تک پہنچ جاتی ہے۔ بہت سے مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہ اس رقم سے کم ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ قطر میں اجرت کی کمی اور ادائیگی میں تاخیر کا رجحان پھیلا ہوا ہے۔ تاہم مزدور افراد نوکری سے ہاتھ دھونے کے خوف سے اس سلسلے میں شکایت درج کرانے میں ہچکچاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …