جمعرات , 3 دسمبر 2020

کورونا آزمائش : جذبہ ایثار کہاں ہے؟

تحریر؛ تنویر قیصر شاہد

وطنِ عزیز میں بھی کورونا وائرس کی دہشت انگیز وبا مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مبینہ طور پر ملک بھر میں 1500افراد کے متاثر ہونے اور ایک درجن شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اور ساری دُنیا کو اس وبا سے نجات عطا فرمائے۔ آمین۔وزیر اعظم جناب عمران خان اپنے معتمد ساتھیوں کے ساتھ کورونا وائرس کو محدود سے محدود تر کرنے کی سعی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اُن کی طرف سے، کورونا عذاب کے ان ایام میں، ریلیف کے کچھ اعلان بھی کیے گئے ہیں۔ مثلاً: انتہائی ضرورتمندوں اور دیہاڑی داروں کو ماہانہ تین ہزار روپے دینے کا اعلان ۔ اگرچہ یہ تین ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے لیکن پاکستان ایسے غریب ملک کی طرف سے اسے بھی غنیمت سمجھنا چاہیے ۔ بینکوں کی شرحِ سُود بھی تھوڑی سی کم کی گئی ہے ۔ پٹرول کی قیمت میں 15روپے فی لٹر کم کرنے کا قدم اُٹھایا گیا ہے ۔ نئے عارضی اسپتال بھی بنائے جا رہے ہیں ۔

چیئرمین این ڈی ایم اے ، لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل ، نے وزیر اعظم اور اخبار نویسوں کی موجودگی میں یہ حوصلہ افزا اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں اچانک نایاب ہو جانے والے فیس ماسک کی ڈیمانڈ جلد پوری کر دی جائے گی۔جنرل مذکور نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کٹس کی کمی بھی دُور کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہماری سرکار اپنی رعایا کو تسلّی دے رہی ہے کہ ملک میں خوراک (خصوصاً آٹا) کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ خدا کرے ان اعلانات پر عمل بھی تیزی سے ہو جائے ۔

مشاہدات ہیں کہ ملک بھر میں بسنے والے اہلِ ثروت کی طرف سے ضرورتمندوں کی مدد کے لیے جس ایثار اور قربانی کی مثالیں قائم کی جانی چاہئیں تھیں ، قائم نہیں کی جا سکی ہیں ۔ ایثار کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان دولتمندوں سے تو لا مذہب چین کا ایک دولتمند  شخص(جیک ما) ہی عظیم ثابت ہُوا ہے جس نے اپنی محنت کی کمائی سے 5ارب ڈالرز کی بھاری رقم کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کے لیے وقف کردی ہے ۔ اس امداد سے پاکستان کے غریب عوام بھی مستفید ہو سکیں گے ۔کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا شخص اُٹھتا!!

کورونا زدگان کی اعانت اور کورونا کی وبا میں ضرورتمندوں کی دستگیری کے لیے ’’فیس بک‘‘ کے ادارے نے بھی Solidarity Response Fundکو 10ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے ۔چین، بھارت اور امریکا میں دولتمند افراد اگر کورونا وائرس کی اس وبا کے دوران ایثار سے کام لینے اور انسانیت سے محبت کرنے کی مثالیں قائم کررہے ہیں تو ایسی مثالیں برطانیہ میں بھی جنم لے رہی ہیں ۔ افسوس یہ ہے کہ عالمِ اسلام میں ابھی تک ایسی کوئی بڑی مثال سامنے نہیں آ سکی ہے ۔

حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ دُنیا بھر کے لیے سلامتی کے پیامبر مذہب ِ اسلام کے پیروکار سب پر بازی اور سبقت لے جاتے ۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم مسلمان ساری دُنیا کوانسانیت نوازی ، امن اور سلامتی کا عملی پیغام دے سکتے تھے ۔ایثار کی لاتعداد مثالیں ہماری اسلامی تاریخ میں جا بجا ملتی ہیں ۔ ہمارے پُر شکوہ اسلاف کی یہ مثالیں اب بھی ہماری طاقت بن سکتی ہیں۔ ان مثالوں کو آگے بھی بڑھایا جا سکتا تھا اور ان میں اضافے کے لیے ہمارے پاس نیا ماحول بھی پیدا ہُوا ہے۔ شائد ہم اس نئے ماحول سے بھرپور اسپرٹ کے ساتھ فائدہ نہیں اُٹھا سکے ہیں ۔پاکستان کے عوام دُنیا بھر میں فلاحی کام کرنے اور اپنے ذاتی خرچے پر غریب طبقات کی دستگیری کرنے میں سرِ فہرست مقام رکھتے ہیں۔ لاہور ، کراچی اور اسلام آباد میں بروئے کار ایسے کئی نجی اداروں اور افراد کو راقم ذاتی حیثیت میں جانتا ہے جو کم از کم دن میں دوبار ڈھونڈ ڈھونڈ کر تہی دستوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں ۔ اسپتالوں میں جا کر غریب مریضوں اور اُن کے لواحقین کی دامے درمے اعانت کرتے ہیں ۔

حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ کورونا وائرس کی اس مہلک وبا کے دوران وسیع پیمانے پر امداد فراہم کرنے والے پاکستانی افراد ، گروہ اور ادارے کم کم سامنے آئے ہیں ۔ وطنِ عزیز کی سیاسی جماعتوں ، ان کے بے تحاشہ دولتمند سیاسی قائدین اور بے اَنت دولت کے مالک سیاستدانوں کی طرف سے نہ تو نجی حیثیت میں اور نہ ہی اجتماعی حیثیت میں کورونا وبا کے غریب متاثرین کی مدد امداد کے لیے کوئی اعلان کیا گیا ہے۔نون لیگ کے صدر جناب شہباز شریف کی طرف سے البتہ یہ اعلان ضرور سامنے آیا ہے کہ اُن کے خاندان کی نجی ملکیت میں بروئے کار اسپتال کورونا وائرس کے متاثرین کے مفت علاج معالجے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں ۔نون لیگ کی عظمیٰ بخاری کی طرف سے بھی اعلان کیا گیا ہے کہ ہم کورونا فنڈ قائم کررہے ہیں جس میں سب سے پہلے نون لیگی ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور نون لیگی سینیٹر حضرات فنڈ میں حصہ ڈا لیں گے ۔ جماعتِ اسلامی بھی کورونا متاثرین کے غریب متاثرین کا ہاتھ تھامتے کہیں کہیں نظر آ رہی ہے۔پیپلز پارٹی کی دولتمند قیادت نجی حیثیت میں نجانے کیوں خاموش ہے ؟واقعہ یہ ہے کہ آزمائش کی ان گھڑیوں میں ہمارے دولتمند سیاستدانوں کی جانب سے عوام کے لیے ایثار کی جو قابلِ تقلید مثالیں قائم کی جانی چاہئیں تھیں ، نہیں کی جا سکی ہیں ۔ کیا یہ المیہ نہیں ہے؟ عوام اُن  سیاستدانوں کو خوب جانتے ہیں جو اربوں کے مالک ہیں۔ جو کروڑوں اربوںکے فارم ہاؤسز اور محلات میں رہتے ہیں۔ عوام انھیں بھی خوب جانتے پہچانتے ہیں جو پاکستان کو لُوٹ کھسوٹ کر دولت غیر ممالک میں لے گئے لیکن مصیبت کے اِن ایام میں بھی ضرورتمند عوام کی مدد کرنے کے لیے اپنی بند مُٹھی کھولنے پر تیار نہیں ہیں ۔ کیا یومِ حساب ابھی نہیں آیا ؟؟

بشکریہ ایکسپریس

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ

سعودی عرب، اردن اور مصر کی سرحدوں کے سنگم اور بحرِ احمر کے کنارے ایک …