جمعرات , 4 مارچ 2021

افغان طالبان نے داعش کے خاتمے کیلئے روس سے روابط کی تردید کردی

داعش کی بیخ کنی کیلئے طالبان نے روس سے رابطوں کی تردید کردی ہے۔ قبل ازیں روسی وزارت خارجہ میں افغان امور کے سربراہ اور کرملین میں افغان ڈیسک کے نگران زامیر کابولوف نے اپنے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ ان کے ملک اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان سے داعش کے خاتمے کے سلسلے میں معلومات کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ عرب میڈیا کو دیئے گئے ایک بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے داعش کی بیخ کنی کے لئے روس اور اپنی تنظیم کے درمیان رابطوں اور معلومات کے تبادلے سے متعلق روسی دعوے کی تردید کر دی ہے اور کہا ہے کہ داعش کے خاتمے کی خاطر طالبان کو کسی کی مدد درکار نہیں ہے۔ روسی عہدیدار نے کہا تھا کہ افغانستان میں داعش کا پھیلاو روکنے جیسے مشترکہ مفادات کے ضمن میں ماسکو اور طالبان کے درمیان رابطے موجود ہیں، طالبان اور روسی مفادات معروضی طور پر ہم آہنگ ہیں، کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں سرگرم طالبان دونوں ہی داعش اور اس کے خود ساختہ خلیفہ کو ماننے سے انکاری ہیں۔ طالبان کا موقف سامنے آنے کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا روفا نے کابولوف کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماسکو اور طالبان کے درمیان رابطے محدود ہیں اور صرف معلومات کے تبادلے تک موقوف ہیں۔ دونوں فریقین نے اس ضمن میں کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …