ہفتہ , 30 مئی 2020

کورونا کیخلاف جنگ صرف لڑنی ہے یا جیتنی بھی ہے؟؟؟

تحریر: عمران خان

یقین کریں، اس وقت سب سے زیادہ مشکل کا شکار سفید پوش طبقہ (لوئر مڈل کلاس) ہے، جو ہر اچھے برے دنوں میں ”اللہ کا شکر ہے” کا کلام کرتے ہوئے اپنی خودداری بچائے رکھتا ہے۔ یہ طبقہ معاشرے میں اس طرح اپنی عزت بچائے اور بھرم بنائے ہوئے ہے کہ نہ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا اور نہ کبھی سیاسی بونوں، سیاستکاروں، عوامی نمائندوں یا اختیارات رکھنے والے سرکاری ملازمین کی خوشامد اور نعرے بازی کرکے مال سمیٹا۔ یہ طبقہ پاکستان کی وہ خاموش اکثریت بھی ہے کہ جو ٹھیک کو ٹھیک اور غلط کو غلط سمجھتا ہے۔ یہی طبقہ اپنے اچھے دنوں میں سب سے زیادہ ویلفیئر بھی کرتا ہے، بغیر کسی نمود و نمائش کے بھوکے کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا بھی کھلاتا ہے۔ جب خریداری کرتا ہے تو خیرات کرنے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ خرید لیتا ہے۔ اسی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد خاموشی سے کسی یتیم کے کفیل ہیں تو کسی بیوہ کے مددگار بھی اور یہی وہ طبقہ ہے کہ جو اپنے آس پاس والوں کا خیال رکھتا ہے۔ سچ پوچھیں تو اسی طبقے کی وجہ سے ہی عبادت خانے بھی آباد ہیں اور نجی لنگر خانے بھی، کیونکہ میں نے مساجد کے اندر ایلیٹ کلاس اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کو کم ہی دیکھا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ یہی طبقہ امتحان سے گزر رہا ہے۔

آج صدر بازار میں واقع ایک دکان سے دودھ خرید رہا تھا کہ اسی طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص وہاں آکر رکا۔ اسے دیکھ کر دکاندار نے میرا شاپر میرے سامنے رکھنے کے بعد ایک اور بڑا لفافہ اٹھایا۔ اس شخص نے دکاندار کو روکتے ہوئے جلدی سے کہا کہ ”ملک صرف آدھا کلو دودھ دینا ہے۔” حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اس شخص کے دو چھوٹے بچے ہیں، جن کی غذا ہی دودھ ہے۔ دودھ فروش نے اس کی جانب دیکھا اور پوچھا کیوں خیر ہے۔؟ آپ کا تو اڑھائی کلو جاتا تھا ناں روزانہ۔ کل ایک کلو لیا اور آج آدھا کلو، خیر تو ہے۔ میں نے اس دوران اپنے پیسے دکاندار کے ہاتھ پہ رکھے اور واپس مڑنے لگا، مگر دھیان اس کی بات کی جانب ہی تھا۔ جلدی میں اس سے اور تو کوئی بات نہیں بن پڑی، اس نے کہہ دیا کہ میں پیسے گھر بھول آیا ہوں۔ دکاندار نے بڑے لفافے کو ہاتھ مارا اور کہا کوئی بات نہیں بعد میں دے دینا۔ بظاہر یہ چھوٹا سا واقعہ ہے اور اس طرح کے واقعات ہم میں سے اکثر افراد کے سامنے آج کل پیش آرہے ہیں۔ تاہم یہ واقعات اپنے اندر المیے چھپائے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی امدادی پیکج وصول کرنے کے فوٹو سیشن کرانے پہ آمادہ ہوتے ہیں۔ حکومت کو بہر طور ان کے لیے سوچنا ہوگا۔ ہر صورت ان کے دروازے تک اتنی مدد پہنچانی ہوگی کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنا وجود بچا سکیں۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور نے آج ڈیرہ اسماعیل خان سرکٹ ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ریلیف پیکج جاری ہوچکے ہیں۔ چند دنوں میں ہی یہ امدادی ریلیف پیکج عوام تک پہنچ جائیں گے۔ ریلیف پیکج کی تقسیم کا عمل مکمل طور پر شفاف ہوگا اور اس میں کوئی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو، مگر اس کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ اس عنوان سے سابقہ ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کورونا کے خلاف ہم سب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم سب اپنی استعداد سے بڑھ کر اس جنگ میں شریک ہیں۔ ایک ایسے ان دیکھے دشمن سے نبرد آزما ہیں کہ اس کا نشان ہمیں اس وقت ملتا ہے کہ جب وہ ہمارے اندر سرایت کرچکا ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے محاذ پہ مصروف جنگ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی فرنٹ لائن پہ موجود ہے اور کوئی ان کی پشت پہ کمک کا کام کر رہا ہے۔

اس صورتحال میں یہ سوال ہم سب کیلئے اہم ہے اور ہونا بھی چاہیئے کہ ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے یا فقط لڑنی ہے اور اگر جیتنی ہے تو کتنی مدت میں اور کیسے؟ جب تک ان سوالوں کو سامنے رکھ کر ہم اپنی حکمت عملی ترتیب نہیں دیں گے، اس وقت تک ہم یہ جنگ لڑ تو سکتے ہیں، مگر شائد کہ اسے جیت نہیں سکتے، کیونکہ ہم نے اب تک جو حکمت عملی اپنائی ہے، صورتحال، وقت، وسائل اور نتائج کے ضمن میں بہترین نہ سہی مگر بہتر ضرور رہی۔ یاد رہے کہ یہ تمام تر حکمت عملی کورونا کو ختم کرنے کی ہرگز نہیں تھی۔ اب تک کے اقدامات کا ہدف یہی تھا کہ نقصان کم سے کم ہو۔ کورونا کو کم سے کم شکار ملے اور جو شکار کورونا کو ملے بھی سہی تو وہ کورونا کا ہتھیار نہ بن سکے۔ حاصل کلام کہ کورونا کے خلاف اب تک ہم دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ کورونا ہم پہ حملہ آور ہے اور کسی بھی جارح حملہ آور دشمن کی پہلی شکست یہی ہوتی ہے کہ اس کی پیش قدمی روک دی جائے، اس کے حملے میں کم سے کم نقصان ہو اور جو نقصان ہو، اس کی ریکوری کا عمل بھی دوران جنگ ابتداء سے ہی شروع ہو جائے۔ شکر الحمد اللہ ہم کورونا کے اس جارحانہ حملے میں اپنی دفاعی جنگ کے پہلے مرحلے میں کسی حد تک کامیاب ٹھہرے ہیں۔

تقریباً ایک مہینے سے کورونا کا حملہ جاری ہے، جبکہ اس دوران 1404 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دشمن کورونا نے ہمارے جن افراد کو متاثر کیا ہے، ان کا علاج جاری ہے۔ جہاں 11 اموات ہوئی ہیں تو 27 افراد مکمل طور پر صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ یعنی بالحاظ نتیجہ اتنا برا بھی نہیں۔ کورونا کے خلاف یہ قابل قبول نتیجہ، بہت بہترین بھی ہوسکتا تھا، اگر کورونا سے متعلق درست اور بروقت معلومات، انسانی نفسیات کے اصول کو ملحوظ رکھ کر پہنچائی جاتیں۔ جیسا کہ کورونا کی بذات خود کوئی حیثیت نہیں ہے، کورونا خود کوئی طاقت نہیں ہے۔ کورونا کی اصل طاقت ہم خود ہیں کہ جو کورونا کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ جب تک ہمارا دشمن ہمارے اندر تک سرائیت نہیں کرتا، اس وقت تک اس کی حیثیت محض ایک عام سے جرثومے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کہ جو ایک مقررہ مدت میں اپنی موت آپ مر جائے گا۔ جیسے ہی کورونا کو ہمارا جسم میسر آتا ہے، وہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ اتنا طاقتور کہ ہمیں کھاتا بھی ہے اور اپنے ہتھیار کے طور پر دوسرے انسانوں کے خلاف استعمال بھی کرتا ہے۔ یعنی جو کورونا کا شکار ہے، وہی کورونا کا ہتھیار ہے۔ معاشرے کے اندر اس شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت تھی کہ ہر انسان اس بات کا خود فیصلہ کرے کہ اس نے کورونا کا ہتھیار بنکر اپنے ہی خاندان، ہمسایوں، پیاروں اور اپنے ہی شہریوں کو شکار کرنا ہے یا کورونا کو خود سے اور اپنوں سے دور رکھنا ہے۔ بہرحال سوسائٹی میں کورونا کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں تاخیر سے کام لیا گیا۔

اب جو خطرناک خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں تو وہ آنے والے دنوں میں خطرناک ترین صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ ہمارے فرنٹ لائن پہ موجود افراد اس وائرس سے متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد، کراچی میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملہ متاثر ہوا ہے جبکہ ڈیوٹی پہ موجود پولیس اہلکاروں میں بھی اس وائرس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ مختلف ممالک سے آنے والے چار ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں کہ جو ائیر پورٹس سے نکل کر کمیونٹی کے اندر گم ہوچکے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے، مگر ان کے بتائے گئے ایڈریس فرضی جبکہ نوٹ کرائے گئے موبائل نمبرز مسلسل بند مل رہے ہیں۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے 20 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے کہ جو ایک بہت بڑے دینی اجتماع میں شریک ہوئے اور اس اجتماع میں پاکستان کے ہر ضلع سے مختلف افراد نے شرکت کی۔ حکومت کے پاس ایسے کوئی وسائل دستیاب نہیں کہ وہ ان تمام افراد کو پورے ملک میں سے ٹریس کرے اور ان کے ٹیسٹ کرائے۔ خدانخواستہ اگر ان میں سے صرف ایک فیصد کے اندر بھی یہ وائرس موجود تھا تو اب تک متاثرین کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہونے کا اندیشہ ہے۔ راولپنڈی، لاہور، کراچی، ڈیرہ اسماعیل خان اور چند دیگر شہروں سے کورونا کے ایسے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے کہ کئی دنوں سے شکایت میں مبتلا تھے، مگر سماجی دوری کی جانب نہیں گئے، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

ان خبروں کے باوجود اب تک کی کورونا کے خلاف دفاعی جنگ کا فیصلہ اس حد تک ہمارے حق میں ہے کہ متاثرین کی تعداد اور اموات ریڈ لائن سے نیچے ہیں۔ اب آتے ہیں اس سے اگلے فیز کی جانب۔ کورونا پہ قابو پانا اور اس کا خاتمہ (جس کی جانب ہم نے ابھی تک قدم بڑھایا ہی نہیں) کورونا کے خاتمے کی خواہش اپنی جگہ، مگر اپنی یہ استعداد ہمیں ملحوظ رکھنی چاہیئے کہ بار بار بلکہ ہر بار اور ایک ماہ میں دو دو بار کامیاب پولیو مہم چلانے اور کئی پولیو ورکرز اور سکیورٹی کے جوانوں کی قربانیاں دینے کے باوجود ہم پولیو کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں، یعنی بیماریوں کے خلاف جنگ میں ہمارا ریکارڈ اتنا اچھا نہیں ہے، جبکہ یہ تو وبا ہے اور وبا بھی ایسی کہ جس نے دنیا کی نام نہاد سپرپاورز اور ترقی یافتہ ممالک اور مضبوط معیشتوں کو گٹھنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا ہے، مگر اس کے باوجود بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ کیونکہ جس طرح ابھی کورونا کے خلاف حکومت، ادارے، قوم یکجان ہیں، اگر پولیو کے خلاف بھی اسی طرح ایک پیج پہ ہوتے تو اب تک پاکستانی بچے پولیو کے خطرے سے ہمیشہ کیلئے اپنا دامن چھڑا چکے ہوتے۔

کورونا پہ قابو پانے کیلئے ہمیں مختصر عرصے کیلئے ایک مزید مشکل مرحلے سے گزرنا ہوگا اور وہ مشکل مرحلہ ہوگا مکمل طور پر پورے ملک میں لاک ڈان، کرفیو کی طرز پہ لاک ڈاون۔ ہمیں کورونا کے عفریت پہ مکمل قابو پانے کیلئے اس کی جانب لامحالہ جانا پڑے گا۔ کیونکہ خدانخواستہ اگر اس جانب نہیں گئے تو یہ کورونا بھی دہشت گردی کی مانند ہماری جڑوں میں بیٹھ کر ہمارے ہی خلاف گوریلا جنگ شروع کر دے گا، جو کہ اعصاب شکن اور طویل المدت ہوگی۔ ظاہر ہے قلیل وسائل اور کثیر آبادی رکھنے والا ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ اس معمولی مگر قاتل جرثومے میں اتنی قوت ہے کہ اگر اسے ایک انسان کا جسم بھی اپنی کالونی کی تیاری کیلئے ملتا ہے تو یہ کچھ مدت کے اندر 60 ہزار انسانی جسموں کے اندر سرایت کر لیتا ہے۔ اب ایسی صورت میں انتہائی اقدام کی جانب تو باامر مجبوری جانا ہی پڑے گا۔

اس لاک ڈان سے قبل حکومت، قومی سیاسی و مذہبی جماعتیں، فلاحی انجمنیں اور مخیر اداروں کو ایک بھرپور ویلیفئر آپریشن کرنا ہوگا۔ وہ آپریشن ضرورت مند کے دروازے تک غذا اور دوا کی فراہمی کا ہونا چاہیئے۔ مطلب اس لاک ڈان کے دوران کسی بھی شخص کو گھر سے باہر آنیکی نہ ضرورت ہو اور نہ تاویل اور نہ ہی ریاست اسے باہر نکلنے کی اجازت دے۔ ویلفیئر آپریشن کے دوران ہر ڈویژن، ضلع، تحصیل انتظامیہ کو اپنے اپنے ایریا میں کورونا کو منجمد (آئسولیٹ کرنے کی) کی بھرپور تیاری رکھنی ہوگی۔ تین سے چار دن کے اس مکمل لاک ڈان میں پورے ملک کے اندر کورونا کے جتنے بھی مشتبہ کیسز ہوں گے، وہ ظاہر ہو جائیں گے۔ جہاں جہاں کورونا کا سراغ ملے، وہاں کی انتظامیہ اپنی نگرانی میں قرنطینہ یا آئیسولیشن وارڈز میں منتقل کرے۔ عین ممکن ہے کہ اس آپریشن میں ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں مشتبہ کیسز سامنے آئیں۔ ریاستی سطح پہ الحمداللہ اتنے وسائل موجود ہیں کہ اس پورے عمل کو احسن طریقے سے انجام دیا جا سکے۔

ہر ضلع میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹری قائم کی جائے اور بڑے پیمانے پہ قرنطینہ سنٹر کا انتظام کیا جائے، جہاں اور جس شخص میں کورونا کی علامات ہوں تو اس کے ٹیسٹ کے بعد قرنطینہ سنٹر میں منتقل کیا جائے۔ قرنطینہ میں موجود افراد کی خوراک کی ذمہ داری نجی ٹرسٹ بھی لے سکتے ہیں، جبکہ علاج کا عمل پہلے کی طرح ڈی ایچ کیو کی نگرانی میں۔ مکمل لاک ڈان میں یہ آپریشن کومبنگ آپریشن کی مانند ہوگا کہ جو ماضی قریب میں سکیورٹی اداروں نے دہشتگردی کے خلاف کیا تھا، مگر اس کی نوعیت اور ہدف صرف اور صرف کورونا ہوگا۔ یقیناً ریاست اور ریاستی اداروں کیلئے یہ آپریشن چیلنج سے کم نہیں ہوں گے، مگر کورونا پہ قابو پانے کیلئے یہ کرنا پڑے گا۔ مکمل لاک ڈان کے دوران انجام پانے والے اس کامیاب آپریشن کے بعد پاکستان اس موذی کورونا پہ قابو پانے والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہوگا۔ سرفہرست اس لیے کہ کورونا سے متاثرہ ممالک کے ساتھ اگر پاکستان کا تقابلی جائزہ لیں تو ان کی نسبت پاکستان کے حالات شکر الحمد اللہ بہت بہتر ہیں اور دوسروں کی نسبت ہم نے زیادہ بہتر طریقے سے یہ جنگ لڑی ہے، تاہم کورونا پہ قابو اس آپریشن اور سخت لاک ڈاون ک بعد ہی پایا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد اگلا مرحلہ کورونا کے خاتمے کا ہوگا۔ جو انجام دینے کیلئے گلی، محلوں، مساجد، مدارس، امام بارگاہوں، درس گاہوں اور روٹ لیول پہ موجود سکاوٹ یا رضاکار تنظیموں کی خدمات ریاست کو لینی پڑیں گی۔ وسائل اور تربیت ضلعی حکومتیں اور ادارے فراہم کریں گے، جبکہ افرادی قوت شہریوں کی اپنی ہوگی اور کام ہوگا، صرف اور صرف۔ کورونا کی صفائی، ڈس انفیکشن اور یہ آپریشن کورونا کے مکمل خاتمے کی ضمانت ثابت ہوگا۔ ان آپریشنز میں نمایاں کارکردگی انجام دینے والے افراد اور اداروں کو ریاست ہیرو قرار دے اور انہیں اپنے اپنے شعبوں میں مزید ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ ریاست انہیں اتنی عزت دے کہ ان کا کردار معاشرے کیلئے نمونہ عمل بنے۔ ان اقدامات سے ایک طرف تو کورونا کا خاتمہ ہوگا(انشااللہ)، دوسری طرف یہ قوم بھی ناکامی کے احساس سے کامیابی کے تفاخر کی جانب سفر کرے گی۔ ایک زندہ، کامیاب اور دردمند قوم کے طور پر یہ بھی سر اٹھا پائے گی۔ پاکستان کے مسائل کی ایک بڑی وجہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ آج موقع ہے، ریاست کیلئے کہ وہ مختصر مدت میں ان کا اعتماد جیت پائے۔ جب لاک ڈان سے پہلے ہی ضرورت مند کے دروازے پہ غذا اور دوا دونوں موجود ہوں گی تو ریاست، اس کے اداروں اور نظام پہ اس عام آدمی کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

بھارت کی نئی پریشانیاں

تحریر: مظہر برلاس پہلے تو فواد چوہدری کو مبارک کہ انہوں نے ملک میں برسوں …