ہفتہ , 30 مئی 2020

شہید غازی عباس علمدار (ع)

تحریر: سیدہ سائرہ بانو

شعبان المعظم واقعہ کربلا کے عظیم کرداروں کی ولادت کا مہینہ ہے۔ 4 شعبان سالار کربلا حضرت عباس علمدار (ع) کا یوم ولادت ہے۔ حضرت عباس علیہ السلام، امام علی علیہ السلام اور بی بی فاطمہ ام البنین سلام اللہ علیہا کے فرزند ہیں، اس نسبت سے آپ ہاشمی و کلابی تھے۔ امام علی علیہ السلام جانتے تھے کہ ان کے فرزند حسین علیہ السلام کربلا میں حق و باطل کے معرکہ میں شہید ہوں گے، اس لئے آپ علیہ السلام نے ارادتا بی بی ام البنین کو شادی کے لئے منتخب کیا تاکہ ان سے دلاور فرزند پیدا ہوں۔ یہ خاتون بہادروں کی قبیلہ "بنی کلاب” سے تعلق رکھتی تھیں، خدا نے انہیں چار فرزند عطا کیے جو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی معیت میں شہید ہوئے۔ اسقدر جاندار نسب رکھنے والے عباس علمدار (ع) کی شخصیت بھی کم اہم نہیں۔ اسے خاندان اہل بیت علیہم السلام کی کرامت کہا جاسکتا ہے کہ اس خاندان کی ہر اکائی منفرد اور دوسرے سے ممتاز ہے۔

نام، کنیت اور لقب
حضرت عباس علمدار (ع) کا نام "عباس” ہے جس کے معنی چیر پھاڑ کرنے والے شیر کے ہیں۔ آپ (ع) "ابوالفضل” کی کنیت سے مشہور ہیں کیونکہ آپ کے بیٹے کا نام فضل تھا۔ آپ (ع) کی ایک کنیت "ابوالقربہ” بھی ہے جس کے معنی "ملازم مشک” ہے۔ یہ کنیت آپ (ع) کو کربلا میں پانی کی مشک کی حفاظت اور اس کے پانی کو پیاسوں تک پہنچانے کی کوشش کی وجہ سے دی گئی ہے۔ آپ (ع) کے مشہور ترین القاب "قمر بنی ہاشم” ، "باب الحوائج” ، "علمدار” ، "سقا” اور "عبد صالح” ہیں۔

شمائل حضرت عباس علیہ السلام
آپ (ع) اسقدر وجیہ اور خوبصورت تھے کہ آپ (ع) کو قمر بنی ہاشم کہا جاتا ہے۔ آپ (ع) کا قد اتنا دراز تھا کہ جب گھوڑے پر سوار ہوتے پاوں زمین سے آ لگتے تھے۔

فضائل حضرت عباس علیہ السلام
حضرت عباس علمدار (ع) تقوی، علم و دانش اور آداب و اخلاق میں بلند مقام کے حامل تھے۔ آپ (ع) کی شخصیت سازی میں والدین اور برادر بزرگ امام حسین علیہ السلام نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ (ع) کو اپنے بھائی سے بیحد عقیدت تھی۔ عباس علیہ السلام، اپنے بڑے بھائی کے لئے مثل علی تھے۔ جس طرح علی علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت اور مشن کی تکمیل کے لئے ان کی حفاظت اور پیروی کی، اسی طرح عباس علمدار (ع) بھی مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک امام حسین علیہ السلام کے ہم رکاب رہے اور بالآخر دین کی بقا اور بھائی کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ آپ (ع) کی منزلت و مقام کو آئمہ معصومین علیہم السلام نے بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "میرے چچا عباس (ع) گہری بصیرت اور مضبوط ایمان کے مالک تھے۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے حضور جہاد کیا اور اس نیک راستہ پر گامزن ہوکر شرف شہادت حاصل کیا۔” (1)
ایک اور مقام پر فرمایا: "حضرت عباس (ع) خدائے متعال کے نزدیک ایسا بلند مقام رکھتے ہیں کہ تمام شہداء (اولین و آخرین) قیامت کے روز آپ (ع) کا مقام حاصل کرنے کی تمنا کریں گے۔” (2)

احترام امام حسین علیہ السلام
حضرت عباس علمدار (ع) کے آداب کی یہ کیفیت تھی کہ آپ (ع) امام حسین علیہ السلام کے پاس ایک غلام بن کر حاضر اور ان کی اطاعت میں مشغول رہتے اور ان کو ہمیشہ "یا ابا عبداللہ” ، "یابن رسول اللہ” اور "یاسیدی” کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ آپ (ع) نے سوائے یوم عاشور امام حسین (ع) کو بھائی کہ کر مخاطب نہ کیا۔

شجاعت و دلاوری
حضرت عباس علمدار (ع) بہادر ماں کے بہادر بیٹے تھے۔ آپ (ع) نے امام علی علیہ السلام کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی جن میں آپ (ع) بمثل شیر مخالفین پر حملہ آور ہوئے اور انہیں ہلاک کیا۔ آپ (ع) کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ شب عاشور جب اصحاب امام حسین علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے تو آپ (ع) حفاظت کی غرض سے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر خیام کے گرد گشت کرتے رہے۔

شہادت
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی شہادت اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی خیر خواہی اور ان سے وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روز عاشور آپ (ع) امام حسین (ع) کے حکم پر ہی اہل حرم کے لئے نہر پر پانی لینے گئے، چونکہ آپ (ع) کا ہدف خیموں تک پانی پہنچانا تھا، اس لئے آپ (ع) پانی تک رسائی حاصل کرنے کے باوجود تشنہ لب لوٹے۔ یزیدی فوج نے آپ (ع) کو پانی خیموں تک پہنچانے نہ دیا اور آپ (ع) کے دونوں بازو قطع کردیے۔ آپ (ع) سر پر گرز لگنے کے نتیجے میں بالآخر شہید ہوئے۔

شفاعت عباس (ع)
قیامت کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام علی علیہ السلام سے فرمائیں گے کہ فاطمہ (س) سے پوچھو کہ امت کی شفاعت و نجات کے لئے اس سخت وقت میں آپ کے پاس کیا ہے؟ تو جواب میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا فرمائیں گی: "اے امیرالمومنین! ہمارے پاس (امت کی) شفاعت کے لئے میرے بیٹے عباس (ع) کے دو کٹے ہوئے ہاتھ کافی ہیں۔” (3)

حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی ولادت کا بیان ان کی شہادت کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ آپ (ع) بیک وقت غازی ہیں اور شہید بھی۔ آپ (ع) کربلا کے پیاسوں کی آس تھے، غازی بن کر نہر کی طرف گئے اور شہید ہو کر خیموں کی طرف لوٹے۔ بقول شاعر: ہو کر شہید بھی یہ ہے غازی بنا ہوا۔۔۔ آپ (ع) کا مرقد کربلا میں ہے جہاں ہزاروں زائرین اپنی حاجت روائی کے لئے آپ سے توسل کرتے ہیں۔

(1) امالی صدوق خصائل ج 1 ص 68
(2) بحارالانوار 298/44
(3) معالی السبطین 276/1

یہ بھی دیکھیں

بھارت کی نئی پریشانیاں

تحریر: مظہر برلاس پہلے تو فواد چوہدری کو مبارک کہ انہوں نے ملک میں برسوں …