اتوار , 31 مئی 2020

سائنسدانوں نے اینٹوں کو گیما شعاعیں پہچاننے والےکیمروں میں تبدیل کردیا

نارتھ کیرولائنا: اب کسی بھی عمارت کی دیوار میں لگی اینٹوں کو ایک طرح کا کیمرہ بناکر اس میں تابکاری سے متاثر ہونے کا مکمل احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس میں بصری لحاظ سے اینٹوں کی دمک کو بڑھایا گیا ہے۔ چونکہ بم سازی کے درجے کی پلوٹونیئم کئی طرح کی معدنیات سے اپنا تعامل کرتی ہے اسی لحاظ سے کسی دیوار یا اینٹ کے قریب یہ تابکار مادہ لایا جائے تو اس کا تاریخی ریکارڈ مرتب ہوتا رہتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ تعمیراتی مٹیریل عین تھری ڈی شکل کی طرح کام کرتا ہے اور گیما شعاعوں کے آثار کو نوٹ کرسکتا ہے۔ بعض اقسام کی معدنیات مثلاً کوارٹز اور فیلڈسپارگیما شعاعوں سے عمل کرتی ہیں اور اس کے الیکٹران ان معدنیات میں قید ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انہیں سرگرم کیا جائے تو اندر پھنسے الیکٹران باہرنکل آتے ہیں جن کی پیمائش فوٹو ملٹی پلائیر نامی آلے پرکی جاسکتی ہے۔ اس طرح نہ صرف ماضی بلکہ اس وقت بھی علاقے میں موجود کسی تابکار مادے کی موجودگی کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

نیوکلیئر انجینیئرنگ سے وابستہ معاون پروفیسر رابرٹ ہیس کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق اینٹوں کو گیما رے کیمرہ بناسکتی ہے جس سے اطراف میں موجود تابکار اشیا کی موجودگی معلوم کی جاسکتی ہے۔’اگرچہ ہم نے اینٹوں کی بجائے تابکاری ناپنے والے ڈوزی میٹر استعمال کئے ہیں لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرح عین ممکن ہے کہ اینٹوں میں چھپے تابکاری کے اثرات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اس بار ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ تابکاری کا محور بم بنانے کے درجے (ویپن گریڈ) والا پلوٹونیئم تھا جس کا وزن ساڑھے چار کلوگرام تھا ۔ دوسری جانب ہم نے نہ صرف تابکاری کا پتا لگایا بلکہ خاص دائرے میں اس تابکار شے کی نشاندہی بھی کی ہے،‘ ڈاکٹر رابرٹ نے کہا۔عمارت کی اینٹوں میں معمولی مقدار میں زرقون، فیلڈسپاراور دیگر سلیکیٹس موجود ہوتے ہیں۔ ان ذرات کو اینٹوں سے نکالنا مشکل ہوتا ہے لیکن ماہرین نے یہ کام کئی بار انجام دیا ہے اور اس طرح ہم اینٹوں میں گیمارے، تابکاری اور اشعاع کے آثار بہت آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکی مظاہرین کو سرکوب کرنے پر روس کا سخت رد عمل

روس کی وزارت خارجہ نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو …