ہفتہ , 30 مئی 2020

عراق، اسلامی مزاحمت کیخلاف امریکی سازش بے نقاب

تحریر: رامین حسین آبادیان

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے ایک خفیہ حکم کے ذریعے عراق کی ایک اسلامی مزاحمتی تنظیم "حزب اللہ بریگیڈز” کو مکمل طور پر ختم کر دینے کا منصوبہ بنانے پر زور دیا ہے۔ حزب اللہ بریگیڈز عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کا حصہ ہے، جو اب سرکاری طور پر عراق کی مسلح افواج میں شامل ہوچکی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ ایسا ممکنہ اقدام واشنگٹن اور بغداد میں موجود سکیورٹی معاہدے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ اخبار امریکہ کے بعض حکومتی اور فوجی حکام کے بقول لکھتا ہے کہ 19 مارچ کے دن وائٹ ہاوس میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے منصوبے کو اجرا کرنے کی اجازت نہیں دی، لیکن پینٹاگون کو اس بارے میں فوجی منصوبہ بندی کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں ٹرمپ کی کابینہ میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ مائیک پمپئو اور وائٹ ہاوس کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرایان اس منصوبے کو اجرا کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور امریکہ کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف کمیٹی مارک میلی اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ ان دونوں کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں موجود تناو کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا باعث بنے گا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ خطے میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر مبنی وعدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی کے ایک اعلیٰ سطحی کمانڈر کمال الحسناوی نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "ہم اس سے پہلے بھی میڈیا کی جانب سے خفیہ حقائق فاش کرنے پر مبنی خبریں سنتے آئے ہیں، لیکن امریکی اخبار کی حالیہ رپورٹ عراق کی خود مختاری اور عراقی قوم کے خلاف انتہائی بے شرمانہ اقدام ہے۔ امریکہ نے صرف ایک اسلامی مزاحمتی گروہ کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اس نے پوری عراقی قوم کو نشانہ بنایا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ امریکی منصوبہ عراق کی خود مختاری اور حق خود ارادیت کی واضح خلاف ورزی ہے کہا: "عراقی صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر، مستعفی وزیراعظم اور نامزد وزیراعظم کو چاہیئے کہ کم از کم میڈیا کے ذریعے امریکی حکام کے ان عزائم کی پرزور مذمت کریں اور حقائق مزید واضح کرنے کیلئے امریکی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کریں۔”

عراق میں امریکی حکام کی سرگرمیاں محض مشکوک دہشت گردانہ فوجی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ وہ اس ملک کے سیاسی میدان میں بھی انتہائی مشکوک سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن عراق میں استعماری سازشوں کا اجراء کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے کرونا وائرس کے پھیلاو کے بہانے بغداد اور اربیل کے سفارت خانوں میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کا اچانک فیصلہ سامنے آتا ہے۔ مائیک پمپئو کے اس اچانک فیصلے نے عراق کے سیاسی حلقوں میں انتہائی تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام اس وقت زیادہ مشکوک ہو جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ چین، اٹلی اور اسپین میں کرونا وائرس کے شدید پھیلاو کے باوجود ان ممالک میں امریکہ نے ایسا کوئی ملتا جلتا اقدام انجام نہیں دیا ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ عراق میں امریکہ کے حالیہ اقدامات زیادہ تر سیاسی اور سکیورٹی محرکات کے تابع ہیں۔ دوسری طرف ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اپنی تمام فورسز بغداد کے قریب واقع عین الاسد فوجی اڈے اور کردستان میں واقع حریر فوجی اڈے میں جمع کر دی ہیں۔

اگرچہ اس کا مطلب صوبہ نینوا میں واقع القیارہ فوجی اڈے سمیت عراق کے دیگر مقامات پر موجود فوجی اڈوں کو خالی کر دینا نہیں ہے۔ حال ہی میں صوبہ نینوا کے حکام نے القیارہ فوجی اڈہ خالی کئے جانے پر مبنی افواہوں کی شدت سے تردید کی ہے۔ البتہ امریکہ نے اپنی اکثر فورسز عین الاسد اور حریر فوجی اڈوں میں جمع کر لی ہیں۔ جو چیز انتہائی واضح ہے، وہ یہ کہ امریکی حکام عراق میں مشکوک قسم کی سرگرمیاں انجام دے کر حشد الشعبی پر کاری ضرب لگانے کے درپے ہیں۔ البتہ حشد الشعبی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی امریکی شیطنت کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی دہشت گرد افواج عراق میں نئی فتنہ انگیزی کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔ ایسا فتنہ جس کا نشانہ اسلامی مزاحمتی گروہ ہوں گے۔ اسلامی مزاحمتی گروہوں خاص طور پر حزب اللہ بریگیڈز نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کے ہر احمقانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ لہذا ایسے موقع پر جب حشد الشعبی پوری طرح تیار اور طاقتور پوزیشن میں ہے امریکی دہشت گرد حکام ہرگز اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

بھارت کی نئی پریشانیاں

تحریر: مظہر برلاس پہلے تو فواد چوہدری کو مبارک کہ انہوں نے ملک میں برسوں …