پیر , 10 مئی 2021

عراق میں امریکہ کی خطرناک سرگرمیاں

تحریر: علی احمدی

عراق میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ بٹالینز نے کل بدھ 26 مارچ کو ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں امریکہ کی خطرناک فوجی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ بیانیے میں کہا گیا ہے: "عراق انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ہمارا ملک کرونا وائرس کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ ایسا وائرس ہے جس کی تیاری اور پھیلاو کا الزام امریکہ کے دہشت گرد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی مجرم حکومت پر عائد کیا جا رہا ہے۔ اسلامی مزاحمت کے گروہ پوری طرح حکومت سے تعاون میں مصروف ہیں اور فیلڈ اسپتالوں کی تشکیل، ڈس انفکشن اسپرے اور دیگر احتیاطی تدابیر میں مصروف ہیں۔ یہ اقدامات اسلامی مزاحمت کی جانب سے میڈیکل جہاد کے خوبصورت نمونے ہیں۔ دوسری طرف ہم امریکہ کی مشکوک اور خطرناک فوجی سرگرمیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ امریکی حکام موجودہ حالات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے شیطانی مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ وہ اپنے گذشتہ منصوبے آگے بڑھانا چاہتے ہیں جن میں وہ ماضی میں ناکامی کا شکار رہے ہیں۔” بیانیے میں مزید کہا گیا ہے: "گذشتہ چند دنوں میں امریکہ کی جانب سے میڈیا پروپیگنڈہ اور نفسیاتی جنگ میں شدت آئی ہے۔ یہ نفسیاتی جنگ ایک بڑے منصوبے کا مقدمہ ہے جس کے تحت ہیلی برن اور حشد الشعبی کے فوجی مراکز پر ہوائی حملے بھی انجام پائے ہیں۔”

حزب اللہ بٹالینز نے اپنے بیانیے میں کہا: "اس امریکی منصوبے نے عراق کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہمیں اس بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں اور ہم اس امریکی منصوبے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ عراق ایک میڈیکل بحران سے گزر رہا ہے جس میں امریکہ کے یہ اقدامات ملک کی صورتحال شدید خراب کر سکتے ہیں۔ اگر قابض امریکی دشمن اپنے احمقانہ اقدامات جاری رکھتا ہے تو ہم بھی اس کے مقابلے میں وسیع پیمانے پر اقدامات انجام دیں گے۔ ہم اپنی پوری طاقت سے امریکہ کے تمام فوجی، سکیورٹی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنائیں گے۔ ہم امریکہ کے ان مراکز کو قبرستان بنا دیں گے جہاں سے عراق کے خلاف سازشی منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔” حزب اللہ بٹالینز نے امریکی فوجیوں سے تعاون کرنے والے عراقی اداروں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ سے تعاون سے گریز کریں کیونکہ ایسی صورت میں انہیں بھی بخشا نہیں جائے گا۔ امریکیوں سے تعاون کرنے والے عناصر کو عوامی، قبائلی اور قانونی سطح پر سخت سزا دی جائے گی۔ حزب اللہ بٹالینز نے تمام عوامی رضاکار فورسز کے جوانوں کی بھرپور تیاری پر زور دیا اور ان سے امریکی دشمن کے مقابلے کیلئے پوری طرح تیار رہنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری طرف عراق کی پارلیمنٹ  کے رکن محمد البلداوی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ عراق میں بغاوت کا شیطانی منصوبہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس مقصد کیلئے داعش سے بھی مدد لینا چاہتا ہے۔ محمد البلداوی نے مزید کہا: "ہمیں کچھ ایسے معتبر ثبوت ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ عراق میں بغاوت کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ہمیں موصولہ رپورٹس کی روشنی میں اس مقصد کے تحت عراق کے تین صوبوں صلاح الدین، نینوا اور دیالی میں داعش کے خفیہ نیٹ ورکس کو فعال کر دیا گیا ہے۔” عراق کے اس رکن پارلیمنٹ کے بقول ان دنوں عرب خلیج ریاستوں کے بارے میں جو خبریں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں وہ بھی اس امریکی بغاوت کی مقدمہ چینی کیلئے ہیں۔ کوئی بھی دھواں بغیر آگ کے نہیں ہوتا۔ اس منصوبے کا ایک اور حصہ امریکہ کی جانب سے عراقی حکومت سے یہ مطالبہ کرنا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر داعش کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دے۔ اسی بارے میں کویت کے ایک اخبار الجریدہ نے اتوار 22 مارچ کے دن ایک باخبر ذریعے کے بقول لکھا کہ امریکہ عراق میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اخبار نے مزید لکھا کہ امریکہ بغداد میں اپنے اتحادیوں کو اس منصوبے سے آگاہ کر چکا ہے۔

کویت کے اخبار الجریدہ نے مزید لکھا: "ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام نے بغداد میں اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ این جی اوز پر مزید تکیہ نہیں کیا جا سکتا اور اپنی حامی مسلح افواج کی مدد کے بغیر عراق میں کامیابی حاصل نہیں ہو پائے گی۔ عراق میں موجودہ سیاسی سیٹ اپ امریکہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنے مطلوبہ شخص کو وزیراعظم کے عہدے پر براجمان کر سکے۔ اس کا واحد راستہ عراق میں فوجی بغاوت ہے۔ ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ٹارگٹ کلنگ عراق میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی امریکی کوششوں کا پہلا قدم تھا۔” اس میں کوئی شک نہیں کہ عراق کے موجودہ حالات طوفان سے قبل خاموشی اور خاکستر کے نیچے چھپی آگ کی مانند ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں میں عراق شدید قسم کے حالات سے گزرنے والا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ یہ ملک سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہے اور معلوم نہیں عدنان الزرفی نئی کابینہ بنا پائیں گے یا نہیں۔ اگر وہ نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو معلوم نہیں کہ عنقریب درپیش سخت حالات اور شدید چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ بھی کر پائیں گے یا نہیں؟

اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …