اتوار , 31 مئی 2020

کورونا وائرس اور علماء کی اجتہادی بصیرت

تحریر: ثاقب اکبر

کورونا وائرس اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ ابھی دنیا میں پھیلے جا رہا ہے۔ کسی ایک ملک میں اگر اس پر کسی حد تک قابو پا بھی لیا گیا ہے تو کئی دوسرے ملکوں میں اس کی لائی ہوئی ہولناکیاں نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔ کرونا وائرس کے حوالے سے بہت سے پہلو زیر بحث ہیں اور روک تھام کے بہت سے منصوبے روبہ عمل ہیں۔ اس پر البتہ دنیا بھر میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ کرونا کے مریض سے فاصلہ انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ وائرس انسان کے انسان سے رابطے اور قربت سے پھیلتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ ٹیسٹ میں مثبت ثابت ہونے تک خدا جانے ایک شخص کتنوں کو متاثر کر چکا ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا میں ہر شخص سے کہا جا رہا ہے کہ دوسرے سے فاصلہ اختیار کرے۔ اسی فاصلے کے تقاضے کے طور پر جہاں سماجی رابطوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے، وہیں پر مذہبی اجتماعات پر بھی پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ ایسے میں حکومتوں نے مذہبی راہنمائوں اور علماء سے بھی رجوع کیا ہے اور اُن سے نماز جمعہ و جماعت کے حوالے سے فتویٰ طلب کیا ہے۔ جنازوں کے مسائل کے لیے علماء سے استفتاءات کیے گئے ہیں۔ غسل، کفن اور دفن کے مسائل پر بھی ان سے پوچھا جا رہا ہے۔ ایسا صرف مسلمان علماء سے دریافت نہیں کیا جا رہا بلکہ غیر مسلم بھی اپنے مذہبی پیشوائوں سے راہنمائی طلب کر رہے ہیں۔

اس دوران میں ہم نے علماء کی طرف سے مختلف فتاویٰ دیکھے ہیں۔ بعض نے تو کہا ہے کہ نماز جمعہ و جماعت کسی طور ترک نہیں کی جاسکتی۔ بعض نے بچوں اور بوڑھوں کو منع کرکے جوانوں کو نماز باجماعت میں شرکت کی تلقین کی ہے یا اجازت دی ہے۔ بعض نے حکومتوں کے فیصلوں کی پابندی کا فتویٰ دیا ہے اور اس سلسلے میں فیصلہ ان کی صوابدید پرچھوڑ دیا ہے اور عوام سے اس کی پابندی کے لیے کہا ہے۔ جنازہ، کفن اور دفن کے حوالے سے بھی مختلف فتوے دیکھنے کو ملے ہیں۔ عوام الناس کا بھی طرح طرح کا ردعمل ہے۔ بعض لوگوں نے مذہبی اجتماعات اور مذہی رسوم کو ترک نہیں کیا۔ اس سلسلے میں کسی ایک مسلک یا فرقے کا مسئلہ نہیں۔ تبلیغی سرگرمیوں کا بھی یہی حال ہے۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مسلک کے ذمہ دار علماء نے ایک فتویٰ دیا ہے اور عوام نے دوسری طرح عمل کیا ہے۔ گاہے ایک ہی مسلک کے مختلف علماء کے مختلف فتاویٰ سامنے آئے ہیں۔

یہ تمام صورت حال ہمیں مذہبی دانش اور مذہبی ذہنیت کی سطح کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ اہل نظر ان تمام پہلوئوں کا جائزہ لیں۔ اگر بعض فتووں یا مذہبی شدت پسندی کے بعض مظاہر کی وجہ سے انسانوں کی اموات ہوئی ہوں تو پھر اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اہل علم ان پہلوئوں کا دقتِ نظر سے مطالعہ کریں۔ ابھی تک مذہبی علماء کی طرف سے جس طرح کے فتاویٰ سامنے آئے ہیں، ان کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن مسالک کے علماء زندہ اور متحرک اجتہاد پر یقین رکھتے ہیں اور اجتہاد کو زمان و مکان کے تقاضوں کی بنیاد پر انجام دینے کے قائل ہیں، ان کے فتاویٰ زمینی حقائق سے زیادہ قریب رہے ہیں اور جن کے ہاں جامد تقلید کی روش پائی جاتی ہے، ان کے فتاویٰ گومگو کا مظہر بنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایسے مذہبی علماء جنھوں نے حکومتوں کے اصرار پر اپنے فتاویٰ پر نظرثانی کی ہے، ہمیں ان پر اعتراض نہیں، تاہم اس سے یہ ضرور ثابت ہوگیا ہے کہ جامد تقلید پر انحصار انسانیت کے لیے ضرر رساں بھی ہوسکتا ہے، اس لیے تازہ اور متحرک اجتہاد کی ضرورت ایک مرتبہ بھی مبرہن ہو کر سامنے آگئی ہے۔

اجتہادی عمل کا ایک پہلو مقاصد شریعت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جن علماء کرام نے رائج فتاویٰ سے یہ کہ کر عدول یا رجوع کیا ہے کہ انسانی جان کی حفاظت شریعت کا ایک بنیادی مقصد ہے، ہم ان علماء کرام کی بصیرت کو خراج تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتے، البتہ ان سے یہ گزارش بھی کرتے ہیں کہ مقاصد شریعت کو احکام شریعت پر فوقیت دینے کے اصول کے پیش نظر ماضی کے تمام فتاویٰ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اسی کو ہم زندہ اور متحرک اجتہاد کا نام دیتے ہیں۔ عام قارئین کے لیے ہم اس کی کچھ وضاحت کیے دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شرعی احکام انسان کے لیے ہیں یا انسان شرعی احکام کے لیے ہے۔؟ جب ہم اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ شرعی احکام انسان، انسانی معاشرے اور انسانی اجتماع کے لیے ہیں تو گویا ہم ایک پورے فکری نظام کو قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ فکری نظام جمود، روایت پسندی اور حرفیت پسندی کے مقابل کھڑا ہے۔ اس فکری نظام کے تحت انسان اشرف المخلوقات ہے اور شرعی احکام کا ایک بنیادی مقصد اسی انسان کی جان کی حفاظت ہے۔

یہاں شریعت اور دین کی دو اصطلاحوں میں خلط مبحث نہیں ہونا چاہیئے، چونکہ دین کائنات شناسی اور بنیادی عقائد سے مربوط ہے، اس میں کمی بیشی کی گنجائش اور امکان نہیں ہے۔ دینی عقائد اگر صحیح معرفت پر مبنی ہوں تو وہ تبدیل نہیں ہوتے۔ ہم یہاں فقہی احکام پر بات کر رہے ہیں جن میں زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں لاضرر ولا ضرار جیسے فقہی قواعد سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ گزارش کرنا بھی شاید بے محل نہ ہو کہ ہمارے ہاں کے علمائے کرام کو ملحوظ رکھنا چاہیئے کہ معاشرے کے بیشتر معاملات پہلے ہی اُن کے ہاتھ میں نہیں ہیں، فکری جمود، فتاویٰ کی پریشان خیالی اور فرقہ وارانہ آویزش پہلے ہی دین گریزی اور لبرلزم کے فروغ کا باعث بن رہی ہے، ایسے میں اگر ان کے فتاویٰ سے یہ تاثر ابھرے کہ وہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہیں، رجعت پسندی اور اندھی تقلید کے غماز ہیں تو اس صورت حال کو اور بھی تقویت ملنے کا اندیشہ ہے۔

انہیں یہ بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ جن فتاویٰ میں انسان دوستی کی مہک نہ ہو اور شرف انسانی کا لحاظ نہ ہو، وہ بھی لوگوں کے اہل مذہب سے دوری کا باعث بنتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مذہبی علماء اپنے منہج کا جائزہ لیں۔ اس امر کا احساس نہیں پیدا ہونا چاہیئے کہ جو لوگ ابھی بعض پہلوئوں سے مذہبی علماء کی سیادت اور عمل داری کو مانتے ہیں، وہی گاہے ان کے فتووں کی وجہ سے ایسے خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں، جن سے نہ دین کو کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے، نہ اہل دین کو۔ ہماری رائے یہ بھی ہے کہ دین کے تمدنی پہلو اور تہذیبی افق سے نگاہیں ہٹ جانے سے دینی فکر کی سطح بہت نیچے آگئی ہے۔ دین اور اس کی تعلیمات کو عالمی انسانی تہذیب اور انسان کے رشد و کمال کا ذریعہ بنانا ہے تو پھر اپنے فتاویٰ کو بھی انسانی ضروریات اور انسانی معاشرے کے تحفظ کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، اس کے لیے جرأت اجتہاد اور جدید اجتہادی بصیرت درکار ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی اور انٹرنیٹ

تحریر: ڈاکٹر توصیف احمد خان ملک کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے تمام یونیورسٹیوں کو …