ہفتہ , 8 مئی 2021

بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی

بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے ملک میں سوا ارب سے زائد آبادی کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے جس کے باعث ملک کی غریب آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے اور پابندیوں کی وجہ سے روزگار کے خاتمے اور بھوک کے سبب مختلف شہروں سے آئے لوگ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔خیال رہے کہ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے باعث 17 افراد ہلاک اور 700 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ملک میں 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔بھارت میں پہلا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے بعد ماہرین صحت نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم مسلسل مطالبات کے باوجود بھارت میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے تاخیر کی گئی جس پر مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما سندھانشو متل نے دعویٰ کیا کہ بھارت دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اس وائرس کے خلاف سب سے تیز تر اور مؤثر کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تباہ کن صورتحال میں آپ صورتحال کا جائزہ لیے بغیر اور عالمی رائے عامہ جانے بغیر فوراً فیصلے نہیں کر سکتے لیکن ہم نے پھر بھی بہت جلد متعدد انتظامی فیصلے کیے۔بھارت کی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے دعویٰٰ کیا کہ بھارت میں اب وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کا سلسلہ کم ہو گیا ہے تاہم اگر اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو ان کی یہ بات غلط معلوم ہوتی ہے کیونکہ بھارت میں مسلسل کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے حامل ملک کے سب سے بڑے طبی تحقیقی ادارے ‘دی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ’ کے مطابق جمعہ کی صبح تک 27 ہزار688 افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے تحقیقی ادارے کے مطابق 691 افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

واضح رہے کہ بھارت میں ایک دن میں سب سے زیادہ کسز جمعرات کو سامنے آئے تھے جب 88 افراد کے وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔واضح رہے کہ بھارت میں اب تک متاثرہ افراد کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے ابتر نظام صحت کے سبب وائرس کا شکار افراد کی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔تین امریکی یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ دہلی اسکول آف اکنامکس کی رپورٹ میں عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے پیش گوئی کی گئی ہے کہ بھارت میں مئی کے وسط تک 13 لاکھ افراد وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ماہرین نے حکومت سے ہر شہری کا کورونا کا ٹیسٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ملک میں وائرس کا شکار افراد کی اصل تعداد کتنی ہے۔

بھارت میں اس وقت کورونا کے ٹیسٹ کے 104مراکز موجود ہیں جن میں روزانہ 8 ہزار نمونوں کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر دو لیبارٹیرز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر 1400 ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ملک کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹریز کے ساتھ ساتھ طبی آلات کی بھی کمی کا سامنا ہے۔بھارت میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ہسپتال کے 0.7 بستر موجود ہیں جہاں اس کی نسبت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے والے ملک جنوبی کوریا میں ایک لاکھ افراد کے لیے ہسپتالوں کے 6 بستر ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو وینٹی لیٹرز کی کمی کا بھی سامنا ہے جہاں ملک بھر میں ایک لاکھ وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور ان میں سے بھی اکثر نجی ہسپتالوں میں مریضوں کے زیر استعمال ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ملک میں پھنسے ہوئے تارکین وطن نے روزگار نہ ہونے کے سبب اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹنا شروع کردیا ہے۔بس ٹرین سمیت ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع بند ہونے کے سبب لوگ ہائی وے پر پیدل ہی سفر کر کے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے شاپنگ مال میں کام کرنے والے ٹھاکر نامی شخص نے بتایا کہ مرنے کے بجائے ہم نے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔تعمیراتی کام کے ذریعے روزانہ 4 ڈالر کمانے والے جما رتھوا بھی متاثرین میں شامل ہیں اور انہوں نے بھی پیدل سفر کرتے ہوئے گھر واپسی کی راہ لی۔

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ہمارے گاؤں میں گھر اور کھانے پینے کا انتظام تو ہو گا، یہاں صورت میں تو ہمارا کوئی بھی نہیں۔نئی دہلی میں ڈرائیونگ کر کے کمانے والے بریندر نے کہا کہ ان کے اہلخانہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں 320 کلومیٹر دور اپنے گھر جلد از جلد پہنچ جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے گزشتہ تین چار دن سے صحیح سے کھانا نہیں کھایا، مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ میں یہاں کھانے کے بغیر کیا کروں گا۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …