اتوار , 31 مئی 2020

مرنے سے پہلے …

تحریر: سہیل وڑائچ

موت برحق ہے مرنے سے کیا ڈرنا؟ جو آیا ہے اس نے جانا ہی ہے مگر مرنے کا بھی کوئی قاعدہ اور طریقہ ہے، یہ کیا کہ آپ کسی دعوت میں گئے اور کورونا پیچھے لگ گیا، کسی سے ہاتھ ملایا تو کورونا آپ سے چمٹ گیا یا پھر کسی نے چھینک ماری یا تھوکا اور ساتھ ہی آپ بھی جکڑے جائیں، ایسی موت ناقابلِ قبول ہے مگر جب یہ ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے ایسے میں مَیں مرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جس طرح نائن الیون سے پہلے اور بعد کی دنیا میں بہت فرق ہے، طور اطوار، زندگی کے سلیقے قرینے سب بدل گئے تھے، اب بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے کہ کورونا سے پہلے اور بعد کی دنیا میں بہت فرق ہوگا۔ہم میں سے جو بچ جائیں گے وہ کورونا کے حوالے دیکر تصویر کشی کیا کریں گے اور جو چلے جائیں گے ان کی داستانیں (اگر ہوں گی تو) فضا میں ہی بکھری رہ جائیں گی۔ کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا فانی ہے، حضرت خضر کے علاوہ بچا کون ہے فاتح عالم سکندر اعظم کو جوانی میں بلاوا آ گیا۔ دنیا کے سب سے مشہور پہلوان رستم کو اپنی تمام جسمانی طاقت کے باوجود زندہ رہنا نصیب نہ ہوا۔خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرود اور فرعون بھی معین وقت سے اپنی زندگی ایک دن بھی آگے نہ کر سکے۔ موت ایک ایسا راز ہے جسے آج تک نہ کوئی پا سکا ہے اور نہ ہی کوئی اسے پا سکے گا۔

افلاطون نے اپنی آئیڈیل دنیا کا خواب دیکھا تھا جس کا سربراہ فلاسفر بادشاہ ہو جسے نہ صرف عقل و تدبر سے محبت ہو بلکہ وہ تکبر میں نہ آئے اور سادہ زندگی گزارے۔ مرنے سے پہلے میرے بھی کچھ خواب ہیں، میں ایسی دنیا کا خواب دیکھتا ہوں جہاں کسی کا استحصال نہ ہو، سب کو برابری اور انصاف ملے۔جمہوری پاکستان میرا آئیڈیل ہے۔ ایسا پاکستان جس میں عدلیہ مکمل آزاد ہو، دستور کی لفظ بہ لفظ پابندی کی جائے، میڈیا آزاد ہو، معیشت غلام نہ ہو بلکہ پاکستان کا ہر شخص خوشحال ہو، اسے صحت اور تعلیم کے بہترین مواقع حاصل ہوں۔ میرے یہ خواب پورے کرنے کیلئے کسی کرشمہ ساز، دیومالائی سیاستدان یا جرنیل کی ضرورت نہیں بلکہ ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آئین اور قانون پر حرف بہ حرف عمل کیا جائے۔ نہ کوئی آئین کی من پسند تشریح کرے نہ قانون کو گھر کی باندی بنائے۔ اور نہ ہی کوئی آزادی کو ہاتھ کی چھڑی اور اپنی کلائی کی گھڑی سمجھے بلکہ اسے امانت سمجھ کر لوگوں کو ودیعت کرے۔مرنے سے پہلے میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ مسلم دنیا بھی سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا نام بنائے، یہاں فکر محبوس نہ ہو، یہاں آزادی پابند سلاسل نہ ہو۔ میں سوچتا ہوں کہ مسلم دنیا میں گھرا ایک چھوٹا سا ملک اسرائیل کیوں اسٹارٹ اپ قوم کہلاتا ہے؟

آخر امریکہ کے بعد اسرائیل کیوں کاروباری دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے؟ آخر کیوں صرف جھیل مشی گن کے آدھے سائز پر آباد ملک جس کی آبادی صرف 80لاکھ ہے، وہاں ایک ہزار عالمی کمپنیاں بزنس کر رہی ہیں اور 5ہزار اسرائیلی اسٹارٹ اپ اپنا کاروبار پھیلا رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ یو ایس بی، چیری ٹماٹر، ڈرپ ایریگیشن، فلیش ڈرائیو اور جی پی ایس نیوی گیشن جیسی ایجادات اسرائیل جیسے سیکورٹی خدشات سے گھرے ملک میں ہو رہی ہیں۔ ایک اسرائیلی مصنفہ انبال اریالی (INBAL ARIELI)نے اپنی کتاب CHUTZPAH (شوخ چشمی) میں ان وجوہات کا سراغ لگایا ہے جو اسرائیل میں تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا باعث ہیں۔ پہلی وجہ وہاں گھروں اور معاشرے میں سوال اٹھانے کی آزادی ہے، CHUTZPAHکا مطلب ہے شوخ چشمی یا دیدہ دلیری یعنی ہر خبر پر بغیر مروت کے سوال اٹھانا۔یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس سے علم اور ٹیکنالوجی کا فروغ ہو رہا ہے۔ جب تک معاشرے میں چیلنج کا ماحول پیدا نہیں ہوگا، نئی فکر پروان نہیں چڑھ سکتی۔اسرائیل میں بچوں کو فکری آزادی دینے کیلئے بچپن ہی سے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ پرائمری اسکول میں ٹوائے روم (TOY ROOM) یعنی کھلونوں کے بجائے کوڑ کباڑ روم (JUNK ROOM) بنائے جاتے ہیں اور بچے وہاں جاکر ٹوٹی پھوٹی چیزوں سے نئی چیزیں بناتے اور کھیلتے ہیں۔ اسی طرح آج کی دنیا میں بچوں کو ترتیب سکھائی جاتی ہے مگر اسرائیل میں مشہور ہے کہ تخلیق بےترتیبی سے جنم لیتی ہے کیونکہ اگر زندگی بےترتیب ہے تو اسے گزارنے کے ڈھنگ بھی بےترتیبی سے ہی سیکھے جا سکتے ہیں۔ مشہور سائنسدان آئن اسٹائن کا یہ مقولہ دہرایا جاتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اگر بےترتیب میز، غیر منظم شدہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے تو پھر بالکل صاف میز کس طرح کے ذہن کی عکاسی کرتی ہے (یعنی جس کی میز صاف ہو اس کا ذہن بھی صاف ہوگا، وہ تخلیق نہیں کر سکے گا) اسرائیل میں بچوں کو آزادی دی جاتی ہے کہ وہ خود آزادی سے اپنے کام کریں۔

سال میں ایک تہوار ایسا ہے جس میں بچے والدین کے بغیر رات بھر باہر رہتے ہیں، اسی طرح اسرائیل میں ’’میں‘‘ کے بجائے ’’ہم‘‘ کے فلسفے پر عمل سکھایا جاتا ہے۔ بیشتر کمپنیوں کا مالک ایک نہیں بلکہ کئی مختلف لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آئیڈیاز ملا کر اپنی کمپنی کو ترقی دیتے ہیں۔ وہاں پر تصور یہ ہے کہ تعلیم کا مطلب صرف جاننا نہیں بلکہ تجربہ کرنا ہے اسی لیے وہاں لوگ پڑھتے کچھ اور ہیں اور عملی زندگی میں کچھ اور کرتے ہیں۔کورونا سے کون بچے گا اور کون مرے گا، کسی کو علم نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ جو مریں گے وہ تو سکھی ہو جائیں گے اور جو بچیں گے ان کیلئے زندگی گزارنا ایک چیلنج ہوگا۔ دنیا مشکل ترین معاشی حالات سے گزرے گی، خوراک اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہوں گی، ایسے میں نئی دنیا کو اپنا سب کچھ بدلنا پڑے گا۔ اسرائیل کی طرح بحرانوں میں زندہ رہنے کا سلیقہ سیکھنا ہوگا۔ ہمیں اگلی نسل کو آزادی دیکر سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف لانا ہوگا۔

کورونا نے دنیا کو ایک نیا چیلنج دیا ہے کہ انسان کو اپنی بقا کیلئے صرف ہتھیاروں، جنگوں، غربت، پسماندگی اور پرانی بیماریوں کے خلاف جنگ نہیں لڑنی بلکہ کورونا جیسی وبائوں سے نمٹنے کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ پچھلے سو سال میں انسان کو یہ زعم ہو گیا تھا کہ اس نے بیماریوں اور وبائوں پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے مگر کورونا نے یہ تھیوری غلط ثابت کر دی ہے۔ اگر تو کورونا کے حوالے سے کیے گئے دعوے درست ہیں تو پھر اس دنیا میں موجود ہر انسان خطرے میں ہے، کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے یہ تبھی پتا چلے گا جب ویکسین تیار ہو جائے گی، اسی لیے مرنے سے پہلے یہ تحریر لکھ دی ہے تاکہ سند رہے…

بشکریہ جیونیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکا میں سیاہ فام قتل بڑا مسئلہ یا اس کے خلاف احتجاج، امریکہ میں بحث

پچھلے کچھ عرصے میں امریکہ میں کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں پولیس اہلکاروں …