جمعرات , 13 مئی 2021

غلیل جیسی ’’مشینی ٹانگیں‘‘ آپ کو ایتھلیٹ سے بھی تیزرفتار بنا سکتی ہیں!

ٹینیسی: دو امریکی انجینئروں نے ٹانگوں میں پہننے والی ایک ایسی مشین یعنی ’’ایکسو اسکیلیٹن‘‘ ایجاد کرلی ہے جس سے ایک عام انسان کی چلنے اور دوڑنے کی رفتار 50 فیصد تک بڑھ جائے گی۔دوڑنے کی اوسط انسانی رفتار تقریباً 4 میٹر فی سیکنڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ رفتار 12.3 میٹر فی سیکنڈ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ لیکن یہ ایکسو اسکیلیٹن پہننے پر ایک عام انسان کی رفتار بھی 20.9 میٹر فی سیکنڈ تک ہوسکتی ہے جو دنیا کے سب سے تیز رفتار ایتھلیٹ یوسین بولٹ سے بھی زیادہ ہے۔یہ ایکسو اسکیلیٹن وانڈربلٹ یونیورسٹی میں ایڈوانسڈ روبوٹکس اینڈ کنٹرول لیبارٹری کی امینڈا سترینسو اور ڈیوڈ بران نے مشترکہ طور پر ایجاد کی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔اس ایجاد کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر چلتے دوران ہماری ٹانگیں نہ صرف حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں بلکہ اسی کے ساتھ ہمارے پورے جسم کا بوجھ بھی سہارتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے چلنے اور دوڑنے کی رفتار زیادہ نہیں ہو پاتی۔

مذکورہ پروٹوٹائپ ایکسو اسکیلیٹن، جس کا ڈیزائن کسی غلیل جیسا ہے، دوڑتے اور چلتے دوران انسانی جسم کا بوجھ جزوی طور پر سنبھال لیتی ہے جس کی بدولت آگے بڑھنے کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ ابتدائی آزمائشوں میں یہ ایکسو اسکیلیٹن پہننے والے رضاکاروں کی رفتار معمول سے 50 فیصد تک زیادہ نوٹ کی گئی۔اس کے اطلاق کے بارے میں ڈیوڈ بران کہتے ہیں کہ یہ ایجاد قانون نافذ کرنے والوں، امدادی کارکنان اور عام لوگوں تک کےلیے مفید ثابت ہوسکتی ہے، ’’اور جس طرح سائیکل کی ایجاد سے سائیکلنگ کا ایک نیا کھیل وجود میں آیا، ہوسکتا ہے کہ اس ایکسو اسکیلیٹن کے باعث بھی کوئی نیا کھیل سامنے آجائے،‘‘ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …