بدھ , 27 مئی 2020

پاکستان اور ترکی کے سعودی عرب پر الزامات

اداراتی نوٹ
ترکی کے وزیر داخلہ نے سعودی عرب کی طرف سے عمرہ کے حجاج میں کرونا وائرس کے کیسز کو چھپانے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمسایہ ممالک میں کرونا وائرس پھیلانے میں اہم کردار کا حامل ہے۔ ترک وزیر داخلہ نے سعودی عرب سے عمرہ کرکے واپس آنے والے ترک شہریوں میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے کہ آل سعود کی حکومت نے ہمسایہ ممالک کو اس بات کی معلومات فراہم نہیں کیں کہ سعودی عرب میں کئی غیر ملکی کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب کی اس نااہلی، عدم توجہ اور غفلت کیوجہ سے بہت سے ممالک میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ترکی میں کئی دوسرے ممالک کی طرح ہزاروں افراد کرونا میں مبتلا ہوئے ہیں اور درجنوں افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ ترکی کے وزیر داخلہ نے تو حقیقت کو بیان کر دیا ہے، کیونکہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان پہلے بھی کشیدگی موجود تھی، لیکن پاکستان سمیت بہت سے ممالک سعودی عرب کیساتھ خوشگوار اقتصادی تعلقات کیوجہ سے حقائق بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تو کرونا وائرس سے ہونے والی پہلی موت بھی سعودی عرب سے آئے ہوئے ایک پاکستانی حاجی کی ہوئی ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاو کے حوالے سے دنیا بھر میں الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے اور اس الزامات کی بھرمار میں حقائق چھپ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک مخصوص ذہن رکھنے والا متعصب طبقہ ایران سے آنے والے زائرین کو اسکا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

جبکہ فروری کے اوائل میں ایران کے مقدس شہر قم میں کرونا کا کیس سامنے آیا تو ایران کے ایک حلقے نے اس کا الزام پاکستان پر لگایا تھا اور میڈیا میں بھی یہ بات آنا شروع ہوگئی تھی کہ کرونا چین سے پاکستان اور پاکستان سے ایران آیا۔ تاہم ایران کے حکومتی حلقوں نے اس کو سختی سے مسترد کیا اور بعد میں طبی بنیادوں پر بھی ثابت ہوگیا کہ ایران میں وائرس پھیلانے میں پاکستانی شہریوں کا کوئی قصور نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان میں بھی یہ ثابت ہو جائیگا کہ پاکستانی زائرین کرونا وائرس پھیلانے میں ملوث نہیں۔ لیکن ترکی میں پھیلنے والا کرونا وائرس سعودی عرب سے آیا ہے، اس کو سعودی عرب مسترد نہیں کر رہا اور نہ کر پائے گا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پاراچنار، عظیم الشان عالمی القدس ریلی

رپورٹ: ایس این حسینی قدس جلوس 2020ء طرح طرح کی دھمکیوں نیز حکومت کی جانب …