اتوار , 16 مئی 2021

امریکا "عراقی حزب اللہ بریگیڈز” کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: نیویارک ٹائمز

ذرائع(نیویارک ٹائمز)

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے عسکری قیادت کو حکم دیا ہے کہ وہ عراق میں امریکی معرکہ آرائی کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کرے۔ اس سلسلے میں گذشتہ ہفتے ہدایت جاری کی گئی کہ حزب اللہ عراق کے مجموعے کو تباہ کرنے کے لیے ایک مہم کی تیاری کی جائے۔ تاہم حزب اللہ نے بھی عراق میں امریکی افواج کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یہ پیش رفت بغداد میں امریکی مفادات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد سامنے آئی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ اوبرائن سمیت بعض سینئر عہدے داران ایران اور اس کی فورسز کے خلاف نئے سخت اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان شخصیات کا کہنا ہے کہ عراق میں حزب اللہ کو ختم کر ڈالنے کا موقع ہے کیوں کہ کرونا کی وبا کے سبب ایرانی قیادت انتشار کا شکار ہے۔امریکی ذمے داران کے مطابق وزیر دفاع مارک ایسپر نے عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے باوجود وہاں نئی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کی اجازت دے دی ہے۔ دو امریکی عہدے داران نے نیویارک ٹائمز کو باور کرایا کہ اس کا مقصد حزب اللہ اور دیگر مقاومتی تحریکوں  کی جانب سے امریکی افواج کے خلاف حملوں میں اضافے کی صورت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ آپشنز فراہم کرنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی سمیت کئی سینئر عہدے داران عراقی سیکورٹی فورسز پر زور دے چکے ہیں کہ وہ امریکی فوج کے خلاف حملے کرنے والی مقاومتی تحریکوں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ بصورت دیگر امریکا خود جوابی کارروائی پر مجبور ہو جائے گا۔متعدد باخبر امریکی ذمے داران نے نیویارک ٹائمز اخبار کو بتایا کہ پینٹاگان کی ہدایات میں عراق میں امریکی فوج کی مرکزی کمان کے اندر منصوبہ بندی کرنے والوں کو احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ مذکورہ مقاومتی تحریکوں  کے خلاف حکمت عملی وضع کریں۔ ہدایات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے ساتھ موجودگی کی صورت میں دیگر مقاومتی دستے بھی قانونی ہدف ہو سکتے ہیں۔یاد رہے کہ رواں ماہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی جانب سے ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹ حملوں میں دو امریکی اور ایک برطانوی فوجی مارا گیا تھا۔ حالیہ ہفتوں کے دوران مائیک پومپیو اور دیگر امریکی سینئر اہل کاروں نے نہ صرف حزب اللہ بریگیڈز بلکہ ایرانی عسکری فورسز کے خلاف بھی فوجی آپریشن کے خیال کا دفاع کیا۔

تاہم 12 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر دفاع مارک ایسپر اور چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے اس حوالے سے دباؤ ڈالا کہ راکٹ حملوں پر زیادہ محدود سطح پر جوابی کارروائی کی جائے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈز کے زیر استعمال ہتھیاروں کے پانچ گوداموں پر رات کے وقت فضائی حملے کیے جائیں۔البتہ کئی امریکی عہدے داران کے نزدیک امریکی فورسز کے خلاف حملوں میں اضافے کی دھمکی دینے والی عراقی حزب اللہ بریگیڈز اور دیگر مقاومتی تحریکوں کو نشانہ بنانے کے آپشنز کے حوالے سے منصوبہ بندی کی ضرورت انتہائی حد تک بڑھ گئی ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق غالبا عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے خلاف پینٹاگان کی مہم میں براہ راست ہدف مقاومتی تحریکوں کی قیادت، اس کے مراکز اور ہتھیاروں کے گودام ہوں گے۔ ان کے علاوہ مقاومتی تحریکوں کے پاس موجود میزائلوں کا وسیع ذخیرہ بھی نشانے پر ہو گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مقاومتی تحریکوں کے پاس کم فاصلے والے بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ بھی ہےاخبار کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ امریکا کی وسیع تر عسکری مہم میں عراق اور شام میں وسیع پیمانے پر مقاومتی تحریکوں  کو اہداف کو نشانہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ عراق میں عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی اتحادی دیگر شیعہ مقاومتی تحریکوں کو بھی حملوں کی لپیٹ میں لیا جا سکتا ہے۔امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے بدھ کے روز توقع ظاہر کی کہ امریکا عراق میں مقاومتی تحریکوں کی جانب سے راکٹ حملوں کا جواب دے گا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات پیش نہیں کیں۔ ایک اخباری انٹرویو میں ایسپر کا کہنا تھا کہ "آپ امریکی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کر کے بھاگ نہیں سکتے .. ہم اپنے طور سے منتخب کردہ وقت، جگہ اور طریقے سے جواب دیں گے۔ ہم ان کا کڑا احتساب کریں گے”۔

 

یہ بھی دیکھیں

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس …