منگل , 11 مئی 2021

امازون کے ارب پتی سربراہ کی کمپنی ملازمین کے لیے لوگوں سے عطیات کی اپیل پرسخت تنقید

‘امازون’ کمپنی کے سربراہ جیف بیزوس کا شمار دنیا کےچوٹی کےامراء میں ہوتا ہے مگر کرونا کی وباء سے کمپنی کے ملازمین کوبچانے کے لیے جیف بیزوس کی طرف سے عام لوگوں سے چندہ دینے کی اپیل نے سب کو حیران کردیا ہے۔ جیف بیزوس کی اپیل پرانہیں سوشل میڈیا پرسخت تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک کھرب 14 ارب ڈالر کے مالک کی طرف سے کمپنی ملازمین کو کرونا سے بچانے میں مدد کے لیے عام لوگوں سے مدد کی اپیل ایک عجیب منطق ہے۔ اس اپیل کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ امازون کمپنی اپنے ملازمین کو کرونا وائرس کی وجہ سے ملازمت سے فارغ نہ کردے۔دیوہیکل امریکی کمپنی "امازون” کے بانی جیف بیزوس نے 25 ملین کی ڈالر کی رقم سے ایک ریلیف فنڈ قائم کیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے عام لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس فنڈ میں حصہ ڈالیں تاکہ امازون کمپنی کے ملازمین کو کرونا وائرس سے بچایا جائے اور ان کے اہل خانہ کی مدد کی جائے۔

دنیا کے سب سے امیر آدمی بیزوس کی ملکیت والی امازون کمپنی نے آج اس فنڈ میں 25 ملین ڈالر کی امداد کی لیکن عام لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امازون کے ملازمین کی خاطر عطیات دیں۔ جیف بیزوس کی طرف سے اس اپیل پر سوشل میڈیا پران کے خلاف سخت تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔’اما زون’ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کردہا ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے ملازمین کے لیے قائم کردہ فنڈ میں کوئی بھی شخص اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔برطانوی اخبار "دی انڈیپنڈنٹ” نے ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "امازون” کمپنی نے امریکا میں موجود اپنے صارفین کو ٹیکسٹ پیغامات ارسال کیے ہیں کہ وہ ان کے قائم کردہ فنڈ میں حصہ ڈالیں جس ک بعد انٹرنیٹ پر کمپنی کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ناراض لوگوں میں سے ایک نے ٹویٹر پر لکھا "آپ کی کمپنی ایک کھرب ڈالر سے زیادہ اثاثوں کی مالک ہے۔ ایسے میں یہ کمپنی عام لوگوں سے کیسے عطیات جمع کرانے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ اگر امازون کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکتی تو دوسری کمپنیوں کا کیا حال ہوگا۔”دی انڈیپنڈنٹ” کا کہنا ہے کہ "امازون” کی مارکیٹ ویلیو دراصل ایک کھرب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ جیف بیزوس کے ذاتی اثاثے 114 بلین ڈالر ہیں۔ اس دولت نے جیف بیزوس کو دنیا کا سب سے امیر آدمی بنا دیا۔ سال 2018 کے دوران کمپنی 11 ارب ڈالر سے زیادہ کمائےجبکہ اس نے امریکی وفاقی حکومت کو ٹیکس کے طور پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …