منگل , 11 مئی 2021

پاکستان میں وہابی تبلیغی جماعتوں پر کورونا پھیلانے کا الزام

پاکستان میں وہابی تبلیغی جماعتوں نےکورونا وائرس کے پھیلاؤ کے گذشتہ دو مہینوں میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کئے ہیں جن میں بیرونی ممالک کے سیکڑوں افراد کو بھی دعوت دی گئی، تبلیغی جماعت کے سیکڑوں افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے ۔مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وہابی تبلیغی جماعتوں نےکورونا وائرس کے پھیلاؤ کے گذشتہ دو مہینوں میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کئے ہیں جن میں بیرونی ممالک کے سیکڑوں افراد کو بھی دعوت دی گئی ، ان اجتماعات کے بعد تبلیغی جماعت کے سیکڑوں افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔جس کے بعد وہابی تبلیغی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق تبلیغی جماعتوں نے رائیونڈ سمیت  پاکستان کے مختلف شہروں میں اجتماعات منعقد کئے ہیں۔ وہابی تبلیغی جماعت کے شیر پورے پاکستان میں پھیل چکے ہیں جن کی شناخت بھی ممکن نہیں ۔ تبلیغی جماعت کے ایک گروہ کو لیہ میں قرنطینہ ميں رکھا گيا ہے۔ ادھر رائیونڈ میں بھی تبلیغی جماعت کے افراد کو قرنطینہ ميں رکھا گیا ہے لیکن ان کے علاوہ ہزاروں افراد پورے پاکستان میں پھیل چکے ہیں۔ جس کے بعد یہ خدشہ ظآہر کیا جارہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ پاکستان بھر میں کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں انھیں گرفتار کرکے قرنیطنہ میں رکھا جائے۔ پاکستانی پولیس کے مطابق سکھر کے تبلیغی مرکز میں 442 افراد کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے، تبلیغی مرکز میں 374 ملکی اور 68 غیر ملکی افراد موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق تبلیغی مرکز کو عام لوگوں کے لیے مکمل بند کردیا گیا ہے، ٹیسٹ رپورٹ آنے تک تمام افراد آئسولیشن میں رہیں گے جبکہ حکومتی احکامات پر مرکز کے کچھ حصے کو آئسولیشن یونٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ امیر تبلیغی مرکز کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں کئی قافلوں کو روانہ کیا گیا ہے۔ ادھر پی پی پی کے رہنما شرجیل میمن نے حکومت اور علماء پر زوردیا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کو روکیں اور انھیں پاکستان میں مزید کورونا وائرس پھیلانے کی اجازت نہ دیں ۔ بعض ذرائع ابلاغ نے اس بات پر خدشہ ظآہر کیا ہے کہ پاکستان میں سرگرم وہابی دہشت گرد تنظیمیں کورونا میں مبتلا اپنے بیماروں کو کورونا پھیلانے کے ناجائز عمل ميں استعمال کرسکتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …