جمعرات , 3 دسمبر 2020

فلسطین میں یوم ارض کی 44 ویں سالگرہ

تحریر: رامین حسین

آج بروز 30 مارچ 2020 فلسطین بھر میں یوم ارض کی 44 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 44 سال قبل مقبوضہ فلسطین سے جلاوطن ہونے والے مقامی فلسطینیوں نے غاصب صہیونی رژیم کے خلاف وطن واپسی کیلئے تحریک کا آغاز کیا تھا۔ 30یاد رہے مارچ 1976ء کے دن صہیونی غاصبوں نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع الجلیل خطے کی ہزاروں ایکڑ زمین پر زبردستی قبضہ جمانے کے بعد وہاں مقیم فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا تھا۔ اس مجرمانہ اقدام کے بعد فلسطینی عوام نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ لہذا 30 مارچ کو پورے فلسطین میں یوم احتجاج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں فلسطینی عوام کے احتجاجی مظاہروں کے دوران غاصب صہیونی رژیم کی سکیورٹی فورسز سے ان کی جھڑپیں ہوئیں جن میں 6 فلسطینی شہید اور ہزاروں فلسطینی زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ہر سال غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور حتی مہاجرین کیمپس میں مقیم فلسطینی اس دن یوم احتجاج مناتے ہیں۔ یوم ارض کی مناسبت سے بھرپور احتجاجی تحریک 1948ء میں مقبوضہ فلسطین پر قبضے کے بعد اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو درپیش پہلا چیلنج ثابت ہوا۔

اس واقعے کو 44 برس گزر جانے کے باوجود فلسطینی قوم ہر سال یوم ارض کی مناسبت سے اسے زندہ رکھتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دن 1948ء میں مقبوضہ فلسطین پر غاصب صہیونی رژیم کے ناجائز قبضے کے بعد فلسطینی قوم کا تشخص محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔ اس سال بھی اسلامک جہاد نے یوم ارض کی مناسبت سے بیانیہ جاری کیا ہے۔ اسلامی مزاحمت کی اس تنظیم نے اپنے بیانیے میں کہا ہے: "یوم ارض کی مناسبت سے اب تک فلسطین کاز کی خاطر شہادت پانے والے افراد پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہم فلسطینی قوم کی عظیم قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ قربانیاں اپنے ضائع ہونے والے حقوق کی بازیابی اور فلسطینی سرزمین کے حقیقی تشخص کے دفاع میں انجام پائی ہیں۔ ہم اسلامک جہاد کی جانب سے اعلان کرتے ہیں کہ دشمن کی تمام سازشوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ وہ سازشیں جنہوں نے فلسطینی قوم کے حقوق اور اصولوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ ہم اس عظیم قومی دن کی مناسبت سے اعلان کرتے ہیں کہ سینچری ڈیل یا وہی ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ ہماری نظر میں ناقابل قبول ہے۔”

اسلامک جہاد نے اپنے بیانیے میں مزید کہا: "ہم اپنی پوری صلاحیتیں اس منحوس اور ظالمانہ منصوبے کا مقابلہ کرنے کیلئے بروئے کار لائیں گے۔ ہم بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور تمام اسلامی ممالک سے اسرائیل مخالف اقدامات انجام دینے کی اپیل کرتے ہیں۔ مسئلہ فلسطین تمام مسلمانوں اور عرب باشندوں کا اصلی اور مرکزی حیثیت کا حامل ایشو باقی رہے گا اور تاریخ میں فلسطینیوں کی جدوجہد جاودانہ رہے گی جس کا واضح ترین مصداق یوم ارض ہے۔” اسی طرح اسرائیل مخالف انٹرنیشنل جوانان یونین نے بھی اس دن کی مناسبت سے بیانیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: "اسلامی مزاحمت ہی فلسطین کی آزادی کا واحد راہ حل ہے۔ فلسطینی قوم اسرائیل کی غاصب اور جعلی رژیم سے اپنی سرزمین واپس لینے تک اس کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد جاری رکھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سینچری ڈیل نامی منصوبے کی پیشکش اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ فلسطینی قوم نے غاصب صہیونی رژیم کے خلاف صحیح راستے کا انتخاب کیا ہے۔ امریکی صدر نے وائٹ ہاوس میں اسرائیلی وزیراعظم اور چند کٹھ پتلی عرب حکمرانوں کی موجودگی میں اس منصوبے کو پیش کیا ہے۔”

فلسطین میں اعداد و شمار کے مرکزی ادارے نے یوم ارض کی 44 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں غاصب صہیونی رژیم کے ظالمانہ اور جارحانہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2018ء کے آخر تک 448 یہودی بستیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ اس بارے میں اخبار القدس العربی نے بھی لکھا ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی تعداد 6 لاکھ 71 ہزار تک جا پہنچی ہے جن میں سے 47 فیصد یہودی صوبہ قدس میں مقیم ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی تعداد فلسطینی باشندوں کی تعداد کا 23 فیصد ہے جبکہ صوبہ قدس میں یہ شرح 70 فیصد ہے۔ 2019ء میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی آئی ہے اور صہیونی رژیم نے 8457 نئی بستیاں تعمیر کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے: "اسرائیل کی غاصب رژیم نے فلسطینی سرزمین کے آثار قدیمہ پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔ 1948ء میں صہیونی رژیم پورے فلسطین کے صرف 6.2 فیصد حصے پر قابض تھی لیکن اس نے مغربی کنارے کا 18 فیصد رقبہ فوجی اڈوں کی تشکیل اور دیگر فوجی تنصیبات کی غرض سے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔”

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ

سعودی عرب، اردن اور مصر کی سرحدوں کے سنگم اور بحرِ احمر کے کنارے ایک …