اتوار , 31 مئی 2020

مشرق وسطی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے تخریبی اقدامات

تحریر: رابرٹ فیسک (چیف ایڈیٹر مڈل ایسٹ سیکشن اخبار اینڈیپنڈینٹ)

جیسے جیسے دنیا کے مختلف ممالک میں کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی میں تخریب کارانہ اقدامات بڑھاتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے آہستہ آہستہ عراق سے پسماندگی اختیار کی اور اب متحدہ عرب امارات کے ساتھ فوجی مشقیں انجام دینے جا رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات یمن کے خلاف سعودی عرب کی تباہ کن جنگ میں اس کا قریب اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو دی جانے والی 1 ارب ڈالر امداد روک دی ہے کیونکہ اس ملک میں صدر کے عہدے پر جاری تنازعہ ممکن ہے طالبان میں امریکہ کے نئے دوستوں کے ساتھ افغان حکومت کے امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔ اس کے بعد ایران کی باری آئے گی۔ اجازت دیں کچھ لمحات کیلئے متحدہ عرب امارات میں تعمیر کئے جانے والے مثالی شہر کا جائزہ لیں۔ کئی منزلہ عمارتوں، ہوٹلز، اپارٹمنٹس، ایئرپورٹ کا ایک واچ ٹاور، آئل ریفائنریز اور جامع مسجد۔ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج نے فوجی مشقوں کے دوران بڑے زور و شور سے اس شہر پر حملہ کیا۔ یہ فرضی شہر مشترکہ جنگی مشقوں کیلئے بنایا گیا تھا۔

ان مشقوں کی ویڈیو کا مشاہدہ کرنے والے ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافی نے بتایا کہ اماراتی فوجی ہیلی کاپٹر سے نیچے چھلانگیں مار رہے تھے اور امریکی فوجی تنگ گلیوں میں فرضی دشمن کی تلاش میں تھے۔ لیکن یہ فرضی دشمن کون تھا؟ شاید ایرانی فوجی؟ ایسی صورت میں فرضی مسجد بھی شیعہ مسلمانوں کی ہو گی اور آئل ریفائنری بھی یقینی طور پر ایران کے جنوب میں ہو گی اور گلیاں بھی ایران کے قدیمی شہر کی ہوں گی جو یقیناً شیراز یا اصفہان نہیں ہیں۔ ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکی فورسز کے پہلے گروپ میں شامل بریگیڈیئر تھامس سویج نے یہ گمان کیا ہو کہ ایرانی ان جنگی مشقوں کے بارے میں کچھ مشکوک ہو گئے ہیں۔ یہ جنگی مشقیں ہر دو سال میں ایک بار انجام پاتی ہیں۔ ان کا نام "علاقائی غضب آپریشن” ہے جس سے بخوبی استعماری پیغام عیاں ہوتا ہے۔ جب بریگیڈیئر سویج سے ان جنگی مشقوں کے اشتعال آمیز ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: "نہیں جانتا۔ ہمارا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ اگر وہ اسے اشتعال آمیز تصور کرتے ہیں تو بہت اچھا، یہ خود ان سے مربوط ہے۔ یہ ہمارے لئے ایک معمولی مشق ہے۔”

میرا نہیں خیال امریکہ کی مسلح افواج اس بات پر یقین کر لیں گی کہ حقیقی وسعت میں باریک گلیوں اور مساجد کے ہمراہ مسلمانوں کے شہر کے ماڈل پر حملہ ور ہونا "خطے میں استحکام پیدا کرنے” کے مقصد سے انجام پایا ہے۔ یقیناً یہ ماڈل یمن کے کسی شہر کا تھا جہاں متحدہ عرب امارات کے فوجی چار سال تک حوثی فورسز کے ساتھ لڑتے رہے تھے۔ پھر ڈیگو گارسیا اور کویت سے 4000 امریکی فوجی متحدہ عرب امارات بھیجے گئے۔ عین ممکن ہے یہ فوجی عراق کے انہی فوجی اڈوں سے گئے ہوں جو امریکہ نے حال ہی میں خالی کئے ہیں۔ تھامس سویج کا کہنا ہے کہ اس کے افراد میں سے کسی کا کرونا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا اور باہر کی دنیا سے ان کا رابطہ انتہائی کم رہا ہے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا بھی باہر کی دنیا (یعنی حقیقی دنیا) سے رابطہ بہت کم ہے نے خطے میں اپنے اتحادیوں سے بھتہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف دنیا کا بڑا حصہ کرونا وائرس کے نتیجے میں واقع ہونے والی اموات سے پریشان ہے تو دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے اچانک افغانستان کو ایک ارب ڈالر کی امداد روک دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پمپئو اس بابت غصے میں ہیں کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں صدارتی انتخابات میں جیتے کا دعوی کر رہے ہیں۔ لہذا امریکی حکام کی نظر میں ان دونوں افراد نے طالبان کے ساتھ امریکہ کے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس معاہدے میں امریکہ نے طالبان سے داعش، القاعدہ اور دیگر مسلح گروہوں سے مقابلہ کرنے کی شرط پر افغانستان چھوڑ کر چلے جانے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی طے پایا ہے کہ 1000 افغان فوجیوں کے بدلے طالبان کے 5000 قیدی بھی رہا کر دیے جائیں گے۔ اگر افغانستان سلطنتوں کا قبرستان رہا ہے تو مقامی حکمرانوں کی گستاخی کا مقام بھی ہے۔ افغانستان کی امداد روکنا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان حکام کی بلیک میلنگ ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی جائے۔ لیکن بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام کی نظر میں کرونا وائرس سے زیادہ اپنی اقتصادی پابندیاں اہم ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی امریکی حکام سے ایران کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی درخواست کر کے اپنا وقت ہی ضائع کیا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

صحت کے مسائل اور آنے والا بجٹ

تحریر:عمار مسعود دنیا بھر میں جاری اقتصادی بحران کے سبب تمام ہی حکومتیں سخت معاشی …